برف پگھلنے کا فائدہ؟ پاکستان پر آئی پی ایل کے دروازے بدستور بند

پاکستان اور بھارت کے درمیان عرصہ پانچ سال سے معطل کرکٹ تعلقات کسی حد تک بحال ہوتے بھی دکھائی دے رہے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان، محدود اوورز ہی کی سہی لیکن، کرکٹ سیریز شروع ہونے کو ہے لیکن اس کے باوجود ایسے اقدامات کا دور تک پتہ نہیں جس کا فائدہ پاکستان اور پاکستان کے کھلاڑیوں کو ہو، جیسا کہ انڈین پریمیئر لیگ میں شرکت۔

پاکستان کے کھلاڑیوں نے اولین ایڈیشن کے بعد کسی آئی پی ایل میں شرکت نہیں کی (تصویر: AFP)

پاکستان کے کھلاڑیوں نے اولین ایڈیشن کے بعد کسی آئی پی ایل میں شرکت نہیں کی (تصویر: AFP)

2007ء میں آئی پی ایل کے اولین ایڈیشن کے بعد سے پاکستان کے کھلاڑیوں کو دنیا کی سب سے بڑی لیگ میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا اور بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق رواں سال کھلاڑیوں کے نیلامی کے عمل کے لیے آئی پی ایل گورننگ کونس لکی جانب سے جن 37 کھلاڑیوں کی فہرست جاری کی گئی ہے ان میں کوئی پاکستان کھلاڑی شامل نہیں۔

اس سے پہلے تمام فرنچائزز یہ سمجھ رہے تھے کہ پاکستانی کھلاڑی نیلامی کےلیے دستیاب ہوں گے، کیونکہ قومی ٹیم تقریباً پانچ سال کے طویل عرصے کے بعد بھارت کا دورہ کر رہی ہے اور حالات پہلے سے بہتر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

لیکن اخبار کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ بھی پاکستانی کھلاڑیوں پر نظر کرم نہ ہونے کا سبب دراصل بی سی سی آئی ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے انہیں ایسی کوئی ہدایت نہیں کی گئی کہ پاکستانی کھلاڑیوں پر کئی سالوں سے عائد غیر اعلانیہ پابندی برقرار رکھی جائے۔

اگر اخبار کا یہ دعویٰ درست ہے تو یہ دلائل دینے والے اپنے موقف پر بالکل درست ثابت ہوتے ہیں کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں صرف اور صرف اپنا مفاد دیکھ رہا ہے اور موجودہ دوطرفہ سیریز بھی دراصل انہی مفادات کی تکمیل کا حصہ ہے جبکہ کوئی بھی ایسا عمل جس سے پاکستان کو مالی فائدہ حاصل ہو، بھارت اس سے کترائے گا۔

انڈین پریمیئر لیگ کے لیے کھلاڑیوں کی نیلامی 3 فروری کو عمل میں لائی جائے گی اور دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستانی کھلاڑیوں سے واقعی پہلے کی طرح صرف نظر کیا جائے گا یا یہ معاملہ ذرائع ابلاغ میں کھل جانے کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ شرمندگی کے پیش نظر کوئی مثبت قدم اٹھائے گا۔

Facebook Comments