[ریکارڈز] نیوزی لینڈ ایک مرتبہ پھر شرمناک فہرست میں

پاک-بھارت میچز کے ہنگامے میں برصغیر کے شائقین کرکٹ دنیا کے دیگر مقامات پر جاری کرکٹ سے فی الحال نظریں ہٹائے ہوئے ہیں اور ان کی تمام تر توجہ چنئی اور کولکتہ کے ایک روزہ معرکوں پر مرکوز رہی لیکن اس دوران نیو لینڈز، کیپ ٹاؤن کے خوبصورت میدان پر ایک مرتبہ پھر تاریخ رقم ہو گئی۔

نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے مابین جاری پہلے ٹیسٹ مقابلے کا آغاز مہمان ٹیم کی جانب سے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی سے ہوا اور پھر وہ ہوا، جو 'اللہ دشمن کے ساتھ بھی نہ کرے' 🙂 ویرنن فلینڈر اور دیگر جنوبی افریقی تیز گیند بازوں کے سامنے نیوزی لینڈ کے بلے باز ایسے ڈھیر ہوئے کہ پوری ٹیم محض 19.2 اوورز میں 45 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ یوں تاریخ میں چوتھی مرتبہ نیوزی لینڈ کی اننگز کا خاتمہ 50 رنز سے بھی پہلے ہوا۔ یہ ملکی تاریخ کا تیسرا بدترین مجموعہ بھی تھا۔

یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں 19 واں موقع تھا کہ کوئی ٹیم 50 سے کم کے مجموعے پر ڈھیر ہوئی ہو (تصویر: Getty Images)

یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں 19 واں موقع تھا کہ کوئی ٹیم 50 سے کم کے مجموعے پر ڈھیر ہوئی ہو (تصویر: Getty Images)

نومبر 2011ء میں نیو لینڈز کے اسی میدان پر جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے مابین ایک یادگار مقابلہ کھیلا گیا تھا جس میں دوسرے روز 23 وکٹیں گریں اور آسٹریلیا محض 47 رنز پر آؤٹ ہوا تھا۔ یہ ویرنن فلینڈر کا پہلا ٹیسٹ مقابلہ بھی تھا، جس میں انہوں نے 8 وکٹیں حاصل کی تھیں اور اب اسی میدان پر وہ نیوزی لینڈ پر قہر بن کر ٹوٹے۔ انہوں نے جاری ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں محض 6 اوورز پھینکے اور 7 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔

نیوزی لینڈ 45 رنز بنا کر اپنی تاریخ کے کم ترین اسکور سے تو بچ گیا، لیکن اب شکست اسے واضح آثار نظر آرہی ہے کیونکہ جواب میں جنوبی افریقہ نے 347 رنز بناڈالے تھے اور اب دوسری اننگز میں بھی بلیک کیپس سخت مسئلے سے دوچار ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا کم ترین مجموعہ حاصل کرنے کا ریکارڈ خود نیوزی لینڈ کے پاس ہے جو مارچ 1955ء میں آکلینڈ میں انگلستان کے خلاف 26 رنز پر آل آؤٹ ہو گیا تھا۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں اب تک 19 مواقع ایسے آئے ہیں جن میں پوری ٹیم 50 رنز تک پہنچنے سے قبل ہی آؤٹ ہو گئی ہو۔ سب سے زیادہ مرتبہ جنوبی افریقہ نےاس 'اعزاز' کو حاصل کیا تاہم یہ پرانے زمانے کی باتیں ہیں، اور جنوبی افریقہ کے 50 سے کم اسکور پر آل آؤٹ ہونے کا تازہ ترین واقعہ بھی 1932ء کا ہے، جب وہ آسٹریلیا کے خلاف ملبورن میں 36 رنز پر ڈھیر ہوا تھا۔

اس کے علاوہ بھارت کا 1974ء کے لارڈز ٹیسٹ میں 42 رنز پر، 1994ء میں انگلستان کا ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ آف اسپین ٹیسٹ میں 46 پر اور2004ء میں ویسٹ انڈیز کا انگلستان کے خلاف 47 رنز پر آل آؤٹ ہو جانا بہت مشہور ہیں۔

حیران کن طور پر سب سے زیادہ یعنی 5 مرتبہ 50 سے کم کے مجموعے پر آؤٹ ہونے والی ٹیم کیپ ٹاؤن ہی میں کھیلی جبکہ سب سے زیادہ مرتبہ حریف ٹیم کو اس سے کم پر آؤٹ کرنے کا شرف بابائے کرکٹ انگلستان کو حاصل رہا ہے جس نے 12 مرتبہ حریف ٹیموں کو اس ذلت کا شکار کیا۔

قارئین کی دلچسپی کے لیے ذیل میں ہم 50 سے کم کے مجموعے پر آؤٹ ہونے والی ٹیموں کے اعدادوشمار پیش کر رہے ہیں، امید ہے معلومات میں اضافے کا باعث بنیں گے۔

تاریخ میں 50 سے کم اسکور پر آؤٹ ہونے کے واقعات

رنز اوورز حریف میدان تاریخ
نیوزی لینڈ 26 27 انگلستان آکلینڈ 25 مارچ 1955ء
جنوبی افریقہ 30 19 انگلستان پورٹ ایلزبتھ 13 فروری 1896ء
جنوبی افریقہ 30 13 انگلستان برمنگھم 14 جون 1924ء
جنوبی افریقہ 35 23 انگلستان کیپ ٹاؤن یکم اپریل 1899ء
جنوبی افریقہ 36 24 آسٹریلیا ملبورن 12 فروری 1932ء
آسٹریلیا 36 23 انگلستان برمنگھم 29 مئی 1902ء
نیوزی لینڈ 42 39 آسٹریلیا ویلنگٹن 29 مارچ 1946ء
آسٹریلیا 42 38 انگلستان سڈنی 10 فروری 1888ء
بھارت 42 17 انگلستان لارڈز 20 جون 1974ء
جنوبی افریقہ 43 29 انگلستان کیپ ٹاؤن 25 مارچ 1889ء
آسٹریلیا 44 26 انگلستان اوول 10 اگست 1896ء
جنوبی افریقہ 45 32 آسٹریلیا ملبورن 12 فروری 1932ء
انگلستان 45 36 آسٹریلیا سڈنی 28 جنوری 1887ء
نیوزی لینڈ 45 19 جنوبی افریقہ کیپ ٹاؤن 2 جنوری 2013ء
انگلستان 46 19 ویسٹ انڈیز پورٹ آف اسپین 25 مارچ 1994ء
نیوزی لینڈ 47 33 انگلستان لارڈز 19 جون 1958ء
جنوبی افریقہ 47 47 انگلستان کیپ ٹاؤن 25 مارچ 1889ء
ویسٹ انڈیز 47 26 انگلستان کنگسٹن 11 مارچ 2004ء
آسٹریلیا 47 18 جنوبی افریقہ کیپ ٹاؤن 9 نومبر 2011ء

Facebook Comments