زمبابوے کو کچلتے ہوئے پاکستان کوارٹر فائنل میں

پاکستان نے بارش سے متاثرہ میچ میں زمبابوے کو باآسانی 7 وکٹوں سے شکست دے کر کوارٹر فائنل مرحلے میں اپنی جگہ مستحکم کرلی ہے۔ باؤلرز کے لیے مددگار کنڈیشنز کے باوجود زمبابوے کے کپتان ایلٹن چگمبورا کے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کے حیران کن فیصلے کا پاکستانی باؤلرز نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور زمبابوے کو 151 رنز پر محدود کر دیا۔

بارش کے باعث دیر سے آغاز کے بعد میچ کو پہلے 43 اوورز فی اننگ تک محدود کر دیا گیا تھا لیکن زمبابوے کی اننگ کے 40 ویں اوور میں میچ کو اس وقت ایک مرتبہ پھر بارش نے آ لیا جب زمبابوے کا اسکور 7 وکٹوں پر 151 رنز تھا۔

اسد شفیق کا ایک خوبصورت انداز (اے پی)

بعد ازاں امپائرز نے پاکستان کو 38 اوورز میں 162 رنز کا ہدف دیا ۔ عمر اکمل کی جگہ ٹیم میں شامل کیے گئے نوجوان بلے باز اسد شفیق نے ذمہ دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 78 رنز بنائے اور محمد حفیظ 49 رنز کے ساتھ دوسرے قابل ذکر بلے باز رہے۔ یہ اسد شفیق کے کیریئر کا پہلا عالمی کپ میچ تھا جس میں انہوں نے یادگار اننگ کھیلی اور پاکستان کو اگلے مرحلے میں پہنچا دیا۔ یہ اسد کے کیریئر کی پہلی بین الاقوامی نصف سنچری تھی۔ البتہ احمد شہزاد کی عالمی کپ میں ناقص فارم کا سلسلہ جاری ہے جو محض 8 رنز بنا کر رے پرائس کی پہلی وکٹ بنے۔ شاہد آفریدی جو ہدف تک جلد از جلد پہنچنے کے لیے چوتھے نمبر پر کھیلنے کے لیے آئے لیکن 3 رنز بنا کر ہی پویلین سدھار گئے۔ ان کے بعد یونس خان نے اسد شفیق کے ساتھ پاکستان کو منزل تک پہنچایا۔ زمبابوے کی جانب سے رے پرائس نے دو جبکہ پراسپر اتسیا نے ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف ناقص کارکردگی پر شعیب اختر اور انجری کے شکار عمر اکمل کو میچ میں نہیں کھلایا تھا۔ ان دونوں کی جگہ تیز گیندباز وہاب ریاض اور نوجوان بلے باز اسد شفیق کو جگہ دی گئی۔

کانڈی کے مرلی دھرن انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان انتہائی مثبت انداز میں کھیل کا آغاز کیا اور باؤلنگ اور بیٹنگ کے علاوہ فیلڈنگ میں بھی نسبتا اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ عبد الرزاق نے پہلے ہی اوور میں برینڈن ٹیلر (4 رنز) کی اہم وکٹ حاصل کی ۔ وکٹ کیپر کامران اکمل جو اسی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے گزشتہ میچ میں نیوزی لینڈ کے ٹیلر (روز ٹیلر) کا اسی اسکور پر بالکل ایسا ہی کیچ لینے میں ناکام رہے تھے ، جس کا خمیازہ پاکستان کو 110 رنز کی بدترین شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا تھا۔ تاہم زمبابوے کے خلاف کامران اکمل بھی وکٹوں کے پیچھے متحرک رہے اور پاکستان کے دیگر فیلڈرز بھی بہت مستعد رہے جس کی مثال عمر گل کی گیند پر مصباح الحق کا ووسی سیبانڈا کا کیچ تھا جو انہوں نے پہلی سلپ میں لیا۔ البتہ انہوں نے زمبابوے کی اننگ کے ٹاپ اسکورر کریگ اروائن کا ایک کیچ چھوڑ کر انہیں نئی زندگی ضرور دی۔ 13 پر تین وکٹیں گرنے کے بعد ایسا لگتا تھا کہ زمبابوے کی بیٹنگ لائن اپ ڈھے جا ئے گی لیکن کریگ اروائن (52 رنز) اور کپتان ایلٹن چگمبورا (32 ناٹ آؤٹ) نے اننگ کوسہارا دیا اور اسکور کو اک ایسے ہدف تک لے گئے جس کااچھی باؤلنگ لائن اپ کے ساتھ دفاع کیا جا سکتا تھا۔ لیکن زمبابوے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کر کے ایسی غلطی کر چکا تھا جس کا خمیازہ انہیں شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

پاکستان کی جانب سے عمر گل نے تین اور عبد الرزاق، وہاب ریاض، شاہد آفریدی اور محمد حفیظ نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

عمر گل کو شاندار باؤلنگ کرانے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

یہ 1999ء کے عالمی کپ کے بعد پہلا موقع ہے کہ پاکستان کسی عالمی کپ کے دوسرے مرحلے تک پہنچا ہے۔ 2003ء میں جنوبی افریقہ اور 2007ء میں ویسٹ انڈیز میں کھیلے گئے دونوں عالمی کپ ٹورنامنٹس میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی جس میں وہ پہلے ہی مرحلے میں ٹورنامنٹ سے باہر ہوا۔ یاد رہے کہ 1999ء کے عالمی کپ میں قومی ٹیم فائنل تک پہنچی تھی جہاں اسے آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔

اب بات کرتے ہیں کہ عالمی کپ 2011ء میں گروپ پوزیشن کی تو پانچ میچز میں چار فتوحات سے حاصل ہونے والے 8 پوائنٹس کے ساتھ پاکستان اب گروپ اے میں دوسری پوزیشن پر آ گیا ہے۔ نیوزی لینڈ بدستور گروپ اے میں سرفہرست ہے جس کے پوائنٹس کی تعداد تو پاکستان کے برابر ہے لیکن رن ریٹ پاکستان سے کہیں بہتر ہے۔ اب پاکستان کا آخری میچ 19 مارچ کو آسٹریلیا کے خلاف ہوگا۔

دوسری جانب زمبابوے کے اب عالمی کپ کے اگلے مرحلے میں پہنچنے کے امکانات ختم ہو گئے ہیں جس نے 5 میچز میں صرف ایک فتح حاصل کی۔ البتہ اس کا ایک میچ ابھی باقی ہے جو 20 مارچ کو کولکتہ کے تاریخی میدان ایڈن گارڈنز میں کینیا کے خلاف ہوگا۔

میچ کی جھلکیاں“
بشکریہ ای ایس پی این اسٹار

Facebook Comments