بھارت چاروں شانے چت، پاکستان کی تاریخی سیریز جیت

سرزمینِ ہند پر پاکستان کی شاندار فتوحات کا سفر ایک تاریخی سنگ میل تک جا پہنچا ہے اور اس نے بالآخر عالمی ٹورنامنٹس میں روایتی حریف بھارت کے خلاف پے در پے شکستوں کا بدلہ حریف کو خود اُسی کی سرزمین پر شکست دے کر لے لیا ہے۔ ناصر جمشید کی ایک اور سنچری، محمد حفیظ کے شاندار ساتھ اور پھر جنید خان اور عمر گل سمیت تمام باؤلرز کی عمدہ باؤلنگ اور حیران کن طور پر کامران اکمل کی زبردست وکٹ کیپنگ نے پاکستان کولکتہ کھیلے گئے دوسرا ایک روزہ مقابلہ میں 85 رنز کی بھاری فتح سے ہمکنار کر کے 3 مقابلوں کی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری دے دی۔

ناصر جمشید کی مسلسل دوسری سنچری نے پاکستان کی فتح کی بنیاد رکھی، وہ بعد ازاں میچ کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے (تصویر: BCCI)

ناصر جمشید کی مسلسل دوسری سنچری نے پاکستان کی فتح کی بنیاد رکھی، وہ بعد ازاں میچ کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے (تصویر: BCCI)

دوسری جانب بھارت کے زوال کا سلسلہ مستقل جاری ہے، دیس اور پردیس دونوں میں ٹیسٹ کا حال تو سب پر عیاں ہی رہا ہے لیکن اب محدود اوورز کی کرکٹ میں سیریز ہارنا بھارتی کرکٹ کی پستی کی اک نئی داستان رقم کر گئی ہے۔ یہ تین سے زائد سالوں کے عرصے میں سرزمین ہند پر میزبان کی پہلی سیریز شکست ہے اور وہ بھی روایتی حریف پاکستان کے خلاف، جس کے خلاف معمولی سے معمولی مقابلے میں بھی ہار تماشائیوں کو گوارہ نہیں۔ پھر ہوم گراؤنڈ، جہاں بھارت نے اس سیریز کے آغاز سے قبل گزشتہ 24 مقابلوں میں صرف دو مرتبہ شکست کھائی تھی لیکن پاکستان کے خلاف اس ہار نے گویا تازیانے کا کام کیا ہے۔

کولکتہ کے تاریخی ایڈن گارڈنز میں 60 سے 70 ہزار تماشائی اِس امید کے ساتھ آئے تھے کہ وہ بھارت کو جوابی حملہ کرتے دیکھیں گے، اور بلاشبہ میچ میں ایک لمحے پر اُس نے وار کیا بھی۔ جب 141 رنز کی شاندار اوپننگ شراکت کے ذریعے پاکستان کی بنیادیں مضبوط ہو چکی تھیں، اس وقت بھارتی گیند باز کھیل پر ایسے حاوی ہوئے کہ پاکستان کو اپنی تمام وکٹیں محض 109 رنز کےاضافے پر گنوانا پڑیں۔ یوں توقعات سے کہیں کم 251 رنز کا ہدف بھارت کو ملا لیکن ابتداء ہی میں پاکستان کے تیز گیند بازوں نے اسے اس طرح پھانسا کہ نصف اوورز تک ہی وہ مقابلہ ہار چکا تھا۔

پاکستان کی جانب سے میچ کے ہیرو ایک مرتبہ پھر ناصر جمشید رہے، جو اب بھارت کے لیے دوسرے سعید انور ثابت ہو رہے ہیں، انہوں نے بھارت کے خلاف مسلسل تیسرے ون ڈے میں سنچری اسکورکی ہے۔ سال گزشتہ میں ایشیا کپ میں انہوں نے سنچری بنائی، گو کہ پاکستان مقابلے میں فتحیاب نہ ہو سکا، لیکن اس کے بعد اب موجودہ سیریز کے چنئی اور اب کولکتہ میں کھیلے گئے دونوں مقابلوں میں وہ تہرے ہندسے کی اننگز کھیل کر ثابت کر گئے ہیں کہ وہ پاکستان کے نئے سپر اسٹار ہوں گے۔

مقابلےکے آغاز پر پاکستان کو ٹاس ہار کر بادل نخواستہ بلے بازی کرنا پڑی لیکن ٹاس ضرور ہارا تھا لیکن حوصلہ نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اوپنرز ہی نے حقیقتاً بھارتی باؤلنگ کے پرخچے اڑا دیے۔ یہ 141 رنز کی شاندار اوپننگ شراکت ہی تھی ، جو بعد میں حالات انتہائی سنگین ہو جانے کے باوجود فیصلہ کن ثابت ہوئی۔

خیر پہلے ذکر کرتے ہیں بھارت کے تعاقب کا، جو 251 رنز کے ہدف کی جانب سفر میں بھارت کی جانی مانی بیٹنگ لائن اپ پاکستانی گیند بازوں کے سامنے ریت کی دیوار ہی رہی۔ 42 رنز کا آغاز ملنے کے بعد جب جنید خان کے سامنے مزاحمت ڈھیلی پڑی تو پہلے گوتم گمبھیر اور پھر ویراٹ کوہلی اُن کو اپنی وکٹیں تھما گئے۔ گوتم گمبھیر آف اسٹمپ سے باہر پڑ کر اندر آنے والی گیند پر کور ڈرائیو کھیلنے کی غلطی کر بیٹھے اور ‏گیند بلّے کا اندرونی کنارہ لیتی ہوئی ان کی وکٹیں بکھیر گئی۔ جنید نے اپنے اگلےہی اوور میں پاکستان کو ویراٹ کوہلی کی قیمتی ترین وکٹ دلوائی جوباہر جاتی ہوئی ایک گیند کو گلانس کر کے چوکا حاصل کرنا چاہ رہے تھے لیکن کامران اکمل کی 'سپر مین' جست نے کافی ثابت ہوئی۔ گمبھیر نے 11 اور کوہلی نے 6 رنز بنائے۔

جنید خان نے ایک زبردست اسپیل کیا، مصباح نے گزشتہ مقابلوں کی طرح انہیں اچھی باؤلنگ کے باوجود ہٹانے کی کوشش نہیں کی اور پہلے ہی اسپیل میں ان سے 7 اوور کروا ڈالے۔ یہی وجہ ہے کہ بالآخر بھارتی مزاحمت ٹوٹی اور وہ 7 اوورز میں محض 18 رنز دے کر دو وکٹوں کے ساتھ سرخرو واپس ہوئے۔

البتہ طویل و مستحکم بیٹنگ لائن اپ کے باعث مقابلہ اب بھی بھارت کی گرفت میں ہی تھا لیکن اس موقع پر جب اسے ایک مرتبہ پھر استحکام کی جانب لے جانے کی ضرورت تھی، کپتان مصباح الحق نے عمر گل کو متعارف کروانے کا زبردست فیصلہ کیا، جنہوں نے پہلے وریندر سہواگ کو خوبصورت اِن کٹر پر اور پھر یووراج سنگھ کو ایک باؤنسر پر آؤٹ کر کے بھارتی بیٹنگ لائن اَپ کی کمر توڑ دی۔ سہواگ 143 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹپہ پڑنے کے بعد اندر آنے والی گیند کو نہ سمجھ پائے، اور اپنے روایتی انداز یعنی بغیر فٹ ورک کے کھیلنے کی سزا انہیں اس طرح ملی کہ گیند عین مڈل اسٹمپ کے سامنے ان کے پیڈ پر لگی اور عمر گل کی اپیل کے ساتھ امپائر کی انگلی فضا میں بلند ہو گئی۔ یوں 43 گیندوں پر 31 رنز کی اننگز اپنے اختتام کو پہنچی۔

یووراج سنگھ، جن کی شعلہ فشانی نے پاکستان کو حال ہی میں دوسرے ٹی ٹوئنی میں شکست سے ہمکنار کیا تھا، 70 کے مجموعی اسکور پر اس وقت آؤٹ ہوئے جب عمر گل نے انہیں باہر جاتا ہوا ایک باؤنسر پھینکا، جسے وہ پل کرنے کی لاحاصل کوشش کر بیٹھے، نتیجتاً گیند نے بلے کے نچلے حصے کا کنارہ لیا اور سیدھا وکٹ کیپر کامران اکمل کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ سخت طیش کے عالم میں یووراج واپس پویلین میں آئے اور مقابلہ بھارت کی گرفت سے نکل گیا۔

پاکستانی باؤلرز نے توقعات سے کہیں کم ہدف کا بہترین انداز میں دفاع کیا اور بھارتی بلے بازوں کی ایک نہ چلنے دی (تصویر: BCCI)

پاکستانی باؤلرز نے توقعات سے کہیں کم ہدف کا بہترین انداز میں دفاع کیا اور بھارتی بلے بازوں کی ایک نہ چلنے دی (تصویر: BCCI)

اب کسی کو مردِ بحران کا کردار ادا کرنا تھا، اور کپتان مہندر سنگھ دھونی اور سریش رینا اس کی بھرپور قابلیت بھی رکھتے تھے۔ پہلے انہوں نے پاکستانی باؤلرز کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کو روکنے کی کوشش کی اور بجائے رنز بنانےکے وکٹیں بچانے پر دھیان کیا اور 26 ویں اوور تک تو وہ اس میں کامیاب رہے۔ جب محمد حفیظ کی ایک باہر جاتی گیند کو آگے بڑھ کر کھیلنے کی کوشش رینا کو بہت مہنگی پڑ گئی، گو کہ رینا نے وکٹوں میں واپس آنے کی پوری کوشش کی لیکن کامران اکمل،جو غیر یقینی طورپر آج بھرپور فارم میں تھے، نے پلک جھپکتے میں گلیاں اڑا دیں اور تیسرے امپائر نے متعدد بار ری پلے دیکھنے کے بعد انہیں سرخ اشارہ کھا کر واپس بلا لیا۔ بھارت کی آدھی ٹیم تہرے ہندسے میں پہنچنے سے قبل ہی ڈھیر ہو چکی تھی۔

تیزی سے بڑھتا ہوا درکار رن اوسط اور پاکستانی باؤلرز کی عمدہ گیند بازی کے باعث بھارت کے لیے ہدف کی جانب پیشقدمی کرنا ممکن ہی نہیں رہا۔ گو کہ یہ وکٹ بلےبازوں کے لیے کہیں زیادہ سازگار تھی لیکن تیزی سے بڑھتاہوا دباؤ مقابلہ پاکستان کی جھولی میں ڈال گیا۔ وکٹیں گرنے کا سلسلہ بالکل نہیں رکا، پہلے روی چندر آشون محض تین رنز بنانے کے بعد شعیب ملک کے اولین اوور میں کامران اکمل کی وکٹوں کے پیچھے پھرتی کا شکار ہو گئے۔ پھر 39 ویں اوور میں سعید اجمل نے رویندر جدیجا، بھوونیشور کمار اور اشوک ڈنڈا کو آؤٹ کر پاکستان کو تاریخی جیت سے محض ایک وکٹ کی دوری تک پہنچا دیا۔ جدیجا مڈ آن کے اوپر سے کھیلنے کی کوشش میں جنید خان کو کیچ تھما گئے جبکہ کمار اور ڈنڈاسعید اجمل کے دوسرا کو سمجھنے میں ناکام ہوئے اور وکٹوں کے سامنے دھر لیے گئے۔

ایک اینڈ سے مہندر سنگھ دھونی کی سعیِ لاحاصل جاری رہی، اور بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں سوائے انفرادی نصف سنچری کے اور کچھ نہ ملا اور نہ ہی انہوں نے کوئی ایسی حقیقی کوشش بھی کی جس سے لگتا ہو کہ وہ بھارت کو مقابلہ جتوانا چاہ رہے ہیں۔ بالآخر 48 ویں اوور کی آخری گیندپر جنید خان نے ایشانت شرما کو بولڈ کر کے بھارتی اننگز کی بساط 165 رنز پر لپیٹ دی اور پاکستان کو یادگار فتح سے ہمکنار کر دیا۔ دھونی 89 گیندوں پر 54 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔

پاکستان کی جانب سے جنید خان نے 39 رنز اور سعید اجمل نے 20 رنز دے کر 3،3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو وکٹیں عمر گل اور ایک، ایک وکٹ محمد حفیظ اور شعیب ملک کو ملی۔

قبل ازیں پاکستان نے بھارت کی دعوت پر بلے بازی کا آغاز کیا اور بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی تمام تر امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ جو ابر آلود موسم اور پچ میں موجود نمی کا فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو بلے بازی کے لیے مدعو کر چکے تھے۔ ناصر جمشید اور محمد حفیظ نے بھارتی باؤلنگ لائن اپ کے درحقیقت پرخچے اڑا دیے۔ سیریز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بھوونیشور کمار آج بالکل بجھے بجھے دکھائی دیے۔ حفیظ اور ناصر نے انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا جبکہ دیگر بھارتی باؤلرزکا حال بھی کچھ اچھا نہ تھا۔

ناصر جمشید نے بھارت کے خلاف مقابلوں میں اپنی مسلسل تیسری سنچری بنائی اور 106 رنز بنا کر بھارت کے خلاف اپنی مسلسل تیسری سنچری اسکور کی۔ محمد حفیظ 76 رنز بنا کے پویلین لوٹے جبکہ ان دونوں کےعلاوہ کوئی پاکستانی بلے باز قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا۔ بھارتی باؤلرز میچ پر مکمل طور پر چھا گئے اور انہوں نے اپنے بلے بازوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ سیریز برابر کریں، لیکن وہ پاکستان کے سامنے ڈھیر ہو گئے۔

اوپنرز کے علاوہ صرف شعیب ملک24 رنز بنا سکے اور صرف یونس اور عمر گل کی اننگز دہرے ہندسے میں پہنچی۔ جبکہ اظہر علی اور مصباح الحق 2،2 اور کامران اکمل صفر پر آؤٹ ہوئے۔ یونس اس لحاظ سے بدقسمت رہے کہ گیند نے ان کے بلے کا کنارہ لیا تھا لیکن امپائر نے انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دیا اور یہی لمحہ پاکستانی اننگز کا بحرانی مرحلہ ثابت ہوا اور بعد ازاں توقعات سے کہیں کم مجموعے تک پہنچ پایا۔

بھارت کی جانب سے ایشانت شرما اور رویندر جدیجا نے سب سے زیادہ تین، تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ ایک، ایک وکٹ روی چندر آشون، بھوونیشور کمار اور سریش رینا کو ملی۔

ناصر جمشید کو شاندار سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، اور وہ اعزاز جو انہوں نے گزشتہ مقابلے میں نہیں ملا تھا اور ماہرین کرکٹ کی پیشانیوں پر بل پڑ گئے تھے، بالآخر آج انہوں نے وصول کیا۔

اب سیریز کا تیسرا و آخری ایک روزہ مقابلہ 6 جنوری کو دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ اسٹیڈیم میں ہوگا۔

بھارت بمقابلہ پاکستان

دوسرا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ

3 جنوری 2012ء

بمقام: ایڈن گارڈنز، کولکتہ

نتیجہ: پاکستان 85 رنز سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: ناصر جمشید

پاکستان رنز گیندیں چوکے چھکے
ناصر جمشید اسٹمپ دھونی ب جدیجا 106 124 12 2
محمد حفیظ ب جدیجا 76 74 10 0
اظہر علی رن آؤٹ 2 10 0 0
یونس خان ایل بی ڈبلیو ب رینا 10 20 0 0
مصباح الحق ایل بی ڈبلیو ب آشون 2 5 0 0
شعیب ملک ک یووراج ب شرما 24 30 2 0
کامران اکمل ک سہواگ ب جدیجا 0 2 0 0
عمر گل ب شرما 17 17 1 1
سعید اجمل ک سہواگ ب کمار 7 7 1 0
جنید خان ناٹ آؤٹ 0 0 0 0
محمد عرفان ب شرما 0 2 0 0
فاضل رنز و 6 6
مجموعہ 48.3 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 250

 

بھارت (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
بھوونیشور کمار 9 0 61 1
اشوک ڈنڈا 7 0 42 0
ایشانت شرما 9.3 0 34 3
روی چندر آشون 10 0 49 1
سریش رینا 2 0 13 1
رویندر جدیجا 10 1 41 3
یووراج سنگھ 1 0 10 0

 

بھارتہدف: 251 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
گوتم گمبھیر ب جنید 1 25 1 0
وریندر سہواگ ایل بی ڈبلیو ب عمر گل 31 43 3 0
ویراٹ کوہلی ک کامران ب جنید 6 9 1 0
یووراج سنگھ ک کامران ب عمر گل 9 19 0 0
سریش رینا اسٹمپ کامران ب حفیظ 18 42 1 0
مہندر سنگھ دھونی ناٹ آؤٹ 54 89 4 1
روی چندر اشون اسٹمپ کامران ب شعیب ملک 3 22 0 0
رویندر جدیجا ک جنید ب سعید اجمل 13 23 0 0
بھوونیشور کمار ایل بی ڈبلیو ب سعید اجمل 0 2 0 0
اشوک ڈنڈا ایل بی ڈبلیو ب سعید اجمل 0 2 0 0
ایشانت شرما ب جنید 2 12 0 0
فاضل رنز ل ب 4، و 14 18
مجموعہ اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 165

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
محمد عرفان 10 0 46 0
جنید خان 9 1 39 3
عمر گل 7 0 24 2
محمد حفیظ 10 0 29 1
سعید اجمل 10 1 20 3
شعیب ملک 2 1 3 1

Facebook Comments