بنگلہ دیش ایک مرتبہ پھر دورۂ پاکستان سے مکر گیا

بالآخر وہی ہوا جس کا خدشہ بھی تھا اور امکان بھی، کہ بنگلہ دیش سالِ نو پر دورۂ پاکستان سے ایک مرتبہ پھر مکر گیا ہے۔ یوں پاکستان کرکٹ بورڈ کو ’ایک ہی سوراخ سے دوسری مرتبہ ڈس لیا گیا‘ ہے، جو اس وقت مجوزہ مختصر سیریز کے لیے بھرپور تیاریاں کر رہا تھا۔

بنگلہ دیش کی اس حرکت سے پاکستان کرکٹ بورڈ ایک مرتبہ پھر سبکی کا شکار ہوا ہے (تصویر: AP)

بنگلہ دیش کی اس حرکت سے پاکستان کرکٹ بورڈ ایک مرتبہ پھر سبکی کا شکار ہوا ہے (تصویر: AP)

رواں ماہ یعنی دسمبر کے وسط میں بنگلہ دیش نے ایک مرتبہ پھر دورۂ پاکستان کی خواہش ظاہر کی تھی اور محض ایک ہفتے بعد یہ بہانہ تراشا کہ اگر آئی سی سی اپنی سیکورٹی جائزہ رپورٹ پیش کرے تو وہ اس کی بنیاد پر پاکستان کا دورہ کرنے کو تیار ہے۔اس لیے دُور اندیش افراد تو اسی وقت سمجھ گئے تھے کہ بنگلہ دیش اب ایک مرتبہ پھر دورۂ پاکستان سے اپنا دامن چھڑا رہا ہے لیکن آج یعنی سوموار کو دارالحکومت ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ نظم الحسن کی پریس کانفرنس نے ان خدشات پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی، جن کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش اُسی صورت میں پاکستان کا دورہ کرے گا جب وہاں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی۔

اس جواب کے بنگلہ دیش کو جو نتائج بھگتنا پڑیں گے، نظم الحسن اُن سے بھی بخوبی واقف ہیں، اس لیے انہوں نے الفاظ کا انتخاب ایک مرتبہ پھر بہت سوچ سمجھ کر کیا اور پوری پریس کانفرنس میں انہوں نے ”ہاں“ یا ”ناں“ کی صورت میں کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ لیکن یہ امر بالکل واضح تھا کہ بنگلہ دیش جنوری میں پاکستان کے مجوزہ دورے سے دستبردار ہو چکا ہے اور جواب میں اب پاکستانی کھلاڑیوں کے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں کھیلنے کے امکانات بھی کم ہو چلے ہیں۔

بنگلہ دیشی بورڈ کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ناقص ہے اور ان حالات میں وہاں جانا معقول فیصلہ نہ ہوگا۔ ہم وعدے کے تحت پاکستان جانے کے پابند ضرور ہیں لیکن وہاں حالات میں بہتری آنے کے بعد۔ اور جب بھی ہم نے پایا کہ حالات سازگار ہیں، ہم خود پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے اپنے موقف کے بارے میں تین روز قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے بذریعہ ایک خط آگاہ کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بخوبی اندازہ ہے کہ دورے کا التوا پاکستان اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈز کے درمیان تعلقات کو خراب کرے گا، اور عین ممکن ہے کہ پاکستان بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں اپنے کھلاڑیوں کو نہ بھیجے۔

یوں پاکستان کرکٹ بورڈ، جس کے سربراہ نے گزشتہ ہفتے یہ اعلان کر دیا تھا کہ بنگلہ دیش کے دورۂ پاکستان کی تصدیق ہو چکی ہے، کی ایک مرتبہ پھر سخت سبکی ہوئی ہے۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش نے بورڈ اراکین سے دورے کی منظوری بھی لے لی ہے اور اب صرف سیریز کا شیڈول تیار کیا جانا باقی ہے۔

بنگلہ دیش اس سے قبل بھی رواں سال کے اوائل میں ایک مرتبہ دورۂ پاکستان کا ڈھول پیٹ چکا ہے، لیکن اس کا خاتمہ شدید بحث و تمحیص کے بعد ڈھاکہ کی عدالت عالیہ کے حکم امتناعی پر ختم ہوا، جس نے قومی کرکٹ ٹیم کو دورۂ پاکستان سے روک دیا۔

پاکستان مارچ 2009ء میں لاہور میں سری لنکا کی قومی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے بین الاقوامی کرکٹ سے محروم ہے اور اس عرصے کے دوران عالمی کپ 2011ء کی میزبانی بھی اس سے چھینی گئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایجنڈے میں اس وقت سرفہرست کام یہی ہے کہ کسی طرح پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کو واپس لا کر یہاں کے میدانوں کی رونقیں واپس لائی جائیں۔

Facebook Comments