ناقص کارکردگی کا مظاہرہ، امپائر اشوکا ڈی سلوا سے اہم میچ واپس لے لیا گیا

عالمی کپ میں اپنے ناقص فیصلوں کےباعث شدید تنقید کا نشانہ بننے والے سری لنکن امپائر اشوکا ڈی سلوا کو انگلستان اور ویسٹ انڈیز کے خلاف اہم میچ کے لیے امپائرنگ کے فرائض انجام دینے سے روک دیا گیا ہے۔

اشوکا ڈی سلوا (فائل فوٹو)

اشوکاڈی سلوا عالمی کپ 2011ء کے مقابلوں میں امپائرنگ کے فرائض انجام دینے والے 18 امپائرز میں سے واحد امپائر ہیں جنہیں 50 فیصد سے زائد اپنے فیصلے نظر ثانی (ریویو) کے بعد واپس لینا پڑے۔

شیڈول کے مطابق انہیں انگلستان اور ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ کی امپائرنگ بھی کرنا تھی لیکن میچ کی اہمیت کے پیش نظر ان کی جگہ بروس اوکسنفرڈ کو یہ فریضہ سونپا گیا ہے۔

انگلستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان یہ معرکہ ان دونوں ٹیموں کے اگلے مرحلے تک پہنچنے کے لیے تو اہم ہے ہی لیکن بنگلہ دیش کی نظریں بھی اس میچ پر مرکوز ہیں کیونکہ اس میچ میں انگلستان کی شکست ان کی کوارٹر فائنل تک رسائی کو یقینی بنا سکتی ہے۔

تاہم بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بہانہ تراشتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امپائرز کے درمیان میچز کی از سر نو تقسیم کے سلسلے کا حصہ ہے کیونکہ آئی سی سی نہیں چاہتا کہ اس بہترین امپائرز، جیسا کہ ٹوفل، غیر اہم میچز میں کھڑے ہوں۔

آج (جمعرات کو) ہونے والے مذکورہ مقابلے میں سائمن ٹوفل تیسرے امپائر ہوں گے۔ بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیاناہم میچ میں سائمن ٹوفل اور اسٹیو ڈیوس آن فیلڈ جبکہ آکسنفرڈ تیسرےامپائر ہوں گے۔

واضح رہے کہ اشوکاڈی سلوا انتہائی ناقص کارکردگی کے باعث تنقید کی زد میں آئے ہیں خصوصا پاکستان اور کینیڈا کے درمیان ہونے والے میچ میں انہوں نے کئی غلط فیصلے دیے جن میں سے متعدد نظر ثانی کے نظام (ریویو سسٹم) کے تحت انہیں واپس بھی لینا پڑے۔ اس کے علاوہ ویسٹ انڈیز اور آئرلینڈ کے درمیان میچ کے دوران آئرش بلےباز گیری ولسن کو ایل بی ڈبلیو دینے کے ناقص فیصلے نے میچ کا نقشہ پلٹ دیا۔ بعد ازاں آئرش کپتان ولیم پورٹرفیلڈ نے علی الاعلان امپائر اشوکا ڈی سلوا پر تنقید کی۔

Facebook Comments