بھارت سیریز جیت گیا، نمبر ون پوزیشن مضبوط

سریش رینا اور روہیت شرما کی طوفانی بلے بازی اور انگلش فیلڈرز کی فیاضی نے بھارت کو نہ صرف سیریز جتوا دی بلکہ ایک روزہ میں عالمی نمبر ایک پوزیشن کو بھی مستحکم بنا ڈالا۔ ٹیسٹ سیریز میں مایوس کن شکست اور اس کے بعد روایتی حریف پاکستان کے خلاف ایک روزہ سیریز میں بری طرح ہار کے بعد یہ جیت، اور 'سونے پہ سہاگہ' عالمی نمبر ایک پوزیشن، بھارت کے لیے حوصلہ افزاء بھی ہوگی اور کپتان مہندر سنگھ دھونی کی قیادت پر اٹھنے والے سوالات کا جواب بھی۔

سریش رینا کی 89 رنز کی ناقابل شکست اننگز نے بھارت کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا (تصویر: BCCI)

سریش رینا کی 89 رنز کی ناقابل شکست اننگز نے بھارت کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا (تصویر: BCCI)

چندی گڑھ کے اس میدان پر جہاں 2011ء میں بھارت نے روایتی حریف پاکستان کو زیر کر کے عالمی کپ کے فائنل میں جگہ پائی تھی، بھارت بغیر کسی جدوجہد کے 258 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتا رہا اور کوئی مہمان گیند باز ان کی راہ دیکھتا نہ دکھائی دیا، اور نہ ہی فیلڈر۔ پے در پے ناکامیو ں کے شکار گوتم گمبھیر کو ابتداء ہی میں گنوانے، بلکہ امپائر کے غلط فیصلے کے ہتھے چڑھنے، اور پھر تہرے ہندسے میں پہنچنے سے قبل ویراٹ کوہلی اور یووراج سنگھ کی قیمتی وکٹیں گر جانے کے بعد روہیت شرما اور سریش رینا نے جس طرح اننگز کو سنبھالا دیا، اس نے ثابت کیا کہ کم از کم روہیت کے حوالے سے ماہرین کے خدشات بہت حد تک درست نہیں۔ مسلسل ناکامی کے بعد آج انہیں کپتان دھونی نے اوپنر کی حیثیت سے بھیجا اور انہوں نے قائد کے اس فیصلے کو درست ثابت کر دکھایا۔ وہ بدقسمتی سے اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے اور ایک چھکے اور 11 چوکوں سے مزین اور 93 گیندوں پر محیط 83 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد اسٹیون فن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ انہیں محض 12 رنز پر کیون پیٹرسن کے کیچ چھوڑنے کی وجہ سے زندگی ملی تھی، جو بعد ازاں بہت قیمتی ثابت ہوئی۔

روہیت کے آؤٹ ہونے کے بعد جب بھارت ہدف سے محض 100 رنز کے فاصلے پر تھا تو انگلستان کو مقابلے میں واپس آنے کے لیے فوری طور پر دو تین مزید وکٹیں گرانے کی ضرورت تھی، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔ جب مہندر سنگھ دھونی کی شکل میں اگلی وکٹ اسے ملی تو بھارت فتح سے محض 45 رنز دور تھا۔

فن کی غلطی کی انگلستان کو بھاری قیمت بھگتنا پڑی، کیونکہ جس گیند پر سریش رینا آؤٹ تھے، وہ باؤلنگ کراتے ہوئے بیلز گرانے  کے باعث ڈیڈ بال قرار دے دی گئی (تصویر: BCCI)

فن کی غلطی کی انگلستان کو بھاری قیمت بھگتنا پڑی، کیونکہ جس گیند پر سریش رینا آؤٹ تھے، وہ باؤلنگ کراتے ہوئے بیلز گرانے کے باعث ڈیڈ بال قرار دے دی گئی (تصویر: BCCI)

اس سے پہلے بھارت کو اس وقت بہت قیمتی موقع ملا تھا، جب اسٹیون فن کو باؤلنگ پھینکتے ہوئے وکٹوں کو چھونے کی عادت بہت مہنگی پڑ گئی۔ جو قارئین اسٹیون فن کو باؤلنگ کرتا دیکھتے ہیں، انہیں معلوم ہوگا کہ فن وکٹوں کے بہت قریب سے گیند کراتے ہیں اور اکثر و بیشتر ان کے قدم یا گھٹنا باؤلنگ اینڈ پر موجود وکٹوں کو چھو جاتا ہے، جس سے بیلز گر جاتی ہیں۔ اس پر وہ کئی مرتبہ امپائروں کی جانب سے تنبیہ حاصل کر چکے ہیں لیکن آج تو ان کی اس غلطی کی سزا انگلستان کو بھگتنا پڑی۔ ہوا یوں کہ جب بھارت کو جیت کےلیے مزید 80 رنز کی ضرورت تھی تو فن، حسب عادت، باؤلنگ پھینکتے ہوئے اپنا گھٹنا باؤلنگ اینڈ کی وکٹوں سے ٹکرا بیٹھے اور گیند نکلنے کے بعد رینا کے بلے کا کنارہ لیتی ہوئی پہلی سلپ میں کپتان ایلسٹر کک کے ہاتھوں میں جا پہنچی۔ لیکن ۔۔۔۔۔ امپائر اسٹیو ڈیوس نے گیند کو ڈیڈ بال قرار دیا، یہ کہہ کرکہ کرکٹ قوانین کے تحت گیند بلے باز تک پہنچنے سے قبل کوئی چیز اس کی توجہ کو نہ ہٹائے اور فن کی جانب سے وکٹوں کا گرانا رینا کی توجہ ہٹانے کا سبب بنا، اس لیے قانون کے تحت یہ ڈیڈ بال ہے۔ فن اور کی التجائیں اور وضاحتیں سب بیکار گئیں اور انگلستان نازک موقع پر اہم ترین وکٹ سے محروم ہو گیا، بلکہ ایک طرح سے یہیں سے مقابلے سے باہر ہو گیا کیونکہ بعد ازاں سریش رینا کی طوفانی اننگز نے بھارت کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 41 رنز پر یہ زندگی ملنے کے بعد انہوں نے ایک چھکے اور 9 چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست 89 رنز بنائے اور بھارت کو 48 ویں اوور میں 5 وکٹوں کی جیت سے ہمکنار کیا۔

اس بدقسمتی کے باوجود انگلستان کی جانب سے صرف اسٹیون فن ہی کچھ باؤلنگ کے جوہر دکھا سکے جنہوں نے 10 اوورز میں صرف 39 رنز دیے اور ایک وکٹ بھی حاصل کی جبکہ ٹریڈویل نے 54 رنز دے کر 2 اور ٹم بریسنن اور جیڈ ڈرنباخ نے 59،59 رنز دے کر ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

قبل ازیں بھارت نے ٹاس جیت کر انگلستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی جو دوسری وکٹ پر ایلسٹر کک اور کیون پیٹرسن کے درمیان 95 رنز کے شراکت کے نتیجے میں کچھ وکٹیں بچانے میں تو کامیاب ہو گیا لیکن اس میں انہوں نے 31 اوورز بتا دیے۔ یوں کم ہوتے اوورز، امپائر کے ناقص فیصلے کے باعث کک کی واپسی اور ایون مورگن اور سمیت پٹیل کی ناکامی نے انگلستان کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ گو کہ کیون پیٹرسن نے کپتان کک کی طرح 76 رنز ہی کی قیمتی اننگز کھیلی، لیکن اوورز بہت زیادہ ضایع ہو جانے کے بعد انگلستان اسکور بورڈ پر 257 رنز ہی اکٹھے کر پایا۔ آخری لمحات میں جو روٹ کی 45 گیندوں پر 57 رنز کی جراتمندانہ اننگز نے انگلستان کو اس مجموعے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن یہ امر تو طے شدہ تھا کہ انگلستان 'محفوظ مقام' تک نہیں پہنچا تھا اور اب یہ باؤلرز پر منحصر تھا کہ وہ بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ کو سخت مشکلات سے دوچار کریں۔ جس میں وہ ناکام رہے اور انگلستان مقابلہ ہار بیٹھا۔

بہرحال، بھارت کی جانب سے رویندر جدیجا نے 3 جبکہ ایشانت شرما اور روی چندر آشون نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔

سریش رینا کو 89 رنز کی ناقابل شکست اننگز پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

بھارت 3-1 کی برتری کے ساتھ سیریز تو جیت چکا ہے لیکن ابھی ایک مقابلہ باقی ہے جو 27 جنوری کو بھارت کے خوبصورت ترین میدان ہماچل پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن اسٹیڈیم، دھرم شالہ میں کھیلا جائے گا۔

Facebook Comments