پاکستان جنوبی افریقہ کو حیران کر سکتا ہے: ظہیر عباس

پاکستان کرکٹ ٹیم اک بہت ہی سخت مرحلے کے لیے جنوبی افریقہ روانہ ہو چکی ہے، جہاں وہ عالمی نمبر ایک کے خلاف اسی کی سرزمین پر تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلے گی۔ پاکستان یہاں کھیلے گئے گزشہ 9 میں سے 6 میچز ہار چکا ہے اور اس سیریز میں بھی فتح کی کچھ بہت زیادہ توقعات پاکستان سے وابستہ نہیں، البتہ یہ ایک متوازن ٹیم کی ضرور ہے، خصوصاً روایتی حریف بھارت کے خلاف تاریخی فتوحات نے اس کے اعتماد میں بہت اضافہ کیا ہوگا۔

پاکستان جنوبی افریقہ کے خلاف گزشتہ 9 میں سے 6 ٹیسٹ میچز ہارا ہے (تصویر: Getty Images)

پاکستان جنوبی افریقہ کے خلاف گزشتہ 9 میں سے 6 ٹیسٹ میچز ہارا ہے (تصویر: Getty Images)

یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سابق کپتان و عظیم بلے باز ظہیر عباس کہتے ہیں کہ گو کہ جنوبی افریقہ ٹیسٹ سیریز کےلیے فیورٹ ہے، لیکن اگر پاکستان نے ڈیل اسٹین اور ہمنواؤں کا دباؤ سہہ لیا تو وہ میزبان کو حیران کر سکتا ہے۔ پاکستانی بلے بازوں کے لیے یہ ٹیسٹ سیریز بہت مشکل ہوگی کیونکہ جنوبی افریقہ میں حالات و موسم بالکل نامانوس ہیں اور انہیں وہاں کی وکٹوں پر موجود اضافی اچھال (باؤنس) کا بہت جلد عادی بننا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیریز میں پاکستان کا تمام تر انحصار ابتدائی بلے بازوں کی کارکردگی پر ہوگا کہ وہ یقینی بنائیں کہ پاکستان کی باصلاحیت باؤلنگ کے پاس دفاع کے لیے معقول اسکور موجود رہے۔

معروف کرکٹ ویب سائٹ پاک پیشن ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ظہیر عباس نے جوہانسبرگ میں پہلے ٹیسٹ سے قبل وارم اپ میچز کی تعداد کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پاکستان صرف ایک 4 روزہ مقابلہ کھیلے گا، جس کے بعد اسے وینڈررز اسٹیڈیم میں عالمی نمبر ایک کا سامنا کرنا ہوگا۔ ظہیر نے کہا کہ "ابتدائی ٹیسٹ سے قبل صرف ایک 4 روزہ مقابلہ کافی نہیں، خصوصاً اس صورت میں کہ پاکستان کے لیے حالات بالکل اجنبی ہوں گے اور پاکستان نے گزشتہ چند ماہ میں کوئی ٹیسٹ میچ بھی نہیں کھیلا۔ انہیں پہلے ٹیسٹ سے قبل کم از کم دو یا تین وارم اپ میچز کھیلنے چاہیے تھے تاکہ وہ پہلے ٹیسٹ کے لیے کچھ تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں، لیکن اب کیونکہ ایسا نہیں اس لیے پاکستانی بلے بازوں کے لیے اتنی مختصر سی تیاری بہت بڑا امتحان کھڑا کر سکتی ہے۔"

جنوبی افریقہ میں پاکستانی بلے بازوں کو درپیش ممکنہ تکنیکی چیلنجز کے بارے میں ظہیر عباس نے کہا کہ سب سے بنیادی چیز یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کون سی گیند کو چھوڑنا ہے، اور کس گیند پر ہک شاٹ کھیلنا ہے یا نہیں کھیلنا۔ جنوبی افریقہ کا تجربہ کار تیز باؤلنگ اٹیک باؤنسرز کے ذریعے پاکستان کے بلے بازوں کو سخت امتحان میں ڈالے گا۔ یہ ہر پاکستانی بلے باز کے لیے یہ چیلنج ہوگا کہ وہ پہلے سے فیصلہ کرے کہ اس نے شارٹ گیندوں کو کس طرح کھیلنا ہے اور پھر اس فیصلے پر ثابت قدم بھی رہے۔ اگر پاکستانی بلے باز تذبذب میں مبتلا ہوئے اور شارٹ پچ گیندوں کے حوالے سے بروقت فیصلہ نہ کر پائے تو انہیں سخت مشکل سے دوچار ہونا پڑے گا۔ میرا مشورہ یہی ہوگا کہ وہ ٹیسٹ سیریز سے قبل ایک منصوبہ بنائیں اور پھر اس پر جمے رہیں۔"

انہوں نے کہا کہ "اسٹین، مورکل اور فلینڈر پر مشتمل زبردست باؤلنگ لائن اپ پاکستانی بلے بازوں کو آسانی سے رنز بھی نہیں لینے دے گی۔" ظہیر نے مزید کہا کہ "ایک اور چیز جس پر پاکستانی بلے بازوں کو توجہ دینا ہوگی ، وہ یہ ہے کہ کریز پر ضرور جمے رہیں اور اپنے قیام کو طویل سے طویل تر کرنے کی کوشش کریں، لیکن حد سے زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت نہیں، مثبت رویہ رکھیں اور جب بھی موقع ملے اپنے شاٹس کھیلیں۔ پاکستان کو رنز بنانے کے ہر موقع کا فائدہ لازماً اٹھانا ہوگا، لیکن اگر وہ اپنے خول میں بند ہو گئے تو وہ مزید مشکلات سے دوچار ہو جائیں گے۔"

ایشین بریڈمین کے طور پر مشہور رہنے والے ظہیر عباس نے کہا کہ پاکستانی بیٹنگ لائن اپ بنیادی سہارا مصباح الحق، یونس خان اور محمد حفیظ کی مثلث ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان کی جانب سے چھ سرفہرست و مستحکم بلے بازوں کو ایک سخت سیریز کے لیے جاتے دیکھنا ایک حوصلہ افزا منظر تھااور وہاں تمام ہی بلے بازوں کا اہم کردار ہے۔ لیکن حفیظ، مصباح اور یونس کو ذمہ داری سنبھالنا ہوگی اور طویل اننگز کھیلنا ہوں گی۔ یہ وہ سیریز نہيں جہاں 30یا 40 بنانے والے بلے باز چلیں، بلکہ یہاں بڑی سنچریوں کی ضرورت ہے اور جس ٹیم کے بلے باز سنچریاں بنائیں گے وہ بالآخر فاتح ہوگی۔"

ظہیر عباس نے بھارت میں پاکستان کی حالیہ جیت کو پاکستان کے مثبت ذہن، مکمل بھروسے اور خود اعتمادی کے ساتھ جنوبی افریقہ آمد کا سبب قرار دیا۔ "گو کہ ٹیسٹ کرکٹ ایک مختلف طرز کی کرکٹ ہے لیکن جنوبی افریقہ میں ٹیسٹ کھیلنے والے بیشتر کھلاڑی وہ ہیں جو بھارت میں ایک روزہ سیریز جیتنے والے دستے کا حصہ تھے اور اس جیت نے ان کے حوصلوں میں ضرور اضافہ کیا ہوگا۔" انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل بھارت میں 2-1 کی جیت جوش و جذبے میں اضافے کا سبب بنی ہوگی اور میں امید کرتا ہوں کہ پاکستانی اسی جذبے کے ساتھ جنوبی افریقہ میں بھی کارکردگی دکھائے گا۔

ظہیر عباس نے کہا کہ اگر پاکستان اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کھیلا تو وہ جنوبی افریقہ کو حیرت میں مبتلا کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے بلے بازوں کو بڑے اسکور بنانے ہوں گے۔ پاکستان دنیا کی بہترین ٹیسٹ ٹیموں میں سے ایک ہے اور مجھے امید ہے کہ جنوبی افریقہ میں وہ اچھی کارکردگی دکھائے گا۔

Facebook Comments