149 رنز، 16 وکٹیں، سری لنکا 2-1 سے آگے

گابا، برسبین میں موسم اور حالات گیند بازوں کےلیے اتنے مددگار ہوں گے؟ یہ تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ پورے میچ میں محض 47 اوورز پھینکے جا سکے جبکہ صرف 149 رنز بنے اور 16 وکٹیں گریں۔ آسٹریلیا نے جب ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا، اس نے کہاں تصور کیا ہوگا کہ وہ سری لنکا کے خلاف اپنے کم ترین اسکور پر ڈھیر ہوگا۔ وہ بھی اس صورت میں کہ ابتدائی دو مقابلوں میں ایک نسبتاً نوجوان اور کم تجربہ کار دستہ کھیلا اور آج مائیکل کلارک، ڈیوڈ وارنر اور میتھیو ویڈ ٹیم میں واپس آئے تھے، لیکن نووان کولاسیکرا اور پھر لاستھ مالنگا کے ہاتھوں آسٹریلیا کے بلے بازوں کی جو درگت بنی، وہ دنیا نے دیکھی۔ سرفہرست 8 میں سے ایک بلے باز بھی دہرے ہندسے میں داخل ہونے کا شرف تک حاصل نہ کر سکا اور آسٹریلیا حتمی لمحات میں مچل اسٹارک کے 22 اور زاویئر ڈوہرٹی کے 15 رنز کے بل بوتے پر 74 رنز پر پہنچا۔ جنہوں نے آسٹریلیا کو اپنی تاریخ کے کم ترین اسکور پر آؤٹ ہونے سے بچایا، جو بہت زیادہ ممکن نظر آتا تھا جب 40 رنز پر اس کی 9 وکٹیں گر چکی تھیں۔ لیکن ان دونوں کھلاڑیوں نے آخری وکٹ پر 34 رنز کا اضافہ کر کے آسٹریلیا کو ذلت سے بچا لیا۔ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں آسٹریلیا کا کم ترین اسکور 70 رنز ہے۔ دوسری جانب سری لنکا بھی لڑکھڑاتا، گرتا، پڑتا ہی ہدف تک پہنچا اور چھ وکٹیں گنوائیں، جبکہ متعدد بار قیمتی مواقع بھی ملے۔ اگر آسٹریلیا وہ مواقع نہ دیتا تو میچ مزید سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو جاتا۔

کولاسیکرا نے کیریئر میں پہلی بار 5 وکٹیں حاصل کیں اور سری لنکا کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا (تصویر: Getty Images)

کولاسیکرا نے کیریئر میں پہلی بار 5 وکٹیں حاصل کیں اور سری لنکا کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا (تصویر: Getty Images)

کولاسیکرا بلاشبہ سری لنکا کے ہیرو تھے، جنہوں نے ایک تاریخی اسپیل میں فلپ ہیوز، ڈیوڈ ہسی، جارج بیلی اور مائیکل کلارک کی وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلیا کے سیریز میں برتری حاصل کرنے کے خواب چکنا چور کر دیے۔ بعد ازاں انہوں نے موئسے اینریک کو بولڈ کر کے ایک روزہ کیریئر میں پہلی بار 5 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دی۔ انہوں نے 10 اوورز میں محض 22 رنز دے کر پانچ وکٹیں سمیٹیں۔

آسٹریلیا کے حال کا اندازہ لگائیے، وارنر 4، ہیوز 3، کلارک 9، ہسی 4، بیلی صفر، ویڈ 8، اینریک 2، جانسن 2 اور میک کے صفر۔ صرف آخری وکٹ کے دونوں بلے باز دہرے ہندسے میں پہنچے۔ اسٹارک نے 28 گیندوں پر 22 اور ڈوہرٹی نے 27 گیندوں پر 15 رنز بنائے۔

نوووان کی پانچ وکٹوں کے علاوہ مالنگا نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ ایک، ایک وکٹ اینجلو میتھیوز اور شامنڈا ایرنگا کو ملی۔

محض 75 رنز کے ہدف کا تعاقب سری لنکا کے لیے چہل قدمی جیسا ثابت نہیں ہوا، بلکہ سوئنگ گیند بازوں کے لیے مددگار کنڈیشنز میں آسٹریلین باؤلرز نے انہیں بھی ناکوں چنے چبوائے۔ پہلے ہی اوور میں مہیلا جے وردھنے کی وکٹ گنوانے کے بعد سری لنکا محض 37 رنز پر اپنی چار وکٹیں کھو چکا تھا۔ حریف قائد کلنٹ میک کے کے ہاتھ لگے جبکہ مچل جانسن نے اپنے دو مسلسل اوورز میں دلشان، تھریمانے اور میتھیوز کو ٹھکانے لگا کر ہلچل مچا دی۔

مائیکل کلارک ایک روزہ سیریز میں پہلی بار ایکشن میں نظر آئے، اور ٹیم بری طرح ناکام ہوئی (تصویر: AP)

مائیکل کلارک ایک روزہ سیریز میں پہلی بار ایکشن میں نظر آئے، اور ٹیم بری طرح ناکام ہوئی (تصویر: AP)

اگر آخری لمحات میں مچل جانسن اور ڈیوڈ وارنر دو وکٹیں گرانے کے قیمتی مواقع ضایع نہ کرتے تو ہو سکتا تھا کہ میچ کا نتیجہ کچھ اور ہوتا۔ جانسن نے 18 ویں اوور میں کوشال کو رن آؤٹ کرنے کا سنہری موقع گنوایا، جب درست ترین نشانہ مارنے کے لیے درکار تمام تر وقت میسر ہونے کے باوجود جانسن نان اسٹرائیکر اینڈ پر براہ راست تھرو نہ مار سکے اور انہیں زندگی مل گئی۔ اگلے ہی اوور میں جیون مینڈس کے بلے سے کنارہ لے کر فضاؤں میں بلند ہونے والی گیند پر ایک آسان کیچ ڈیوڈ وارنر کے ہاتھوں سے چھوٹا اور یوں آسٹریلیا کی میچ میں واپس آنے کی آخری امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔ عین ممکن تھا کہ اگر دو وکٹیں گر جاتیں تو میچ مزید سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوتا۔ 20 ویں اوور میں جیون کی وکٹ گرنے کے بعد کوشال نے اک خوبصورت شاٹ کے ذریعے گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھائی، اور سری لنکا کو سیریز میں برتری دلا دی۔ ان کے 22 رنز بہت قیمتی تھےکیونکہ یہ اس وقت بنائے گئے سری لنکا پے در پے وکٹیں گنوا رہا تھا۔ کوشال کے علاوہ دلشان نے بھی 22 رنز بنائے۔

آسٹریلیا کی جانب سے مچل جانسن نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دو وکٹیں اسٹارک اور ایک وکٹ میک کے کو ملی۔

نووان کولاسیکرا کو شاندار باؤلنگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اب دونوں ٹیمیں 20 جنوری کو سڈنی کے تاریخی میدان میں آمنے سامنے ہوں گی، جہاں آسٹریلیا کو سیریز میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے بہرصورت جیتنا ہوگا، ورنہ سری لنکا میچ کے ساتھ سیریز بھی جیت سکتا ہے۔ جو ٹیسٹ سیریز میں بدترین ناکامی کے بعد بلاشبہ اس کا ایک بڑا کارنامہ ہوگا۔

Facebook Comments