’قسمت کے دھنی‘ گپٹل کی سنچری نیوزی لینڈ کو جتوا گئی

محض ایک دن کے وقفے سے شائقین کرکٹ نے ایک اور ایسا ٹی ٹوئنٹی مقابلہ دیکھا، جس کا فیصلہ آخری گیند پر باؤنڈری کے ذریعے ہوا۔ ابھی انگلستان و بھارت کے درمیان سنسنی خیز معرکے کا لطف ہی ذہنوں میں باقی تھا کہ ایسٹ لندن میں نیوزی لینڈ-جنوبی افریقہ مقابلہ تقریباً انہی خطوط پر چلتا ہوا نیوزی لینڈ کی فتح پر منتج ہوا۔ جہاں مہمان نیوزی لینڈ نے مارٹن گپٹل کی تاریخی اننگز کی بدولت جنوبی افریقہ کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں 8 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابر کر ڈالی۔

مارٹن گپٹل ٹی ٹوئنٹی تاریخ میں ہدف کے تعاقب میں سنچری بنانے والے دوسرے بلے باز بنے (تصویر: Gallo Images)

مارٹن گپٹل ٹی ٹوئنٹی تاریخ میں ہدف کے تعاقب میں سنچری بنانے والے دوسرے بلے باز بنے (تصویر: Gallo Images)

اک ایسا مقابلہ، جس کا توازن کبھی ایک حریف کے پلڑے میں جھکا تو کبھی دوسرے کے حق میں، اور فیصلہ مقابلے کی آخری گیند تک جا پہنچا، جس پر نیوزی لینڈ کو فتح کے لیے 4 رنز کی ضرورت تھی اور گپٹل نے روری کلین ویلٹ کی فل ٹاس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف نیوزی لینڈ کا بیڑا پار لگایا بلکہ اپنی سنچری بھی مکمل کر لی۔ وہ 101 رنز بنا کرناقابل شکست میدان سے لوٹے۔

جنوبی افریقہ کے خوبصورت لیکن انتہائی کم استعمال ہونے والے میدانوں میں سے ایک بفیلو پارک، ایسٹ لندن میں ہزاروں تماشائیوں نے بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کی سنسنی کا تجربہ اٹھایا۔ گو کہ نتیجہ غالب اکثریت کے لیے مایوس کن تھا، لیکن یہ ’گھمسان کا رن‘ انہیں تاعمر یاد رہے گا۔

پہلے مقابلے میں بدترین شکست کھانے کے بعد نیوزی لینڈ کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی اہمیت و اہلیت کو ظاہر کرے اور اسی مقصد کے لیے اس نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا۔ جنوبی افریقہ نے کپتان فف دو پلیسی کی 63 رنز کی عمدہ اننگز اور ہنری ڈیوڈز کے شاندار 55 رنز کی بدولت اسکور بورڈ پر 165 رنز کا بھاری مجموعہ اکٹھا کیا۔ اننگز کے دوران بجلی کی فراہمی میں تعطل کے باعث میدان اندھیرے میں ڈوب گیا اور 52 منٹ کی تاخیر کے بعد جب دوبارہ مقابلہ شروع ہوا تو اسے 19 اوورز فی اننگز تک محدود کر دیا گیا۔

بہرحال، دو پلیسی نے 43 گیندوں پر ایک چھکے اور 8 چوکوں کی مدد سے 63 جبکہ دوسرا ٹی ٹوئنٹی مقابلہ کھیلنے والے ہنری ڈیوڈز نے محض 38 گیندوں پر ایک چھکے اور 7 چوکوں کی مدد سے 55 رنز بنائے۔ ڈیوڈز کی اننگز کا خاتمہ جمی نیشام کے ایک ناقابل یقین کیچ کی بدولت ہوا۔ بلاشبہ ایسے کیچ کرکٹ کی تاریخ میں شاذونادر ہی موجود ہوں گے۔ ڈیوڈز نے کور کے اوپر سے گیند کو باؤنڈری کی جانب اچھالا، نیشام مڈ آف سے الٹا دوڑے اور باؤنڈری کے قریب پوری قوت سے جست لگا کر نہ صرف کیچ تھام لیا بلکہ رسی سے قبل خود کو روکنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ ابتداء میں چند کیچ تھامنے میں ناکامی کے بعد نیشام کا یہ کیچ نیوزی لینڈ کے حوصلوں کو بڑھانے کا سبب بنا۔

ان دونوں بلے بازوں کے علاوہ ڈیوڈ ملر 33 رنز کےساتھ نمایاں بلے باز رہے جنہوں نے 18 گیندیں استعمال کیں اور 2 مرتبہ گیند کو چھکے اور اتنی ہی بار چوکے کی راہ دکھائی۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے ڈگ بریسویل 3 وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ ایک، ایک وکٹ مچل میک کلینن اور رونی ہیرا نے حاصل کی۔

جواب میں نیوزی لینڈ کا آغاز ہی بہت عمدہ تھا۔ راب نکول اور مارٹن گپٹل نے تقریباً دس اوورز تک ٹیم کو کسی وکٹ کا نقصان نہ سہنے دیا اور اسکور میں 76 رنز کا اضافہ بھی کیا۔ گو کہ رنز درکار رفتار سے قدرے سست روی سے بن رہے تھے، لیکن ابتدائی وکٹ کی مستحکم شراکت آنے والے بلے بازوں کے حوصلے باندھنے کے لیے کافی تھی۔

76 رنز ابتدائی رفاقت اور پھر برینڈن میک کولم کے ساتھ 73 رنز کی شراکت داری میں غالب حصہ مارٹن گپٹل کا ہی۔ اوپننگ پارٹنرشپ میں راب نکول صرف 25 رنز اور دوسری وکٹ پر برینڈن میک کولم کا حصہ صرف 17 رنز کا تھا۔ یعنی رنز ایک ہی اینڈ سے بن رہے تھے جس پر مارٹن کھڑے تھے۔

انہوں نے تقریباس تمام ہی باؤلرز کو اپنے نشانے پر رکھا، خصوصاً اپنے کیریئر کا پہلا ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے آرون فانگیسو مارٹن گپٹل کی بے رحمانہ بلےبازی کا خوب نشانہ بنے۔ ان کے چار اوورز میں 42 رنز لوٹے گئے۔

گپٹل نے صرف اپنے بلے کی قوت اور حاضر دماغی ہی نہیں دکھائی، بلکہ قسمت بھی اُن کے ساتھ تھی۔ دو مرتبہ جنوبی افریقی فیلڈرز نے کیچ کے مشکل مواقع ضایع کیے، یہاں تک کہ جب ایک مرتبہ کیچ تھام لیا گیا تو گیند کو نو بال قرار دے دیا گیا جبکہ ایل بی ڈبلیو کے چند بہت قریبی معاملے بھی اُن کے حق میں گئے۔

تمام تر نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد بالآخر معاملہ آخری گیند پر جا ٹھیرا، جہاں نیوزی لینڈ کو 4 رنز کی ضرورت تھی۔ کلین ویلٹ کی جانب سے آف اسٹمپ سے باہر پھینکا گیا فل ٹاس نہ صرف نیوزی لینڈ کا بیڑا کرا گیا بلکہ مارٹن گپٹل کی پہلی ٹی ٹوئنٹی سنچری بھی مکمل کرا گیا۔ یوں وہ ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میں جنوبی افریقہ کے رچرڈ لیوی کے بعد پہلے بلے باز بنے جنہوں نے ہدف کے تعاقب میں سنچری بنائی۔

گپٹل کی اننگز کا ایک شاندار پہلو یہ بھی تھا کہ وہ پورے 20 اوورز تک کریز پر کھڑے رہے، حالانکہ وہ پیٹ کے درد کی وجہ سے گزشتہ مقابلہ نہیں کھیل پائے تھے، لیکن اس مقابلے میں انہوں نے برق رفتار رننگ اور طاقتور ور ہٹنگ کے ذریعے اپنی بھرپور فٹنس ظاہر کی اور جب آخری گیند پر تمام تھکاوٹ کے ساتھ انہوں نے حتمی وار کرنا تھا، تو وہ بھی کر گزرے۔

میچ کا بہترین کھلاڑی بھلا اور کون ہو سکتا ہے؟ مارٹن گپٹل!

اب دونوں ٹیمیں 26 دسمبر کو حتمی و فیصلہ کن ٹی ٹوئنٹی میں آمنے سامنے آئیں گی جو پورٹ ایلزبتھ میں کھیلا جائے گا اور پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق شام ساڑھے پانچ بجے نشر ہوگا۔

Facebook Comments