عالمی کپ جیتنا دھونی کا خواب ہے اور خواب ہی رہے گا؛ ڈین جونز

جیسے جیسے عالمی کپ 2011ء اپنے اختتامی مراحل کی جانب بڑھ رہا ہے ویسے ویسے ماحول کی گرما گرمی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب وہ لمحہ قریب آن پہنچا ہے جہاں ٹیموں کے درمیان میدان میں اور ماہرین و سابق کھلاڑیوں کے درمیان میدان سے باہر معرکہ آرائی شروع ہوگی۔ لگتا ہے الفاظ کی اس جنگ کا آغاز ہو چکا ہے کیونکہ سابق آسٹریلوی بلے باز اور معروف تجزیہ کار ڈین جونز نے میدان کارزار میں پہلا تیر پھینک دیا ہے جن کا کہنا ہے کہ عالمی کپ جیتنا بھارت کے قائد مہندر سنگھ دھونی کا خواب ہے اور یہ محض خواب ہی رہے گا۔ کمزور باؤلنگ اور غیر متاثر کن فیلڈنگ بھارت کو آئندہ مقابلوں میں سخت حریفوں کے سامنے لے ڈوبے گی۔

سابق آسٹریلوی کھلاڑی ڈین جونز (فائل فوٹو)

آسٹریلیا کے اخبار 'دی ایج' میں لکھے گئے اپنے کالم میں ڈین جونز نے لکھا ہے کہ تاریخ سے سبق حاصل کرنا کرکٹرز کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ہم نے کیا کام غلط کیا اور کیا صحیح۔ اب تک 9 عالمی کپ ہو چکے ہیں اور ان عالمی کپ کی فاتح ٹیمیں فتح کے لیے درکار ترتیب اور صلاحیتوں کی حامل تھیں۔

ان تمام عالمی چیمپین ٹیموں میں بالخصوص تین قدریں مشترک تھیں:

1. آپ کے ابتدائی چار بلے باز اعلی معیار کے ہونے چاہئیں۔ ان کے پاس نئی گیند کو بہتر انداز میں کھیلنے کی تکنیک ہونی چاہیے، اور ساتھ ساتھ پاور پلے مرحلوں کے دوران اسٹروک کھیلنے کی قوت و صلاحیت ہونی چاہیے۔ ان کے پاس پورے 50 اوورز تک کھیلنے کے لیے فٹنس بھی ہونی چاہیے۔

2. آپ کے چار اٹیکنگ باؤلرز اعلی معیار کے ہونے چاہئیں، جو نہ صرف دباؤ برداشت کرسکیں بلکہ پاور پلے مراحل میں دفاعی انداز سے درست لائن اور لینتھ پر نپی تلی باؤلنگ کر سکیں۔

3. اگر آپ فیلڈنگ نہیں کر سکتے، تو آپ حریف ٹیم کی ناک میں دم نہیں کر سکتے!

ڈین جونز کا کہنا ہے کہ ان تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے وہ نہیں سمجھتے کہ بھارت اپنی موجودہ فارم کے ساتھ عالمی کپ جیت سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ بلاشبہ سچن ٹنڈولکر اور وریندر سہواگ بہت با صلاحیت بلے باز ہیں اور دنیا کے کسی بھی باؤلنگ اٹیک کی دھجیاں بکھیر سکتے ہیں، لیکن وہ اکیلے بھارت کو عالمی کپ نہیں جتوا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی سمجھتے ہیں کہ وہ ظہیر خان، اشیش نہرا، پیوش چاؤلہ اور ہربھجن سنگھ پر مشتمل باؤلنگ اٹیک کے ذریعے عالمی کپ جیت سکتے ہیں تو وہ اس پر صرف اتنا ہی کہیں گے کہ مہندر سنگھ دھونی خواب دیکھ رہے ہیں۔

دھونی کو عالمی کپ جیتنے کے لیے اس تاریخ کو غلط ثابت کرنا ہوگا جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہر عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے پاس چار بہترین باؤلرز موجود تھے۔ جیسا کہ ویسٹ انڈیز کے پاس 1975ء میں برنارڈ جولین، اینڈی رابرٹس، کیتھ بوائس اور وینبرن ہولڈر اور 1979ء میں اینڈی رابرٹس، مائیکل ہولڈنگ، کولن کرافٹ اور جوئیل گارنر۔ 1983ء میں بھارت کے پاس کپل دیو، بلوندر سندھو، مدن لعل، راجر بنی کے علاوہ جمی امرناتھ کی صورت میں پانچواں باؤلر تک موجود تھا۔ 1987ء میں عالمی کپ جیتنے والے آسٹریلیا کے پاس بروس ریڈ، کریگ میکڈرمٹ، اسٹیو واہ اور سائمن او ڈونیل تھے تو 1992ء میں فتح حاصل کرنے والے پاکستان کے پاس عمران خان، وسیم اکرم، مشتاق احمد اور عاقب جاوید تھے۔ انہوں نے 1996ء کے عالمی کپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سری لنکا کے پاس مرلی دھرن، چمندا واس، سنتھ جے سوریا اور وکرماسنگھے کی صورت میں میچ وننگ باؤلر تھے اور مسلسل تین عالمی کپ یعنی 1999ء، 2003ء اور 2007ء میں جیتنے والی ٹیم آسٹریلیا کو گلین میک گرا، شین وارن، ڈیمین فلیمنگ، پال رائفل، بریٹ لی، اینڈی بکل، اینڈریو سائمنڈز، شان ٹیٹ، شین واٹسن اور ناتھن بریکن جیسے زبردست باؤلرز میسر تھے۔

یہ حوالہ دینے کے بعد انہوں نے سوال کیا ہے کہ کیا ظہیر، اشیش، پیوش اور ہربھجن پر مشتمل بھارتی باؤلنگ اٹیک ان فاتح باؤلنگ اٹیکس سے میل کھاتا ہے؟ اور اس کا جواب بھی نفی کی صورت میں دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محض چار باؤلرز کو کھلانے کے فیصلے کا مطلب ہے کہ بھارت کو اپنی حقیقی طاقت یعنی بلے بازی پر بھروسہ نہیں ہے۔ اس لیے وہ 7 بلے باز کھلا رہے ہیں۔ دوسری جانب باؤلنگ کا یہ حال ہے کہ اگر ایک بھی باؤلر خراب باؤلنگ کرتا ہے تو کھیل کا توازن بگڑ سکتا ہے۔

انہوں نے جاری عالمی کپ میں بنگلہ دیش اور انگلستان کو کو آل آؤٹ نہ کر پانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ بھارتی باؤلنگ لائن اپ آئرلینڈ کے خلاف بھی جدوجہد کرتی دکھائی دی۔ انہوں نے بھارت کے اسپنرز پیوش اور ہربھجن کی خراب فارم کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا عالمی کپ جتوانے والے تین اسپنرز مشتاق احمد، شین وارن اور بریڈ ہوگ جتنی قابلیت پیوش چاؤلہ میں دکھائی دیتی ہے اور پھر حسب سابق اس کا جواب بھی نفی میں دیا ہے۔

ڈین جونز نے دھونی کو مشورہ دیا کہ وہ پیوش چاؤلہ کی جگہ روی چندر آشون کو آزمائیں اور کہا ہے کہ ظہیر، اشیش، ہربھجن اور آشون پر مشتمل باؤلنگ اٹیک بھارت کے لیے زیادہ مناسب ہوگا جس میں یوسف پٹھان اور یووراج سنگھ پانچویں باؤلر کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گیند بازوں میں صرف دفاع کرنے ہی کی نہیں بلکہ وکٹیں حاصل کرنے کی صلاحیت کی ضرورت ہے کیونکہ حریف ٹیم کی وکٹوں کا گرنا ہی اصل میں رنز کی رفتار کو روکتا ہے۔

Facebook Comments