آسٹریلیا کی فتوحات کا سلسلہ دراز تر، کینیا بھی زیر

آسٹریلیا کی عالمی کپ میں فتوحات کا سلسلہ اور دراز ہو گیا ہے، جس نے گروپ اے کے میچ میں کینیا کو 60 رنز سے شکست دے دی۔ لیکن کینیا نے ایک مایوس کن عالمی کپ کے بعد دفاعی چیمپین کے خلاف جرات مندانہ کھیل کا مظاہرہ کر کے کسی حد تک اپنی عزت نفس بحال کر لی ہے۔ آسٹریلیا کے 324 رنز کے جواب میں کینیا کےبلے بازوں خصوصا کولنز اوبویا کی 98 رنز کی ناقابل شکست اننگ اور تنمے مشرا کے شاندار 72 رنز کی بدولت کینیا نے آسٹریلیا کی مضبوط باؤلنگ لائن اپ کو بہت ٹف ٹائم دیا۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان چوتھی وکٹ پر 115 رنز کی شاندار شراکت کینیا کے لیے بہت حوصلہ افزاء تھی جس میں دونوں بلے بازوں نے آسٹریلوی باؤلرز کا کڑا امتحان لیا اور انہیں ٹورنامنٹ کے بلند اور طویل ترین چھکے رسید کیے۔

کولنز اوبویا، میچ کے بہترین کھلاڑی (اے ایف پی)

آسٹریلیا کے لیے میچ سے قبل حوصلہ افزاء خبر مرد بحران مائیکل ہسی کی ٹیم میں واپسی تھی جو زخمی ہونے کے باعث عالمی کپ 2011ء میں شرکت کے لیے آنے والے آسٹریلوی دستے کا حصہ نہ تھے لیکن بھارت پہنچ کر تیز باؤلر ڈوگ بولنجر کے زخمی ہونے کے بعد اور ہسی کی انجری سے صحت یابی کی خبریں ملنے کے بعد انہیں بھارت طلب کر لیا گیا جہاں انہوں نے آج کینیا کے خلاف میچ میں حصہ لیا۔

آسٹریلیا کے 325 رنز کے ہدف کے تعاقب میں کینیا کسی بھی لمحے فتح کی پوزیشن میں تو نہیں آیا تاہم انہوں نے ٹورنامنٹ کی سب سے مضبوط باؤلنگ لائن اپ کے خلاف جس جرات مندانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہ ان کے حوصلوں کو بلند کرنے کا باعث ہوگی۔

آخر میں میچ میں دلچسپی محض اس حد تک باقی رہ گئی تھی کہ کولنز اوبویا اپنی پہلی - اور عالمی کپ میں کینیا کے کسی کھلاڑی کی پہلی- سنچری مکمل کرتے یا نہیں۔ انہیں میچ کی آخری دو گیندوں تین رنز درکار تھے تاہم وہ ان پر صرف ایک رن ہی بنا پائے اور یوں 98 رنز پر ناقابل شکست رہے۔ البتہ یہ عالمی کپ میں کسی بھی کینین بلے باز کا سب سے بڑا اسکور ہے۔ اس سے قبل یہ اعزاز اسٹیو ٹکولو کے پاس تھا جنہوں نے 1996ء کے عالمی کپ میں 96 رنز کی اننگ کھیلی تھی۔

ابتدائی اوورز ہی میں کینیا کو دو جھٹکے لگانے کے بعد آسٹریلیا میچ پر مکمل طور پر حاوی ہو گیا اور پہلے پاور پلے کے خاتمے سے پہلے ہی وہ کینیا کے تیسرے بلے باز کوبھی پویلین واپس بھیجنے میں کامیاب ہو گئے جب کینیا کا اسکور محض 46 رنز تھا۔ اس موقع پر کولنز اوبویا اور تنمے مشرا نے اننگ کو سنبھالا دیا اور اگلے 25 اوورز تک آسٹریلین بلے بازوں کی ناک میں دم کیے رکھا۔ دونوں بلے بازوں نے چوتھی وکٹ پر 115 رنز کی شاندار شراکت کی جس کا خاتمہ مشرا کے رن آؤٹ کے ساتھ ہوا۔ اس کے بعد تھامس اوڈویو نے بھی اوبویا کے ساتھ مل کر 86 رنزکا اضاف کیا۔ اس میں اوڈویو کا حصہ 35 رنز کا رہا جس میں انہوں نے ایک چھکے سمیت پانچ مرتبہ گیند کو باؤنڈری کا راستہ دکھایا۔

مقررہ 50 اوورز کے اختتام تک کینیا اسکور بورڈ پر 264 رنز ہی بنا سکا اور اس کی 6 وکٹیں گریں۔ یوں وہ اب تک عالمی کپ 2011ء میں کسی بھی فتح سے محروم ہے۔
آسٹریلیا کی جانب سے شان ٹیٹ نے 2 جبکہ بریٹ لی نے ایک وکٹ حاصل کی۔ کینیا کی گرنے والی باقی تینوں وکٹیں رن آؤٹ ہوئی تھیں۔

قبل ازیں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنےکا فیصلہ کیا اور مائیکل کلارک کے 93، بریڈ ہیڈن کے 65 اور ایک مرتبہ پھر ٹیم کا حصہ بننے والے مائیکل ہسی کی 54 رنز کی تیز رفتار اننگ کی بدولت اسکور کارڈ پر 324 رنز کا مجموعہ اکٹھا کیا۔
مائیکل کلارک نے 54 گیندوں پر ایک چھکے اور 7 چوکوں کی مدد سے 93 رنز بنائے جبکہ ہیڈن کی 65 رنز کی اننگ 79 گیندوں پر مشتمل تھی جس میں ایک چھکا اور 9 چوکے شامل تھے۔

143 رنز پر 4 کھلاڑی آ ؤٹ ہو جانے کے بعد آسٹریلیا کو مڈل آرڈر میں کسی اچھی شراکت داری کی ضرورت تھی اور اس ضرورت کو پورا کیا مائیکل ہسی نے، جنہوں نے کلارک کے ساتھ مل کر 114 رنز کی شراکت قائم کر کے آسٹریلیا کو 324 رنز کے بڑے اسکور تک پہنچنے میں مدد دی۔

کینیا کی جانب سے اوڈھیامبو نے 3 جبکہ کپتان جمی کمانڈے نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ کولنز اوبویا نے ایک وکٹ بھی حاصل کی۔ اس آل راؤنڈ کارکردگی پر ان کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

آسٹریلیا کے گروپ میں ابھی دو میچز باقی ہیں اور وہ 4 میچز میں 7 پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں تیسرے نمبر پر ہے تاہم وہ عالمی کپ کی اب تک کی واحد ٹیم ہے جسے کسی میچ میں شکست نہیں ہوئی۔ گو کہ عالمی کپ میں اس کی فتوحات کا سلسلہ دراز تر ہوتا جا رہا ہے اور کینیا کے خلاف فتح اس کی مسلسل 33 ویں فتح تھی۔ اس نے 1999ء کے عالمی کپ کے گروپ میچ میں پاکستان کے خلاف شکست کے بعد سے اب ہار کا مزا نہیں چکھا۔ اس کا اگلا میچ 16 مارچ کو بنگلور میں کینیڈا کے خلاف ہوگا جبکہ آخری گروپ میچ 19 مارچ کو پاکستان کے خلاف کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلے گا۔

دوسری جانب کینیا مایوس کن کارکردگی کے بعد اب تک عالمی کپ میں کسی بھی فتح سے محروم ہے اور 20 مارچ کو زمبابوے کے خلاف ایڈن گارڈنز، کولکتہ میں زمبابوے کے خلاف آخری میچ کھیلے گا۔ کینیا اور نیدرلینڈز ہی موجودہ عالمی کپ کی وہ ٹیمیں ہیں جنہیں اب تک کوئی فتح نصیب نہیں ہوئی۔

میچ کی جھلکیاں

بشکریہ ای ایس پی این اسٹار

Facebook Comments