بھارت میں فتح، پیٹرسن قضیہ اپنی موت آپ مر گیا

کہتے ہیں کہ ”جیت کے ہزاروں وارث ہوتے ہیں جبکہ شکست یتیم ہوتی ہے“، اس کی عملی تعبیر بھارت-انگلستان سیریز کے خاتمے پر پیدا ہو رہی ہے۔ ایک جانب شکست خوردہ بھارتی جمعیت میں ہلچل مچی ہوئی ہے تو دوسری جانب انگریز دستے میں چند قبل پڑنے والی دراڑیں اب کافی حد تک چھپ چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کیون پیٹرسن کا وہ معاملہ، جس کے بارے میں معروف تجزیہ کار جیفری بائیکاٹ کا کہنا تھا کہ انگلستان جیتنا اہم نہیں لیکن اس قضیے کو حل کرنا اہم ہے، اب اس قدر ہلکا ہو چکا ہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کیون پیٹرسن کو سالانہ معاہدے سے نوازنے جا رہا ہے۔

ہندوستان میں تاریخی فتح نے کیون پیٹرسن معاملے کو بھی حل کر ڈالا (تصویر: BCCI)

ہندوستان میں تاریخی فتح نے کیون پیٹرسن معاملے کو بھی حل کر ڈالا (تصویر: BCCI)

جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے دوران آپس کی لڑائیوں کے باعث نہ صرف کیون پیٹرسن کو ٹیم سے نکال دیا گیا تھا بلکہ ان کا مرکزی معاہدہ (سینٹرل کانٹریکٹ) تک منسوخ کر دیا گیا تھا۔ حالات یہاں تک آن پہنچے کہ جب تک اینڈریو اسٹراس ریٹائر نہ ہوئے اور دورۂ بھارت جیسا سخت ترین امتحان نہ سر پر آن پڑا، تب تک پیٹرسن کی واپسی کے بارے میں کسی نے سوچا تک نہیں۔ البتہ نئے کپتان ایلسٹر کک کی سفارش اور وقت کے ساتھ ساتھ پگھلتی ہوئی برف نے کیون پیٹرسن کو چار ماہ کے عارضی معاہدے تک ضرور پہنچا دیا جس کے بعد انہوں نے دورۂ بھارت میں عمدہ کارکردگی بھی دکھائی اور تاریخی سیریز فتح کے بعد اب ”سب اچھا ہے“ کی صورت میں چل رہا ہے۔

اب کوچ اینڈی فلاور، جنہوں نے اگست میں کہا تھا کہ کیون پیٹرسن کا کیریئر ختم ہو چکا، بھی یہ کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ معاہدہ کبھی کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا، کیون ہر طرح سے بہترین ہیں۔ ہم ماضی سے سبق سیکھنا چاہتے تھے، اس لیے ان چیزوں کو بھلانا ضروری ہے۔

بھارت کے خلاف دورے میں کیون پیٹرسن نے ممبئی میں زبردست سنچری داغ کر انگلستان کی فتح اور سیریز برابر کرنے کی راہ ہموار کی تھی اور 28 سال بعد سرزمین ہند پر سیریز فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اب انگلش دستے کے بیشتر اراکین، مع کیون پیٹرسن، کرسمس اور سال نو کی تعطیلات منانے کے لیے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ بھارت کو محدود اوورز کے مرحلے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنے اور انگلستان کو جم کو خوشیاں منانے کا موقع ملا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیون پیٹرسن کے کیریئر کی ازسر نو ابتداء ان کے مقام کو مستقل بنیادوں پر مضبوط کرے گی یا یہ صرف ایک ’ہنی مون پیریڈ‘ ثابت ہوگا۔

Facebook Comments