پانچ رن آؤٹ، نیوزی لینڈ کی ناقابل یقین سیریز جیت

ٹیسٹ سیریز میں بدترین شکست کے بعد کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگاکہ نیوزی لینڈ جنوبی افریقہ جیسی ٹیم کو ایک روزہ سیریز میں پچھاڑ دے گا؟ لیکن دوسرے ایک روزہ میں کین ولیم سن کی زبردست سنچری اور بعد ازاں شاندار فیلڈنگ کے باعث نیوزی لینڈ 27 رنز سے میچ جیت کر سیریز 2-0 سے جیت گیا اور پاکستان کو سکھ کا ایک طویل سانس دے گیا، جو اس وقت دم بخود حالت میں جنوبی افریقی سرزمین پر موجود ہے اور انتظار کر رہا ہے یکم فروری کا کہ جب اس کا مقابلہ جوہانسبرگ میں عالمی نمبر ایک جنوبی افریقہ سے ہوگا۔

کین ولیم سن کی 145 رنز کی ریکارڈ اننگز نے نیوزی لینڈ کی فتح کی بنیاد رکھی (تصویر: AP)

کین ولیم سن کی 145 رنز کی ریکارڈ اننگز نے نیوزی لینڈ کی فتح کی بنیاد رکھی (تصویر: AP)

کمبرلے کے ڈی بیئرز ڈائمنڈ اوول میں کھیلے گئے ایک روزہ سیریز کے دوسرے مقابلے میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا اور 32 رنز پر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے کسی حد تک اس فیصلے کو درست بھی ثابت کر دکھایا۔ ابراہم ڈی ولیئرز کی جگہ قیادت کے فرائض ٹی ٹوئنٹی کپتان فف دو پلیسی انجام دے رہے تھے۔ لیکن اس جگہ پر کین ولیم سن اور گرانٹ ایلیٹ کے درمیان 127 رنز کی رفاقت نیوزی لینڈ کو مقابلے میں واپس لے آئی۔ ایلیٹ بدقسمتی سے اپنی پانچویں نصف سنچری مکمل نہ کر سکے اور 48 رنز بنانے کے بعد روری کلین ویلٹ کی دوسری وکٹ بن گئے۔

اس موقع پر جب نیوزی لینڈ کو بنیاد پر مستحکم مجموعہ اکٹھا کرنے کی ضرورت تھی، ایک اینڈ تو مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ برینڈن میک کولم 17، کولن منرو 9، گزشتہ میچ کے ہیرو جیمز فرینکلن صفر، جمی نیشام 5 اور ناتھن میک کولم 19 رنز پر آؤٹ ہوئے لیکن دوسرے اینڈ سے ولیم سن پہاڑ کی طرح جمے رہے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف نیوزی لینڈ کے کسی بھی بلے باز کا سب سے بہترین اسکور بنایا۔ وہ 136 گیندوں پر 17 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 145 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے اور 50 اوورز کی تکمیل پر نیوزی لینڈ کے اسکور کو 8 وکٹوں پر 279 رنز کے مجموعے تک پہنچایا۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے مورنے مورکل نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں لیکن اس کے لیے انہیں 71 رنز کھانا پڑے۔ لونوابو سوٹسوبے اور کلین ویلٹ نے نسبتاً عمدہ باؤلنگ کی اور بالترتیب 38 اور 45 رنز دے کر دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔

280 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کا آغاز بہت شاندار تھا۔ 38 رنز پر کوئنٹن ڈی کوک کی وکٹ کھونے کے باوجود 30 اوورز تک وہ با آسانی ہدف تک پہنچنے کے قابل دکھائی دیتا تھا۔ دوسری وکٹ پر گریم اسمتھ اور کولن انگرام کے درمیان 129 رنز کی رفاقت نے گویا فتح کی بنیاد رکھ دی تھی لیکن پھر رن آؤٹس کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا۔ سب سے پہلے گریم اسمتھ 66 رنز بنانے کے بعد جیمز فرینکلن کی خوبصورت تھرو پر تیسرا رن لینے کی ناکام کوشش میں رن آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے سب سے زیادہ 79 رنز بنائے۔ کچھ ہی دیر بعد ناتھن میک کولم نے فف دو پلیسی کو رن آؤٹ کر کے جنوبی افریقہ کو دوسرا دھچکا پہنچایا اور رہی سہی کسر انہوں نے کولن انگرام کو کیچ آؤٹ کر اکے پوری کر دی۔ محض 13 رنز کے اضافے سے جنوبی افریقہ کی تین قیمتی وکٹیں گر چکی تھیں اور یہیں سے نیوزی لینڈ مقابلے میں واپس آ گیا۔

جنوبی افریقہ کی آخری 9 وکٹیں محض 85 رنز کے اضافے سے گریں (تصویر: AP)

جنوبی افریقہ کی آخری 9 وکٹیں محض 85 رنز کے اضافے سے گریں (تصویر: AP)

ڈیوڈ ملر اور فرحان بہاردین نے مقابلے کو بچانے کی آخری کوشش کی لیکن 31 رنز کے اضافے کے بعد ان کی ہمت بھی جواب دے گئی، کیونکہ درکار رن اوسط بہت تیزی سے بڑھتا جا رہا تھا۔ سب سے پہلے ڈیوڈ ملر ناتھن میک کولم کے دوسرے رن آؤٹ بنے۔ جس کے بعد راین میک لارن فرینکلن کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ اگلے اوور میں کلین ویلٹ بھی رن آؤٹ ہوئے اور اس کے بھی اگلے یعنی اننگز کے 46 ویں اوور میں بہار دین بھی آؤٹ ہو گئے، جی ہاں، رن آؤٹ! 31 رنز کے انفرادی اسکور پر ان کے آؤٹ ہونے کے نتیجے میں رن آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں کی تعداد کو 5 تک پہنچ گئی اور نیوزی لینڈکی فتح بھی یقینی ہو گئی۔ آخری اوور کی پہلی گیند پر نیشام نے سوٹسوبے کو بولڈ کر کے جنوبی افریقی اننگز کی بساط 252 رنز پر لپیٹ دی اور نیوزی لینڈ کو تاریخی فتح سے ہمکنار کر دیا۔

نیوزی لینڈ نے کسی ایک روزہ مقابلے میں سب سے زیادہ رن آؤٹ کا ریکارڈ بھی برابر کیا اور فیلڈنگ کے اسی کمال کے باعث جنوبی افریقہ کی آخری9 وکٹیں محض 85 رنز کے اضافے سے گریں۔

یہ جنوبی افریقہ کے خلاف نیوزی لینڈکی کسی بھی طرز کی کرکٹ میں پہلی سیریز فتح تھی اور یوں ٹیسٹ سیریز میں بدترین ناکامی کا داغ بھی کسی حد تک دھو دیا ہے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے رن آؤٹ کے علاوہ باقی پانچ وکٹوں میں سے دو کائل ملز کو ملیں جبکہ ناتھن میک کولم، فرینکلن اور نیشام نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

اس شکست کے ساتھ ہی جنوبی افریقہ میں قیادت کا بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔ گو کہ فوری طور پر قیادت کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں لیکن اگر پاکستان کے خلاف سیریز میں خاطر خواہ نتائج نہ ملے تو بحران جنم لے سکتا ہے خصوصاً ابراہم ڈی ولیئرز کی قائدانہ صلاحیتوں پر تو ویسے ہی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ بہرحال، سیریز کا ابھی آخری مقابلہ باقی ہے جو 25 جنوری کو پوچفسٹروم میں کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments