[ریکارڈز] ایک روزہ کے کم ترین اسکور

ٹیسٹ سیریز میں یکے بعد دیگرے بھاری فتوحات سمیٹنے کے بعد جیسے ہی فارمیٹ تبدیل ہوا، آسٹریلیا کے لیے معاملات اتنے آسان نہیں رہے۔ سری لنکا کے خلاف ابتدائی ایک روزہ میں تو شاندار کھیل پیش کر کے فتح سمیٹنے میں کامیاب رہا، لیکن دوسرے ایک روزہ میں بری طرح ہارنے کے بعد حالات اس کی گرفت میں نہیں رہے۔ بیشتر مبصرین نے اسے آسٹریلیا کے دستے سے مائیکل کلارک اور ڈیوڈ وارنر جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کا سبب قرار دیا اور یہی وجہ ہے کہ جب کچھ دنوں کے وقفے کے بعد آج گابا، برسبین میں دونوں ٹیمیں مدمقابل آئیں، تو آسٹریلیا اپنی بھرپور قوت کے ساتھ میدان میں اترا۔

یہ آسٹریلیا کی تاریخ کا تیسرا کم ترین مجموعہ تھا (تصویر: Getty Images)

یہ آسٹریلیا کی تاریخ کا تیسرا کم ترین مجموعہ تھا (تصویر: Getty Images)

میچ سے قبل جب دونوں کپتانوں نے وکٹ کو دیکھا، تو ان کا متفقہ خیال تھا کہ یہ بیٹنگ کے لیے بہت سازگار وکٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ لیکن برسبین کے موسم اور ہوا میں موجود نمی کا غلط اندازہ لگایا گیا۔ نتیجہ؟ محض 40 رنز پر آسٹریلیا کی 9 وکٹیں گر گئیں۔ کولاسیکرا میزبان ٹیم کے بلے بازوں پر قہر بن کر ٹوٹے اور ابتدائی 6 میں سے پانچ وکٹیں انہی کے نام رہیں۔ اگر مچل اسٹارک اور زاویئر ڈوہرٹی آخری وکٹ پر 34 رنز کا اضافہ نہ کرتے تو آسٹریلیااپنی تاریخ کےکم ترین مجموعے پر آؤٹ ہوتا۔ آسٹریلیا کا کم ترین اسکور 70 رنز ہے، جو اس نے 1977ء میں برمنگھم میں انگلستان اور 1986ء میں ایڈیلیڈ میں نیوزی لینڈ کے خلاف بنایا تھا۔ علاوہ ازیں یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ آسٹریلیا پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 100 سے کم رنز پر ڈھیر ہوا۔

آسٹریلیا نے محض 75 رنز کے دفاع میں سری لنکا کو سخت پریشانی میں مبتلا کر کے، مقابلے کو یکطرفہ ہونے سے تو بچا لیا، لیکن ریکارڈ بک میں جو کچھ اس کے لیے درج ہو چکا ہے، اس سے چھٹکارہ پانا آسان نہ ہوگا۔

بہرحال، یہ سری لنکا کے خلاف کسی بھی ایک روزہ مقابلے میں آسٹریلیا کا کم ترین اسکور رہا جبکہ مجموعی طور پر آسٹریلیا کی تاریخ کا تیسرا کم ترین مجموعہ۔ آسٹریلیا جو گزشتہ دو ڈھائی دہائیوں سے دنیائے کرکٹ کی سرفہرست ٹیموں میں شمار ہوتا ہے، جنوری 1986ء کے بعد پہلی بار اتنے کم مجموعے پر ڈھیر ہوا ہے جبکہ گزشتہ 26 سالوں میں یہ محض دوسرا موقع ہے جب آسٹریلیا 100 سے کم مجموعے پر ڈھیر ہوا۔

میچ کے دوران آسٹریلیا کی ابتدائی 9 وکٹیں محض 40 رنز پر گریں، اگر کمزور ٹیموں کو نکال دیا جائے اور محض سرفہرست 8 ٹیموں، یعنی بنگلہ دیش کو نکال کر باقی 8 ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیموں، کی بات کی جائے تو یہ محض دوسرا موقع ہوگا جب کوئی ٹیم 40 سے قبل ہی اپنی 9 وکٹیں گنوا چکی ہو۔ اس سے پہلے صرف پاکستان کو یہ "اعزاز" حاصل رہا ہے جو فروری 1993ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف محض 26 رنز پر اپنی 9 وکٹیں گنوا بیٹھا تھا۔ اس میچ میں پاکستان محض 43 رنز پر آل آؤٹ ہوا تھا، جو اس وقت ایک روزہ کرکٹ کا بدترین مجموعہ تھا۔ جبکہ آج بھی کسی بھی سرفہرست ٹیم کا سب سے کم اسکور بھی ہے۔

بہرحال، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بدترین کارکردگی کے بعد اب آئندہ دو مقابلوں میں آسٹریلیا کیا گل کھلاتا ہے؟ اگر وہ سیریز ہار گیا، تو اس کی روٹیشن پالیسی سخت تنقید کی زد میں آ جائے گی۔ جو پہلے ہی کئی ماہرین کی نظروں میں حالیہ شکستوں کی اہم وجہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 20 جنوری کو سڈنی میں ہونے والے چوتھے ایک روزہ کا کیا نتیجہ آتا ہے؟

ایک روزہ کرکٹ کے کم ترین مجموعے

ٹیم رنز کھیلے گئے اوورز بمقابلہ میدان تاریخ
زمبابوے 35 18.0 سری لنکا ہرارے 25 اپریل 2004ء
کینیڈا 36 18.4 سری لنکا پارل 19 فروری 2003ء
زمبابوے 38 15.4 سری لنکا کولمبو 8 دسمبر 2001ء
پاکستان 43 19.5 ویسٹ انڈیز کیپ ٹاؤن 25 فروری 1993ء
سری لنکا 43 20.1 جنوبی افریقہ پارل 11 جنوری 2012ء
زمبابوے 44 24.5 بنگلہ دیش چٹاگانگ 3 نومبر 2009ء
کینیڈا 45 40.3 انگلستان مانچسٹر 13 جون 1979ء
نمیبیا 45 14.0 آسٹریلیا پوچفیسٹروم 27 فروری 2003ء

Facebook Comments