ثقلین ’جادوگر‘ تھا، ایلک اسٹیورٹ کا شاندار خراج تحسین

انگلستان کے سابق کپتان ایلک اسٹیورٹ نے ’دوسرا کے موجد‘ ثقلین مشتاق کو اپنے عہد کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار کیاہے۔

معروف ویب سائٹ کرک انفو کے سلسلے ”My XI“ میں اپنے تازہ ترین انٹرویو میں ایلک اسٹیورٹ کا کہنا ہے کہ ثقلین مشتاق وہ پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے کھیل میں ’دوسرا‘ گیند کو متعارف کروایا، آف اسپن باؤلنگ ایکشن کے ساتھ پھینکی گئی اک ایسی گیند جو دوسری سمت میں گھوم جاتی تھی۔ یوں انہوں نے آف اسپن باؤلنگ کو ایک ’آرٹ‘ بنا دیا۔ آج دنیا بھر کے آف اسپن باؤلرز ’دوسرا‘ پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ثقلین نے آف اسپن باؤلنگ کو نئی بلندیوں پر پہنچایا، ایلک اسٹیورٹ (تصویر: Photosport)

ثقلین نے آف اسپن باؤلنگ کو نئی بلندیوں پر پہنچایا، ایلک اسٹیورٹ (تصویر: Photosport)

ثقلین اور اسٹیورٹ دونوں اپنے زمانے میں سرے کاؤنٹی کی جانب سے کھیلا کرتے تھے، ان دنوں کی یادوں کے حوالے سے اسٹیورٹ نے کہا کہ ثقلین جب سرے پہنچے تو ان کا بین الاقوامی تجربہ بہت محدود تھا، لیکن اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر وہ جلد ہی کاؤنٹی کرکٹ میں دورِ جدید کے تباہ کن ترین اسپنر بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ کاؤنٹی کے بیشتر بلے باز اُن کی گیندوں کو سرے سے سمجھ ہی نہ پاتے تھے۔ درست ترین مقام پر ٹپہ کھانے کے بعد دونوں جانب گیند گھمانے کے علاوہ ’دوسرا‘ گیند کی مختلف اقسام کے باعث بلے بازوں کو انہیں سمجھنے میں مشکل ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ثقلین نے آف اسپن باؤلنگ کو نئی بلندیوں پر پہنچایا اور آج ہم جدید کرکٹ میں کئی آف اسپنرز کو دیکھتے ہیں، یہ انہی کی مرہون منت تھا۔ لوگ آج ’دوسرا‘ پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں، اس گیند کو پھینکنے کے لیے کلائی کے خم اور پوزیشن کے بارے میں بات کرتے ہیں جبکہ ثقلین صرف دوڑتا ہوا آتا اور دونوں طرف اسپن پھینکتا تھا، درحقیقت يہ انہی کا ’فن‘ تھا۔

اسٹیورٹ نے کہا کہ جب میں نے پہلی بار ان کی باؤلنگ پر وکٹ کیپنگ کی تو مجھے بھی سخت مشکل پیش آئی۔ کیونکہ اگر بلے باز گیند کو سمجھ نہیں پا رہا تو میں بھی تو آنے والی گیند کے بارے میں اتنا ہی انجان تھا۔ لیکن کیونکہ وکٹ بلے باز سے چند گز کے فاصلے پر کھڑا ہوتا ہے اس لیے گیند کو سمجھنے اور ردعمل ظاہر کے لیے اس کے پاس زیادہ وقت ہوتا ہے، پھر بعد ازاں یہ میرا اور ثقلین کا روزمرہ کا ساتھ تھا اور پریکٹس کے نتیجے میں میں ثقلین کی گیندوں کو سمجھنے لگا۔ اس نے مجھے پاکستان کے خلاف بلے بازی میں بہت مدد دی، چاہے وہ ٹیسٹ ہو یا ایک روزہ بین الاقوامی ۔ گو کہ بین الاقوامی سطح پر ہمارا سامنا چند مرتبہ ہی ہوا، لیکن بلاشبہ وہ ایک شاندار اسپنر تھا۔

133 ٹیسٹ اور 170 ایک روزہ مقابلوں کا بھاری تجربہ رکھنے والے اسٹیورٹ نے کہا کہ میں نے ان ایام میں ثقلین کو ’میجک مین‘ یعنی جادوگر کا نام دیا تھا۔ حتیٰ کہ ڈریسنگ روم میں بھی وہ ٹینس کی گیند کے ذریعے کرتب دکھاتے تھے – کیونکہ انہوں نے ٹینس کی گیند سے ہی دوسرا کروانا سیکھا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ثقلین کے خلاف بلے بازی کرنا مشکل اور اس کے ساتھی کی حیثیت سے وکٹ کیپنگ کرنا ایک ہیجان انگیز تجربہ تھا۔ وہ وکٹوں کے پیچھے ہمہ وقت انتظار کہ کب گیند بلے کے کنارے کو چھوئے اور میں کیچ پکڑوں، یا بلے باز گیند کو آن سائیڈ پر کھیلنے کی کوشش میں اپنی کریز گنوا بیٹھے اور میں اس کی اننگز تمام کر دوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ثقلین کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ وہ شاذونادر ہی کوئی بری گیند پھینکتے تھے۔

ثقلین مشتاق نے 49 ٹیسٹ اور 169 ایک روزہ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور مجموعی طور پر 496 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا ایک روزہ اوسط 21.78 تھا اور شاندار باؤلنگ کے باعث ’وزڈن‘ نے آپ کو 2000ء میں سال کا بہترین کھلاڑی قرار دیا تھا۔ وہ حال ہی میں بنگلہ دیش کے اسپن کوچ کی حیثیت سے فارغ ہوئے ہیں۔

Facebook Comments