ناگپور ٹیسٹ: 28 سال کی عزت داؤ پر، بھارت کسی معجزے کا منتظر

تحریر: سلمان غنی، پٹنہ، بھارت

جوں جوں بھارت اور انگلستان کے درمیان ناگپور میں کھیلا جانے والا چوتھا، آخری اور سیریز کا فیصلہ کن ترین ٹیسٹ مقابلہ اپنے اختتامی ایام میں داخل ہو رہا ہے بھارتی شائقین کی دھڑکنوں کی رفتار بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ کولکتہ ماضی قریب میں ٹیسٹ درجہ بندی میں اول مقام رکھنے والی اور ایک روزہ کی عالمی چیمپئن ٹیم کی عزت کا دارو مدار اس ٹیسٹ میچ کی فتح پر منحصر ہے۔ میچ کے پہلے اور دوسرے دن انگلش بلے بازوں نے جس جرات مندانہ کھیل کا مظاہرہ کیا، ا س سے یہ صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ ان کے حوصلے بلند ہیں۔ ورنہ دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ میچز کے ”مرد میداں“ کپتان ایلسٹر کک کا محض 1 رن پر آؤٹ ہو جانا پوری ٹیم کے لئے حوصلہ شکن ثابت ہو سکتا تھا۔ لیکن جوناتھن ٹراٹ اور کیون پیٹرسن کے درمیان 235 گیندوں پر 86 رنز کی شراکت اور پھر میٹ پرائیر اور پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے جو روٹ کی 285 گیندوں پر 103 رنز کی رفاقت انگلینڈ کو بحران سے نکال لے گئی۔ انگلستانی بلے بازوں نے جس طرح کا کھیل پہلے اور دوسرے دن پیش کیا، وہ اس بات کی عکاسی کر رہا تھا کہ انگلستانی ٹیم ایک منظم اجتماعی قوت کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔ یہی وجہ تھی کہ دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ میچز کی فتوحات کے آثار ان کے چہروں پر صاف نمایاں تھے۔ انگلستان کی جانب سے بنائے گئے 330 رنز میں ٹیم کے کم و بیش ہر رکن نے اپنا بھر پور تعاون پیش کیا تھا۔

محض ایک سیشن انگلستان کو مقابلے میں واپس لے آیا، اور بھارت کے لیے مشکل ترین حالات پیدا کر دیے (تصویر: BCCI)

محض ایک سیشن انگلستان کو مقابلے میں واپس لے آیا، اور بھارت کے لیے مشکل ترین حالات پیدا کر دیے (تصویر: BCCI)

اس کے برعکس بھارت کی ابتدا ہی انتہائی ناقص رہی جب قابل اعتماد بلے باز وریندر سہواگ اس وقت جمی اینڈرسن کی گیند پر صفر پر پویلین لوٹ گئے جب اسکور کارڈ پر ٹیم کا اسکور محض ایک رن تھا۔ پہلے اور دوسرے ٹیسٹ میچ کے ہیرو چیتشور پجارا نے کسی حد تک گوتم گمبھیر کا ساتھ دینے کی کوشش تو کی لیکن وہ بدقسمتی سے امپائر کے ایک ناقص فیصلے کی زد میں آ گئے۔ کیونکہ ری پلے سے یہ معلوم ہوا کہ گیند ان کے دستانوں سے نہیں بلکہ ان کی کہنی کے نچلے حصہ کو چھوتی ہوئی قریبی کھڑے این بیل کے ہاتھوں میں گئی تھی۔

بہرحال اب تمام ذمہ داری ایک ایسے بلے باز کے سر آن پڑی تھی جو خود اپنی کارکردگی سے نالاں و پریشاں تھا۔ جی ہاں سچن تنڈولکر! حسب روایت یہاں بھی ان کے بلے سے ایک ذمہ دار باری دیکھنے کا خواب نہ صرف کہ چکنا چور ہوا، بلکہ جس انداز سے وہ اینڈرسن کی گیند پر کلین بولڈ ہوئے، اس نے ماضی قریب کی طرح ایک دفعہ پھر ان کی قابلیت و صلاحیت پر سوالیہ نشان لگا ڈالا۔

اس مایوس کن صورتحال میں کھیل کا تیسرا دن شروع ہوا اور کپتان مہندر سنگھ دھونی اورجانباز بلے باز ویراٹ کوہلی نے بھارت کی ڈوبتی کشتی کو کنارے لگانے کے لئے اپنی پوری قوت جھونک دی۔ تیسرے دن کے چائے کے وقفے تک ہر بھارتی شائق ان دونوں بلے بازوں کو سلام کرتا رہا۔ ان کے بلے سے نکلنے والا ایک، ایک رن اور کریز پر گزرنے والا ایک ایک منٹ شائقین کی امیدوں کو بیدار کرتا رہا۔ لیکن تعریف کرنی ہوگی، انگلستانی کھلاڑیوں کی کہ جب بھارت اس حیرت انگیز شراکت کے سہارے اپنی ٹوٹی ہوئی کشتی کے کل پرزے جوڑنے میں مصروف تھا اور یہ کشتی ویراٹ کوہلی کی شاندار سنچری اور کپتان مہندر سنگھ دھونی کی ذمہ دارانہ اننگز کی بدولت بالکل محفوط مقام پر آنے ہی والی تھی کہ گریم سوان نے وہ کاری ضرب لگائی کہ جس نے 507 گیندوں پر 198 رنز کی اس شاندار رفاقت کا خاتمہ کر دیا۔

جو ٹوٹی اور ڈوبتی ہوئی کشتی از سر نو منظم ہو کر طوفان کامقابلہ کرنے کو تیار ہو چلی تھی، ایک دفعہ پھر ہچکولے کھانے لگی۔ یہ ضرب اتنی شدید تھی کہ اس نے نہ صرف بھارتی بلے بازوں کے حوصلے توڑ ڈالے بلکہ اس نے انگلستانی گیند بازوں کو نئی جان بھی بخش دی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اینڈرسن جو اب تک بے ضرر دکھائی دے رہے تھے، رویندر جادیجا پر پہلے ٹیسٹ کے دباؤ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں ایل بی ڈبلیو کر ڈالا۔ اس ”اتھل پتھل“ کا نتیجہ یہ ہوا کہ کپتان مہندر سنگھ دھونی جو 90 رنز بنا کر تقریباً ایک گھنٹے کریز پر گزار چکے تھے، 99 پر پہنچ کر دہرے دباؤ کا شکار ہو گئے اور افسوسناک انداز میں محض چند ’ملی میٹرز‘ کے فاصلے سے سنچری سے محروم ہو گئے۔ کپتان کا اہم سنگ میل سے محض ایک رن کے فاصلے پر رن آؤٹ ہونا دن کا سب سے تکلیف دہ لمحہ تھا۔ لیکن بھارت کی مصیبتیں ابھی کہاں ختم ہوئی تھیں۔ کھیل کے بالکل اختتامی لمحات میں سوان نے تابوت میں ایک کیل اور ٹھونک ہی دی، اس طرح بھارتی اننگز جو تیسرے دن کی شروعات اور تقریباً کھیل کے بیشتر لمحات مں شائقین کی داد و تحسین وصول کرتی رہی آناً فاناً ایسی منتشر ہوئی کہ سارا نظارہ ہی تبدیل ہو گیا۔ بھارت اب بھی انگلستان کے پہلی اننگز کے اسکور 330 رنز سے 33 قدموں کے فاصلے پر ہے اور اس کی صرف دو وکٹیں باقی رہ گئی ہیں۔

تیسرے دن کا سب سے تکلیف دہ لمحہ مہندر سنگھ دھونی کا 99 رنز پر رن آؤٹ ہونا تھا (تصویر: BCCI)

تیسرے دن کا سب سے تکلیف دہ لمحہ مہندر سنگھ دھونی کا 99 رنز پر رن آؤٹ ہونا تھا (تصویر: BCCI)

اب کھیل کے چوتھے روز اگر بھارت کی باقی دو وکٹوں کا تادیر ٹھیری رہیں اور 100 رنز کی بھی سبقت حاصل کرلی، تو کچھ امیدیں ضرور پیدا ہو سکتی ہیں۔ اور امید کا یہ چراغ صرف اور صرف روی چندر آشون سے وابستہ ہے جن کو کولکتہ کی کارکردگی کو دہرانا ہوگا۔ لیکن اگر آخری دونوں وکٹیں جلد گر گئیں تو نہ صرف انگلش بلے بازوں کو کھیلنے کا زیادہ موقع ملے گا بلکہ بھارت کے پاس بھی سوائے برابر کرنے کے کوئی اور امکان نہ بچے گا۔ یوں سیریز ہاتھ سے نکل جائے گی۔

دو سیشن میں دھونی اور کوہلی بھارت کو بھرپور ”پلٹ وار“ کرنے کی جس پوزیشن میں لائے تھے، صرف ایک سیشن کی بری کارکردگی اس محنت پر پانی پھیرتی نظر آ رہی ہے۔ اگر بھارت کو میچ جیتنا ہے تو انہیں کل لازماً انگلستان پر برتری حاصل کرنا ہوگی اور پھر ان فارم حریف بلے بازوں کو بھی ٹھکانے لگانا ہوگا۔

گو کہ یہ انتہائی مشکل کام دکھائے دیتا ہے، لیکن جہاں 28 سال کی عزت داؤ پر لگی ہو، وہاں ایسے مشکل کاموں کو سر انجام دے کر ہی سرخرو ہوا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments