[آج کا دن] ’دوسرا کے موجد‘ ثقلین کی سالگرہ

آج دنیا میں جہاں بھی آف اسپنرز موجود ہیں، ان کی اولین کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح ’دوسرا‘ میں مہارت حاصل کریں۔ آف اسپن باؤلنگ ایکشن کے ساتھ پھینکی گئی اک ایسی گیند جو دوسری سمت میں گھوم جاتی تھی، جسے کرکٹ میں نہ صرف سب سے پہلے ثقلین مشتاق ہی نے متعارف کروایا بلکہ اس کا نام بھی ثقلین اور اس وقت کے پاکستانی وکٹ کیپر معین خان نے رکھا تھا یعنی ”دوسرا“! آف اسپن باؤلنگ کو ایک ’آرٹ‘ بنانے والے اسی ’ثقی‘ کی آج 36 ویں سالگرہ ہے۔ 29 دسمبر 1976ء کو پیدا ہونے والے ثقلین کو محض 29 سال کی عمر میں بین الاقوامی کرکٹ چھوڑنا پڑی۔

ثقلین نے عالمی کپ میں ہیٹ ٹرک کا اعزاز بھی حاصل کیا (تصویر: AFP)

ثقلین نے عالمی کپ میں ہیٹ ٹرک کا اعزاز بھی حاصل کیا (تصویر: AFP)

درست ترین مقام پر ٹپہ کھانے کے بعد دونوں جانب گھومنے والا ’دوسرا‘ دنیا کے عظیم ترین بلے بازوں کو بھی تگنی کا ناچ نچا دیتا تھا اور اسی گیند کی بدولت ثقلین مشتاق نے قومی کرکٹ ٹیم میں نہ صرف مستقل مقام حاصل کیا بلکہ کئی ریکاڈز اپنے نام کیے۔ جن میں سب سے کم ایک روزہ مقابلوں میں 100 وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔

محض 49 ٹیسٹ میں 208 اور 169 ایک روزہ مقابلوں میں 288 وکٹوں کے ساتھ ثقلین مشتاق نے بین الاقوامی کیریئر میں مجموعی طور پر 496 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا ایک روزہ اوسط 21.78 تھا اور شاندار باؤلنگ کے باعث ’وزڈن‘ نے آپ کو 2000ء میں سال کا بہترین کھلاڑی قرار دیا تھا۔

ثقلین عظیم ہم وطن باؤلر وسیم اکرم کے بعد ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں دو مرتبہ ہیٹ ٹرک کرنے والے دوسرے بھی باؤلر بنے۔ جس میں ایک ہیٹ ٹرک انہوں نے عالمی کپ 1999ء میں زمبابوے کے خلاف کی اور پاکستان کو مذکورہ ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل تک پہنچایا۔ گو کہ ان دونوں عظیم باؤلرز کا ریکارڈ زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکا اور گزشتہ سال لاستھ مالنگا نے تیسری ہیٹ ٹرک کر کے یہ ریکارڈ توڑ ڈالا۔

ثقلین مشتاق کے کیریئر کی ایک یادگار وکٹ 31 جنوری 1999ء کو چنئی کے تاریخی ٹیسٹ میں لی گئی سچن تنڈولکر کی وکٹ تھی جس کی بدولت پاکستان نے بھارت کو 12 رنز کے معمولی سے فرق سے شکست دے کر اک یادگار فتح سمیٹی۔ اس میچ میں ثقلین نے دونوں اننگز میں سچن کو آؤٹ کیا، پہلی اننگز میں صفر پر جبکہ دوسری اننگز میں اُس وقت جب بھارت فتح سے 17 رنز کے فاصلے پر تھا۔ یہ وہی تاریخی مقابلہ تھا جس میں چنئی کے شائقین کرکٹ نے کھڑے ہو کر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے تالیاں بجائی تھیں۔

اس کے علاوہ ثقلین کی کبھی کبھار عمدہ بیٹنگ بھی پاکستان کے لیے بہت کارآمد ہوتی۔ آپ نے اکتوبر 1996ء میں وسیم اکرم کے ساتھ آٹھویں وکٹ پر 313 رنز کی شراکت داری کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ یہ ریکارڈ 14 سال قائم رہنے کے بعد اگست 2010ء میں بدنام زمانہ پاک-انگلستان لارڈز ٹیسٹ میں جوناتھن ٹراٹ اور اسٹورٹ براڈ نے توڑا۔ اس تاریخی شراکت داری میں ثقلین مشتاق کا حصہ 79 رنز کا رہا۔ البتہ ثقلین کے ریکارڈ پر ایک سنچری ضرور موجود ہے جب انہوں نے مارچ 2001ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف کرائسٹ چرچ میں ناقابل شکست 101 رنز بنائے۔

2004ء میں بھارت کے خلاف ملتان ٹیسٹ آپ کے کیریئر کا نقطہ اختتام ثابت ہوا جس میں وریندر سہواگ کی طوفانی بلے بازی کے سامنے ناکامی اور دوسری جانب دانش کنیریا اور شعیب ملک کے ظہور نے ثقلین کے بین الاقوامی کیریئر کا خاتمہ کر دیا۔ ملتان ٹیسٹ ان کے بین الاقوامی کیریئر کا آخری مقابلہ تھا جس میں بھارت کی واحد اننگز میں ثقلین نے 43 اوورز پھینکے اور 204 رنز دے کر صرف ایک وکٹ حاصل کی۔ اس وقت ثقلین کی عمر محض 29 سال تھی۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں اتنے باصلاحیت باؤلر کے ساتھ کس قدر ناانصافی برتی گئی کہ اسے دوبارہ کبھی موقع نہیں دیا گیا۔

ثقلین انجری کا شکار رہنے کے بعد پھر انگلستان منتقل ہو گئے اور وہاں سرے اور سسیکس کاؤنٹیز کی نمائندگی کی۔ ثقلین آجکل کوچنگ سے وابستہ ہیں اور حال ہی میں بنگلہ دیش کے اسپن کوچ کے عہدے سے فارغ ہوئے ہیں۔

ثقلین مشتاق کا بین الاقوامی کیریئر

مقابلے وکٹیں اننگز میں بہترین باؤلنگ میچ میں بہترین باؤلنگ اوسط اکنامی ریٹ پانچ یا زائد وکٹیں دس یا زائد وکٹیں
ٹیسٹ 49 208 8/164 155/10 29.83 2.64 13 مرتبہ 3 مرتبہ
ایک روزہ 169 288 5/20 5/20 21.78 4.29 6 مرتبہ -

Facebook Comments