بنگلہ دیش کی بے وفائی، پاکستان پھر بھی وفا کرے

تین مارچ 2009ء کا سورج پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ مقابلوں کے خاتمے کا سبب بنا اور سری لنکن کرکٹ ٹیم پر لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کے نزدیک ہونے والے حملے کے باعث دنیائے کرکٹ نے پاکستان سے اپنا رُخ موڑ لیا۔ اُس وقت سے اب تک پاکستان کرکٹ بورڈ کی سابق اور موجودہ انتظامیہ نے غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان بلانے کی سعی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تاہم ملک میں بین الاقوامی کرکٹ مقابلوں کی بحالی کا خواب تاحال شرمندۂ تعمیر نہیں ہوسکا۔

اگر پاکستان بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں شرکت سے انکار کرتا ہے تو اس سے یہ تاثر ملے گا کہ پاکستان بلیک میلنگ کے ذریعے کام نکلواتا ہے اور قومی کھلاڑیوں کو ملنے والے مالی فائدے سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے (تصویر: BPL T20)

اگر پاکستان بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں شرکت سے انکار کرتا ہے تو اس سے یہ تاثر ملے گا کہ پاکستان بلیک میلنگ کے ذریعے کام نکلواتا ہے اور قومی کھلاڑیوں کو ملنے والے مالی فائدے سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے (تصویر: BPL T20)

کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ اعجاز بٹ کے بعد موجودہ چیئرمین چودھری ذکاء اشرف نے بھی اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد سے اس پہلو کی جانب خاص توجہ مبذول رکھی۔ ذکاء اشرف نے کرکٹ کھیلنے والے تمام ممالک کو خطوط بھی ارسال کئے اور انتھک کوششوں کے بعد سالِ گزشتہ کے اوائل میں بنگلہ دیش کی جانب سے دورۂ پاکستان کا اشارہ بین الاقوامی کرکٹ کی پیاسی پاک سرزمین پر بارش کے پہلے قطرے کی مانند دیکھا جانے لگا ۔ تاہم حالات نے بہت جلد پلٹا کھایا اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ڈھاکہ ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن کو جواز بنا کر دورۂ پاکستان سے منہ موڑ لیا۔ دورے کی یقین دہانی سے قبل پاکستان نے بھی بنگلہ دیش کی آئی سی سی نائب صدارت کے لئے نامزدگی کی حامی بھری تھی، یہ صورتِ حال بظاہر 'کچھ لو اور کچھ دو' کی مانند تھی مگر بنگلہ دیش کے جانب سے دورۂ پاکستان سے انکار کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سابق صدر مصطفیٰ کمال کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے انہیں آئی سی سی کا نائب صدر بنوایا۔ بعد ازاں پاکستانی کھلاڑیوں نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں بھی شرکت کی، جس سے پاکستان کے مثبت طرز عمل کی عکاسی ہوئی۔

گزشتہ سال کے اختتامی ایام میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ نظم الحسن کی جانب سے دورۂ پاکستان کے واضح اشارے نے پاکستان میں کرکٹ شائقین کی امیدوں کو ایک مرتبہ پھر آسمان پر پہنچا دیا، مگر نتیجہ اس مرتبہ بھی پہلے سے مختلف نہ رہا اور بنگلہ دیش سیکورٹی صورتحال کا بہانہ بنا کر دورۂ پاکستان سے کترا گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ کی طرح اس بار بھی پاکستان کے ہاتھ میں 'ترپ کا پتہ' موجود تھا۔ جہاں پہلے پاکستان نے بنگلہ دیش سے آئی سی سی کی نائب صدارت پر سودے بازی کا تاثر دیا تو اس مرتبہ دورۂ پاکستان کے عوض پاکستانی کھلاڑیوں کو بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں شرکت کا پروانہ دینے کی حامی بھری۔ یہ محض ایک تاثر ہے ، مگر کیا اس پر عمل ہونا چاہیے ؟

بنگلہ دیش کی جانب سے وعدہ خلافی کی ممکنہ وجوہات پر آگے چل کر روشنی ڈالوں گا، سرِ دست اس بحث کو سمیٹنا ضروری ہے کہ کیا 'جیسے کو تیسا' کے مقولے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے اسٹار کھلاڑیوں کو بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں شرکت سے روکنا چاہیے ؟ میری ذاتی رائے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس اقدام سے گریز کرنا چاہیے اور میری اس رائے کی دو وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ بی پی ایل کی بولی میں چنے جانے والے متعدد نوجوان کھلاڑیوں کو مالی فائدے کے علاوہ جو تجربہ حاصل ہونے والا ہے اس سے انہیں محروم کرنا درست نہ ہوگا، کیونکہ، بہرحال، بنگلہ دیش کی جانب سے دورۂ پاکستان سے انکار میں ان کھلاڑیوں کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ دوسری بات یہ کہ اس عمل سے دنیائے کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے بلیک میلنگ کے تاثر کو تقویت ملے گی، اور دنیا یہ سوچنے میں حق بجانب ہوگی کہ در اصل پاکستان میں حالات بین الاقوامی کرکٹ کے لئے موافق نہیں، جس کے باعث پاکستان کرکٹ بورڈ بلیک میلنگ پر مبنی ہتھکنڈے آزمانے پر مجبور ہے ۔

یاد کیجئے کہ اس سے قبل پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سابق صدر مصطفیٰ کمال کی بطور آئی سی سی نائب صدر حمایت سے دنیا میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا اچھا تاثر ابھرا تھا۔ بنگلہ دیش نے وعدے کے باوجود پاکستان کا دورہ نہ کیا مگر پاکستان اپنے وعدے پر قائم رہا، اور اس مرتبہ اگر پاکستان نے اس صورتحال میں کوئی مختلف رویہ اپنایا تو شاید بنگلہ دیش سے زیادہ نقصان پاکستان کو پہنچے۔

بنگلہ دیش کی جانب سے حالیہ اعلان پر غور کیا جائے تو انہوں نے دورۂ پاکستان سے صاف انکار کے بجائے معاملے کو بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے اختتام تک موخر کیا ہے ۔ اب سوچئے کہ اگر پاکستان بنگلہ دیش پریمیئر لیگ سے اجتناب کرتا ہے تو کیا بنگلہ دیش مستقبل میں دورۂ پاکستان یا پھر مجوزہ پاکستان پریمیئر لیگ میں شرکت کی یقین دہانی کروائے گا۔؟

صورتحال سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ پہلے پاکستان نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کو ایک طرح سے بنگلہ دیش کو راضی کرنے کے لئے مؤثر حربے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی مگر اب یہ حربہ بنگلہ دیش کے ہاتھ میں ہے ۔ اگر پاکستانی کھلاڑی بی پی ایل میں شریک نہیں ہوتے تو بنگلہ دیش کی جانب سے دورہ پاکستان کو تو چھوڑئیے ، بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی مجوزہ پاکستانی لیگ میں شرکت بھی کھٹائی میں پڑ جائے گی۔

اب بنگلہ دیش کی جانب سے انکار کی ممکنہ وجوہ پر غور کرتے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ پاکستان کی طرح بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ میں بھی سیاسی بنیادوں پر تقرریوں کا نظام رائج ہے ، بلکہ بنگلہ دیش اِس حوالے سے پاکستان سے کہیں آگے ہیں۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے موجود سربراہ دراصل بنگلہ دیش کے موجودہ صدر کے صاحبزادے ہیں۔ بنگلہ دیش کے صدر وہاں کی حکمراں جماعت عوامی لیگ کے بھی سرکردہ رہنما ہیں۔ آئندہ برس دسمبر میں طے شدہ الیکشن کے تناظر میں کیا وہاں کی حکمراں پارٹی حزبِ اختلاف اور عوام کی ناراضگی محض دورۂ پاکستان کی قیمت پر مول لے سکتی ہے ؟

موجودہ صورتحال میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر اور حکمراں جماعت کے سرکردہ رہنما کے صاحبزادے پاکستان کرکٹ بورڈ کی ناراضگی مول لے سکتے ہیں، مگر اُن کے لئے آئندہ الیکشن کے تناظر میں حزب اختلاف سے ٹکرانا شاید اتنا آسان نہ ہو۔ بورڈ سربراہ تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ دورۂ پاکستان ایک حساس معاملہ ہے اور یقیناً یہ ملکی سیاسی صورتحال اور پاکستان کی سیکورٹی صورتحال کے اعتبار سے ایک حساس معاملہ ہی ہے ۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی بنگلہ دیش کے ہر قول کو حرف آخر سمجھنے کی روایت کو توڑتے ہوئے توجہ دیگر ممالک کی جانب مبذول کرنی چاہیے ۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بنگلہ دیش کی جانب سے چند روزہ دورے کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوجاتی؟ ہرگز نہیں۔ تو اس صورتحال پر "ماتم" اور "بدلے" کی باتوں سے اجتناب کرتے ہوئے پاکستان کو بنگلہ دیش سے آگے بھی دیکھنا چاہیے ، کیونکہ "ستاروں سے آگے جگہ اور بھی ہیں"!

لکھاری کا تعارف: محمد آصف خان معروف چینل نیوز ون میں شعبہ کھیل کے سربراہ ہیں اور انگریزی روزنامے دی نیوز کے لیے بھی لکھتے ہیں۔ آپ اپنے خیالات کا اظہار ٹوئٹر پر بھی کرتے ہیں۔

Facebook Comments