آخری ون ڈے میں دھونی کو ایوارڈ کیوں دیا گیا؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان تیسرے و آخری ایک روزہ مقابلے میں بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی کو مردِ میدان قرار دیے جانے کے فیصلے نے کئی شائقین و ماہرین کرکٹ کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اُس روز گو کہ دھونی نے بھارت کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنائے تھے، لیکن وہ محض 36 رنز تھے، جس کے لیے انہوں نے 55 گیندیں استعمال کیں، جبکہ اُن کی وکٹ کیپنگ بھی اچھی نہیں تھی، انہوں نے اہم موقع پر حریف ہم منصب مصباح الحق کا کیچ بھی چھوڑا تھا لیکن اس کے باوجود مین آف دی میچ قرار دیا جانا، خود بھارتی ماہرین کو بھی ہضم نہیں ہو رہا۔

سعید اجمل کیریئر کی بہترین باؤلنگ کے باوجود میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل نہ کر پائے (تصویر: BCCI)

سعید اجمل کیریئر کی بہترین باؤلنگ کے باوجود میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل نہ کر پائے (تصویر: BCCI)

یہ ایوارڈ رواں تبصرہ کاروں یعنی کمنٹیٹرز پر مشتمل ایک جیوری کے فیصلے پر دیا گیا تھا اور بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق جیوری اراکین نے بالاتفاق رائے دھونی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ البتہ دھونی کے حق میں ووٹ دینے والے ایک رکن نے اخبار کو بتایا کہ ایوارڈ دینے کا مقصد دراصل سخت مرحلے میں دھونی کے حوصلوں کو بڑھانا تھا۔

حیرت ہے، بیٹنگ، باؤلنگ اور کبھی کبھار فیلڈنگ کی بنیاد پر تو یہ اعزاز دیتے گئے دیکھا گیا تھا، لیکن کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا نظارہ دیکھنے کو ملا کہ ایک ٹیم کے کھلاڑی کو معمول کی کارکردگی کے باوجود محض حوصلہ افزائی کے لیے ایوارڈ دیا گیا۔ اگر حوصلہ افزائی ہی مقصود تھی تو رویندر جدیجا اور نوجوان بھوونیشور کمار اس کے کہیں زیادہ حقدار تھے۔ رویندر جدیجا نے کارآمد 27 رنز بھی بنائے اور ایک شاندار کیچ پکڑنے کے علاوہ نازک ترین مرحلے پر عمر اکمل کی قیمتی وکٹ بھی حاصل کی تھی۔

لیکن اگر کوئی کھلاڑی اس اعزاز کا درست ترین حقدار تھا تو وہ پاکستان کے سعید اجمل تھے، جنہوں نے محض 24 رنز دے کر 5 بھارتی بلے بازوں کو آؤٹ کیا اور یوں اپنے کیریئر کی بہترین باؤلنگ کی۔

اس سے قبل سیریز کے پہلے مقابلے میں بھی کچھ ایسی کہانی ہوئی تھی جب فتح گر سنچری کے باوجود ناصر جمشید کے بجائے اعزاز مہندر سنگھ دھونی کو دے دیا گیا۔

گو کہ سیریز پاکستان جیت گیا، لیکن پاکستان کے کھلاڑی کو صرف ایک ہی میچ میں بہترین کھلاڑی کا اعزاز مل سکا۔ جس سے جیوری کے تعصب کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments