[آج کا دن] دنیائے ٹیسٹ میں 'پہلے ڈبلیو' کی آمد

18 سال کا لڑکا جس کے پاس پہلا ٹیسٹ کھیلنے سے پہلے موزوں جوتے بھی نہ تھے، کون جانتا تھا کہ دنیائے کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین باؤلرز میں شمار ہوگا؟ وسیم اکرم، جس کے نام سے دنیا کے بہترین بلے باز بھی کانپتے تھے، نے 1985ء میں آج ہی کے دن اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا۔

وسیم اکرم کے پاس پہلا ٹیسٹ کھیلتے ہوئے مناسب جوتے بھی نہ تھے، لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (تصویر: Getty Images)

وسیم اکرم کے پاس پہلا ٹیسٹ کھیلتے ہوئے مناسب جوتے بھی نہ تھے، لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (تصویر: Getty Images)

نیوزی لینڈ کا وہ دورہ، جس میں وسیم قومی ٹیم کے ہمراہ گئے، نتائج کے لحاظ سے تو پاکستان کے لیے مکمل طور پر مایوس کن رہا لیکن اس دورے نے پاکستان کو ایک گیند باز ضرور نوازا۔ وسیم نے آکلینڈ میں شروع ہونے والے سیریز کے دوسرے ٹیسٹ سے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز کیا۔ یہ مقابلہ نہ صرف خود وسیم بلکہ پاکستان کے لیے اچھا ثابت نہ ہوا۔ وسیم نے دونوں اننگز میں صرف 7 رنز بنائے اور نیوزی لینڈ کی واحد اننگز میں دو وکٹیں ہی حاصل کرپائے اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو ایک اننگز اور 99 رنز کی بدترین شکست ہوئی۔

لیکن، مایوسی کے اس عالم میں اک عظیم ٹیسٹ کیریئر کا آغاز ہو چکا تھا۔ وسیم اکرم نے ڈنیڈن میں کھیلے گئے سیریز کے آخری مقابلے میں 10 وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کو فتح کے کنارے پر لے آئے لیکن مارٹن کرو اور جیریمی کونی کی یادگار شراکت مقابلہ اور سیریز پاکستان کے لے گئی۔ اس مقابلے کا احوال تو آئندہ دنوں میں پیش کریں گے ہی، لیکن ہم وسیم اکرم کا خصوصی ذکر ابھی کرنا چاہیں گے، جنہوں نے دوسرے ہی ٹیسٹ میں میزبان بلے بازوں کو تگنی کا ناچ نچا دیا۔ میچ کے دوران وسیم کا ایک باؤنسر سیدھا لانس کیرنز کے سر پر لگا، جنہوں نے بغیر ہیلمٹ کے میدان میں اترنے کی بھیانک غلطی کی سزا بھگتی۔ انہیں نازک حالت میں میدان سے باہر لے جایا گیا اور بعد ازاں کھوپڑی میں فریکچر کی تصدیق بھی ہوئی۔ لانس کیرنز کئی روز تک ہسپتال ہی میں پڑے رہے، دوبارہ میچ نہ کھیل سکے۔

وسیم اکرم نے اپنے پہلے بین الاقوامی دورے میں ہی 19.41 کے زبردست اوسط سے 12 وکٹیں حاصل کیں اور ایک مقابلے میں میچ کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے۔ پاکستان ناقص بلے بازی کے باعث مقابلہ اور سیریز تو ہار گیا لیکن پھر وسیم اکرم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

بین الاقوامی منظرنامے پر اپنی آمد کا اعلان تو پہلے دورے ہی میں کر چکے تھے، اور پھر آنے والے سال اپنی حیثیت کو مستحکم کرنے میں گزارے۔ عمران خان جیسے عظیم قائد اور باؤلر کے زیر نگیں وسیم اکرم آگے بڑھتے چلے گئے، یہاں تک کہ 1989ء میں انہیں ایسا ساتھی میسر آیا، جن کی دہشت سے دنیا کا ہر بلے باز دہشت زدہ تھا یعنی وقار یونس۔ ان دونوں کے میدان میں آتے ہی پاکستان فتوحات کے ایک عظیم سفر پر نکل پڑا جس کی معراج عالمی کپ 1992ء کی جیت تھی۔

درحقیقت وسیم اکرم کے حقیقی عروج کا سفر بھی وقار یونس کی آمد کے بعد ہی شروع ہوا۔ وسیم اور وقار کی جوڑی، جنہیں 'Two Ws' کہا جاتا تھا، نے مجموعی طور پر 61 ٹیسٹ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور وقار کا ساتھ ان کے لیے کتنی اہمیت کا حامل تھا اس کا اندازہ اعدادوشمار ہی سے ہو جاتا ہے کہ جن مقابلوں میں وقار وسیم ساتھ تھے ان میں وسیم اکرم کا اوسط 21.33 تھا جبکہ وہ 43 مقابلے جن میں وقار یونس ان کے ساتھ نہیں کھیلے تھے ان کا اوسط 28.50 ہوا۔

یہ کرکٹ کی تاریخ کے بہترین تیز باؤلرز کا دورہ تھا۔ پاکستان کے پاس وقار یونس بھی تھے تو آسٹریلیا کو گلین میک گرا کی خدمات حاصل تھیں جبکہ ویسٹ انڈیز کرٹلی ایمبروز اور جنوبی افریقہ ایلن ڈونلڈ کے ذریعے فتوحات سمیٹتا تھا۔ لیکن ان تمام گیندبازوں میں وسیم اکرم کا مذکورہ بالا اوسط سب سے بہترین تھا۔

گو کہ ابتدائی ایام میں وسیم اکرم کی چند یادگار کارکردگیاں پاکستان کو فتح سے ہمکنار نہ کر سکیں لیکن اس کے بعد وسیم اک میچ ونر کھلاڑی میں بدل گئے۔ ان کے کیریئر میں پاکستان نے 41 ٹیسٹ میچز جیتے اور وسیم نے ان مقابلوں میں 18.48 کے کمال اوسط سے 211 وکٹیں حاصل کیں۔ جس میں 13 مرتبہ اننگز میں پانچ اور 2 مرتبہ میچ میں دس یا زائد وکٹیں شامل تھی۔

ہم ذیل میں وسیم اکرم کی چند یادگار ٹیسٹ کارکردگیوں کے حوالے سے کرک نامہ کی جانب سے پیش کی گئی تحاریر کے لنکس پیش کر رہے ہیں:

وسیم اکرم کی آمد کا حقیقی اعلان، دوسرا ٹیسٹ

وسیم اور وقار بلے بازوں کے لیے دہشت کا سامان

دنیائے کرکٹ پر پاکستان کی حکمرانی کا آغاز

وسیم اکرم کا فتح گر چھکا

وسیم اکرم کی ڈبل سنچری

Facebook Comments