جان ڈیویسن آسٹریلیا کے خلاف کیریئر کا آخری میچ کھیلیں گے

عالمی کپ 2011ء کے سب سے طویل العمر کھلاڑی جان ڈیویسن نے آسٹریلیا کے خلاف میچ کے بعد کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ 40 سالہ ڈیویسن نے 2003ء میں عالمی کپ کی تیز ترین سنچری کا ریکارڈ توڑا تھا۔ گو کہ جان ڈیویسن کینیڈا میں پیدا ہوئے لیکن انہوں نے اپنی تقریبا تمام زندگی آسٹریلیا میں گزاری ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ وہ اپنے آبائی ملک کے خلاف کھیلیں گے۔

جان ڈیویسن (گیٹی امیجز)

کینیڈا عالمی کپ 2011ء میں اپنے بیشتر میچز بڑے مارجنز سے ہارنے کے بعد سب سے بڑے امتحان سے گزرے گی کیونکہ کل (15 مارچ) کو اس کا سامنا موجودہ عالمی چیمپین اور ٹورنامنٹ کی اب تک کی واحد ناقابل شکست ٹیم آسٹریلیا سے ہوگا۔

جان ڈیویسن کیریئر کا یہ آخری میچ بنگلور کے مشہور چناسوامی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

جان ڈیویسن نے کہا کہ یہ اک شاندار موقع ہوگا جب میں اپنے آبائی وطن کے خلاف اپنا آخری میچ کھیلوں گا ۔ میں نے اپنی تمام زندگی وہیں گزاری ہے۔

ڈیویسن نے اپنے کیریئر کا ابتدائی نصف حصہ وکٹوریا اور ساؤتھ آسٹریلیا کی ٹیموں کے ساتھ گزارا، لیکن بہت اعلی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے اور 55.56 کی اوسط سے محض 83 وکٹیں حاصل کر پائے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ کینیڈا کی جانب سے کھیل سکتے ہیں، کیونکہ وہ کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں پیدا ہوئے تھے، تو انہوں نے اپنا کیریئر وہیں بنایا۔

انہیں پہلی بار 2003ء کے عالمی کپ کے لیے کینیڈا کی قومی ٹیم میں شامل کیا گیا جہاں انہیں ایک جارحانہ اوپننگ بلے باز کی حیثیت سے شامل کیا گیا۔ ان کی زندگی کا یادگار ترین لمحہ بلاشبہ اسی عالمی کپ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں آیا جب انہوں نے سنچورین میں 67 گیندوں پر عالمی کپ کی تاریخ کی تیزترین سنچری بنائی۔ تاہم بعد ازاں پہلے میتھیو ہیڈن اور عالمی کپ 2011ء میں آئرلینڈ کے کیون اوبرائن نے اس ریکارڈ کو توڑ دیا۔

ڈیویسن نے 31 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں کینیڈا کی نمائندگی کی جن میں سے 19 میں انہیں اپنی ٹیم کی قیادت کا اعزاز بھی ملا۔ انہوں نے 27.06 کی اوسط سے 785 رنز اور 29.65 کی اوسط سے 35 وکٹیں حاصل کیں۔

Facebook Comments