قیادت نہیں چھوڑوں گا، دھونی ڈٹ گئے

بھارت انگلستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں مایوس کن شکست اور پھر پاکستان کے ہاتھوں ون ڈے سیریز ہارنے کے بعد اب ایک مرتبہ اک نئے امتحان سے دوچار ہونے والا ہے۔ انگلش ٹیم کرسمس اور سال نو کی تعطیلات منانے کے بعد ایک مرتبہ پھر سرزمین ہند پر پہنچ چکی ہے اور اس عرصے میں بھارت بڑے بڑے تنازعات کو جھیل چکا ہے۔ روایتی حریف کے خلاف شکست نے ہندوستانی ٹیم کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا اور واضح اور دبے دبے دونوں انداز سے مہندر سنگھ دھونی سے قیادت چھوڑنے کے مطالبات کیے گئے ہیں لیکن دھونی اس قسم کے جذباتی فیصلے کے کسی موڈ میں نظر نہیں آتے۔

اب مہندر کو اپنی کپتانی بچانے کے لیے انگلستان کے خلاف فتح حاصل کرنا ہوگی، ورنہ۔۔۔۔۔۔۔ (تصویر: BCCI)

اب مہندر کو اپنی کپتانی بچانے کے لیے انگلستان کے خلاف فتح حاصل کرنا ہوگی، ورنہ۔۔۔۔۔۔۔ (تصویر: BCCI)

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مہندر سنگھ دھونی نے کہا کہ ایک روزہ ٹیم کی قیادت چھوڑنے کا انہوں نے سوچا تک نہیں اور یہ معاملہ وہ سلیکٹرز پر چھوڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم ترین سیریز سے قبل ان کی تمام توجہ سیریز میں فتح پر مرکوز ہے۔

دھونی کی قائدانہ صلاحیتوں پر انگلیاں اٹھانے کے باوجود یہ امر تو طے شدہ ہے کہ بحیثیت وکٹ کیپر و بلے باز ان کی کارکردگی ٹیم کے کئی کھلاڑیوں سے بہتر ہے۔ پاکستان کے خلاف سیريز میں انہوں نے تین ایک روزہ مقابلوں میں 113*، 54* اور 36 رنز کی قیمتی اننگز کھیلیں اور دو مقابلوں میں مردِ میدان قرار پائے۔

بھارت اور انگلستان کے درمیان پہلا ایک روزہ کل یعنی 11 جنوری کو 'کرکٹ کے گھر' لارڈز سے ملتے جلتے راجکوٹ کے نئے سورشٹرا کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

اگر بھارت عالمی نمبر ایک انگلستان کے خلاف ایک روزہ سیریز جیتنے میں کامیاب ہو گیا، تو دھونی کے خلاف مہم بھی کمزور پڑ جائے گی۔ لیکن اگر دھونی الیون یہ سیریز بھی ہار گئی تو بہت زیادہ خدشہ ہے کہ مہندر کو قائدانہ حیثیت سے محروم ہونا پڑے۔

Facebook Comments