ہنسی کرونیے معاملے نے نیا رخ لے لیا، ایک گواہ بیان سے مکر گیا

میچ فکسنگ کے جس قضیے نے سب سے زیادہ شہرت پائی وہ جنوبی افریقہ کے ہنسی کرونیے کا معاملہ تھا، جس نے نہ صرف جنوبی افریقہ بلکہ دنیا بھر کے شائقین کرکٹ کو سخت صدمے سے دوچار کیا تھا۔ گو کہ کرونیے تو تاحیات پابندی کے کچھ عرصے بعد ایک پراسرار حادثے میں چل بسے، لیکن اب ان کا مقدمہ اک نیا موڑ اختیار کر رہا ہے، کیونکہ جن گواہوں کی بنیاد پر انہیں اتنی کڑی سزا دی گئی تھی، ان میں سے ایک نے یہ کہہ دیا ہے کہ اس نے وکیل کے کہنے پر تحقیقاتی کمیشن کے سامنے اپنی طرف سے تراشی گئی کہانی سنائی تھی، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔

کیا تازہ بیان میچ فکسنگ مقدمے کو دوبارہ کھول پائے گا؟ اور کیا ہنسی کرونیے پر لگا داغ بعد از وفات دھل پائے گا؟ (تصویر: AFP)

کیا تازہ بیان میچ فکسنگ مقدمے کو دوبارہ کھول پائے گا؟ اور کیا ہنسی کرونیے پر لگا داغ بعد از وفات دھل پائے گا؟ (تصویر: AFP)

ہنری ولیمز، جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ان دو کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہیں کرونیے نے فکسنگ پر آمادہ کیا تھا، نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے میچ فکسنگ معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ کنگ کمیشن کے سامنے جھوٹ بولا تھا جبکہ حقیقت یہ ہےکہ ہنسی کرونیے نے مجھ سے مذاق کیا تھا، اور ان سے میں نے کوئی رقم بھی وصول نہیں کی تھی۔

اس وقت کہا گیا تھا کہ بھارت کے خلاف ناگ پور میں ایک روزہ مقابلے سے قبل ہنسی کرونیے نے ہنری ولیمز کو کہا تھا کہ وہ اپنے 10 اوورز میں 50 سے زائد رنز دیں جبکہ دوسرے فریق بلے باز ہرشل گبز کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ 20 سے زیادہ رنز مت بنائیں۔ اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ دونوں کھلاڑیوں نے اپنا "وعدہ" پورا نہیں کیا، ہنری محض 11 گیندیں کرانے کے بعد کندھا زخمی کرا بیٹھے جبکہ گبز نے 74 رنز بنا ڈالے، کیونکہ بقول ان کے، انہیں پچ بلے بازی کے لیے بہت اچھی لگی اور انہوں نے بیٹنگ کا لطف اٹھانے کو زیادہ بہتر جانا۔

اپنے بیان کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ہنری ولیمز نے کہا کہ دراصل جب ہم نے اپنے وکلاء کو اصل کہانی بتائی تو انہوں نے ہمیں ڈرایا کہ اس کہانی کو بعینہ کمیشن کے روبرو بیان کر دیا گیا تو دونوں کو کڑی سزا مل سکتی ہے، اس لیے ہم نے تما م تر الزامات کرونیے کے سر دھر دیے اور وہ تاحیات پابندی کا نشانہ بن گئے جبکہ ہم دونوں کو چھ، چھ ماہ کی پابندی بھگتنا پڑی۔

دوسری جانب ہنری کے وکلاء، جنہوں نے اُس وقت مقدمےکی پیروی کی تھی، کا کہنا ہے کہ یہ سراسر بہتان ہے، اور اس میں رائی برابر بھی صداقت نہیں ہے۔ جبکہ کنگ کمیشن کے سیکرٹری جان بیکن کا کہنا ہے کہ جب تک ولیمز کی جانب سے تحریری صورت میں کچھ موصول نہیں ہوتا تحقیقات کا دوبارہ آغاز ممکن نہیں۔

مقدمے کے دوسرے کردار ہرشل گبز نے اس معاملے پر گفتگو کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ اس وقت بگ بیش لیگ کھیلنے کے لیے آسٹریلیا میں موجود ہیں اور پرتھ اسکارچرز کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

اگر یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر کھلا، تو ہو سکتا ہے کہ بڑے بڑے راز افشا ہوں۔ دیکھتے ہیں اب حالات کیا رخ لیتے ہیں؟

Facebook Comments