ابھی سر منڈایا نہیں کہ اولے بھی پڑنے شروع ہو گئے

پاکستان سپر لیگ گو کہ ابھی بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے، اور اس کی منصوبہ بندی کے دن گزر رہے ہیں لیکن انگلستان کے کان ابھی سے کھڑے ہو گئے ہیں اور اس نے اپنے تمام کھلاڑیوں کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں حالات کرکٹ کے لیے سازگار نہیں اس لیے کوئی کھلاڑی وہاں کھیلنے نہیں جائے گا۔

خدشہ ہے کہ اگر لیگ پاکستان میں منعقد ہوئی تو غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہوگی

خدشہ ہے کہ اگر لیگ پاکستان میں منعقد ہوئی تو غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہوگی

ممکنہ طور پر رواں سال 26 مارچ سے شروع ہونے والی سپر لیگ میں متعدد غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت بھی متوقع ہے اور 100 ملین ڈالرز کے ابتدائی تخمینے کے اعلان کے باعث لگتا ہے کہ چند بہت اچھے نام اس میں شریک ہوں گے لیکن انگلستان کے کھلاڑیوں کی یونین پروفیشنل کرکٹ ایسوسی ایشن (پی سی اے) نے ملک کی ہر کاؤنٹی سے رابطہ کر کے انہیں ہدایت جاری کی ہے کہ اگر کوئی بھی کھلاڑی پی ایس ایل میں شریک ہونے لگے تو اس کو اجازت نامہ (این او سی) جاری نہ کریں۔

برطانوی اخبار میل آن سنڈے سے گفتگو کرتے ہوئے پی سی اے کے چیف ایگزیکٹو ایگنس پورٹر نے کہا کہ ہمارا کھلاڑیوں کو مشورہ ہے کہ وہ پی ایس ایل میں حصہ نہ لیں۔ مجھے یقین ہے کہ انگلستان مرکزی معاہدے کے حامل کھلاڑیوں کو اجازت نامے جاری نہیں کرے گا۔

گو کہ ابھی پاکستانی لیگ کے لیے بہت سارے معاملات طے ہونا باقی ہیں، بلکہ ابھی تو اس امر کا فیصلہ ہونا بھی باقی ہے کہ آیا کہ پاکستان ہی میں ہوگی یا متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں کھیلی جائے گی لیکن کھلاڑیوں کی انجمنوں کی جانب سے ویسے ہی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں جیسا کہ وہ ہمیشہ کرتے آئے ہیں۔ پی سی اے ماضی میں بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کھیلنے سے بھی کھلاڑیوں کو منع کر چکا ہے، جس کے اسباب غالباً ادائیگی کے معاملات ہیں۔ اس کے علاوہ فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن (فیکا) بھی بی پی ایل پر انگلی اٹھا چکا ہے۔

لیکن اب یہ واضح نظر آتا ہے کہ جیسے جیسے پاکستان سپر لیگ کے خاکے میں رنگ بھرتا جائے گا، اور یہ ایک تصور سے بڑھ کر ایک عملی قدم کی صورت میں نظر آئے گا، ایسے مزید معاملات سامنے آتے رہیں گے۔ البتہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر پاکستان نے بہرصورت لیگ کو ملک ہی میں منقد کرنے کا فیصلہ کیا تو موجودہ کرکٹ کے بیشتر کھلاڑی تو اس میں شرکت نہیں کریں گے، ہاں ایسے کھلاڑی ہو سکتا ہے آ جائیں جن کا بین الاقوامی کیریئر اپنے اختتام کو پہنچ چکا یا لب گور ہے۔

آپ کیا سمجھتے ہیں، کیا مجوزہ پاکستان سپر لیگ میں غیر ملکی کھلاڑی شریک ہوں گے؟ خصوصاً وہ جو اس وقت مختلف بین الاقوامی ٹیموں میں کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

Facebook Comments