[خصوصی] دنیا کے خوبصورت ترین کرکٹ میدان

بھارت اور انگلستان کے درمیان ایک روزہ سیریز کا پانچواں و آخری مقابلہ کل دھرم شالہ کے ہماچل پردیش کرکٹ ایسوسی ایشن (ایچ پی سی اے) اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جو بین الاقوامی میدانوں کی فہرست میں درجہ پانے پر شہر کے لیے تو اہمیت رکھتا ہی ہے لیکن یہ دنیا کے خوبصورت ترین میدانوں میں اک تازہ اضافہ بھی ہوگا۔

ایچ پی سی اے اسٹیڈیم، دھرم شالہ، بلاشک و شبہ بھارت کا سب سے خوبصورت میدان (تصویر: IPL)

کوہ ہمالیہ کے دامن میں سطح سمندر سے 4 ہزار فٹ سے زیادہ کی بلندی پر واقع دھرم شالہ بھارتی ریاست ہماچل پردیش کا حصہ ہے اور ایک پرفضا مقام کی حیثیت سے اس شہر کو ملکی سیاحت میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ گو کہ انڈین پریمیئر لیگ کے چند مقابلوں کی صورت میں کرکٹ پہلے ہی یہاں قدم جما چکی ہے لیکن بین الاقوامی میدانوں کی فہرست میں شمار ہونا بہرحال ایک بہت بڑا اعزاز ہوگا۔

ایچ پی سی اے اسٹیڈیم کی طرح دنیائے کرکٹ میں چند میدان اپنے طرز تعمیر اور جدید انداز کے بجائے خوبصورت قدرتی مناظر کے باعث زیادہ مقبول ہیں، جیسا کہ اسی اسٹیڈیم کے پس منظر میں واقع ہمالیہ کے خوبصورت پہاڑ۔

چند ایسے ہی خوبصورت میدانوں کی تصاویر اور مختصر سا احوال اس تحریر میں پیش کرتے ہیں۔ ان میدانوں کے انتخاب کا واحد معیار اِن کا کم از کم ایک بین الاقوامی کرکٹ مقابلہ منعقد کروانا ہے۔

نیوزی لینڈ کا کوئنزٹاؤن ایونٹس سینٹر، بلاشبہ سب سے خوبصورت (تصویر: Getty Images)

کوئنزٹاؤن ایونٹس سینٹر: پہاڑ کے دامن میں سر سبز و شاداب میدانوں، جھیل اور ایک ہوائی اڈے سے ملحقہ کوئنزٹاؤن، نیوزی لینڈ کا یہ میدان بلاشبہ دنیائے کرکٹ کا خوبصورت ترین میدان کہلانے کے قابل ہے۔ اس میدان نے جنوری 2003ء میں نیوزی لینڈ –بھارت ایک روزہ مقابلے کی میزبانی کی۔ البتہ یہ اتنا سازگار علاقہ بھی نہیں، یہاں آخری مقابلہ پاکستان نے 2011ء میں کھیلنا تھا، اور صرف 4.2 اوورز ہی کے بعد بارش آ گئی اور کھیل ختم!

جنوبی افریقہ کا خوبصورت ترین میدان (تصویر: Getty Images)

نیو لینڈز، کیپ ٹاؤن: جنوبی افریقہ کا وہ ساحلی شہر جو تاریخِ انسانی میں اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے کہ مغرب نے ہندوستان آمد کا اک نیا راستہ یہیں سے دریافت کیا، آج اسی مقام پر کیپ ٹاؤن کا خوبصورت شہر وقع ہے۔ اس کا میدان نیو لینڈز دنیا کے کئی کھلاڑیوں، تجزیہ کاروں اور سب سے بڑھ کر جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کی نظر میں دنیا کا خوبصورت ترین میدان ہے۔ پس منظر میں ٹیبل ماؤنٹین کا خوبصورت نظارہ اور پھر گھاس کے وسیع قطعے، کم از کم بیرون ملک سے آنے والے تماشائیوں کی نظریں تو مقابلے کے بجائے ارد گرد کے فطری مناظر پر ہی زیادہ ٹھہرتی ہوں گی۔ اس میدان پر پہلا ٹیسٹ مارچ 1889ء میں جنوبی افریقہ اور انگلستان کے درمیان کھیلا گیا تھا۔

گال، سونامی میں مکمل تباہ ہوا لیکن پھر دوبارہ تعمیر کیا گیا (تصویر: AFP)

گال: دو اطراف سے ٹھاٹھیں مارتا بحرِ ہند اور ایک جانب ولندیزیوں کا تعمیر کیا گیا 16 ویں صدی کا خوبصورت قلعہ، گال انٹرنیشنل اسٹیڈیم بھی دنیا کے خوبصورت ترین میدانوں میں سے ایک کہلانے کا حقدار ہے۔ 2004ء میں بحر ہند کے سونامی کے باعث مکمل طور پر تباہ ہو جانے کے بعد انگلستان کے این بوتھم اور آسٹریلیا کے شین وارن کی سنجیدہ کوششوں کے باعث یہ میدان ایک مرتبہ پھر مکمل ہوا اور 2008ء میں اس نے انگلستان کی میزبانی کر کے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی دھارے میں قدم رکھا۔

کانڈی میں چائے کے باغات میں گھرا پالی کیلے اسٹیڈیم (تصویر: Asitha Wijayasinghe)

پالی کیلے: سری لنکا کے مشہور سیاحتی مقام کانڈی کا نیا اسٹیڈیم، جسے عالمی کپ 2011ء کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ شہر سے نصف گھنٹے کے فاصلے پر چائے کے باغات کے درمیان واقع اس خوبصورت میدان کا افتتاح اگست 2010ء میں سری لنکا اور انگلستان کے درمیان ٹیسٹ مقابلے سے کیا گیا جس کے بعد اس نے عالمی کپ 2011ء میں پاکستان-نیوزی لینڈ مقابلے کی میزبانی کی۔ اس میدان نے کانڈی کے مشہور اسگیریا اسٹیڈیم کی جگہ لی، جو تقریباً سال تک ٹیسٹ میچز کی میزبانی کرتا رہا۔

ایک طرف ہوائی اڈہ اور دوسری طرف سمندر، ارنوس ویل میں دلفریب نظارہ (تصویر: Mike Selvey)

ارنوس ویل: کنگزٹاؤن، سینٹ ونسنٹ میں واقع ویسٹ انڈیز کے خوبصورت ترین میدانوں میں سے ایک۔ ہوائی اڈے اور بحیرۂ کیریبین کے درمیان واقع یہ میدان خوبصورت قدرتی نظاروں کے باعث مشہور ہے۔ ایک طرف پہاڑوں کے پس منظر کے ساتھ ہوائی اڈے سے پرواز بھرنے والے طیارے اور دوسری طرف بحیرۂ کیریبین کا نیلگوں پانی اور اس میں تیرتے دیوہیکل جہاز، کرکٹ کا لطف دوبالا کر دیتے ہیں۔

ویسٹ انڈیز کے مشہور ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک میں واقع جدید سہولیات سے مزین اسٹیڈیم (تصویر: Andy Bull)

بوسیجور: ویسٹ انڈیز کے مشہور ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک سینٹ لوشیا میں دلفریب مناظر پیش کرتا یہ میدان 2002ء میں مکمل ہوا۔ یہ ویسٹ انڈیز کا پہلا میدان بھی ہے جس نے برقی قمقموں کی روشنی میں کسی مقابلے کی میزبانی کی۔ 15 ہزار تماشائیوں کی گنجائش کے علاوہ اس میدان میں جدید سہولیات بھی موجود ہیں۔

ویسٹ انڈیز کا ایک اور دلکش اسٹیڈیم، جو حال ہی میں بین الاقوامی دھارے میں شامل ہوا (تصویر: SDGibbons)

ونڈسر پارک: روسیو، ڈومینیکا میں واقع ویسٹ انڈیز کا ایک اور خوبصورت میدان، جو شہر کے وسط میں واقع ہے۔ درحقیقت عالمی کپ 2007ء کے لیے تیار کیا جانا تھا لیکن بروقت تکمیل نہ ہونے کے باعث عالمی کپ کےمقابلوں کی میزبانی نہ کر سکا اور 2009ء میں پہلی بار کسی بین الاقوامی مقابلے کے لیے استعمال کیا گیا جبکہ 2011ء میں بھارت-ویسٹ انڈیز ٹیسٹ کے ذریعے ٹیسٹ کی میزبانی کرنے والے میدانوں میں شامل ہوا۔

دو پہاڑوں کے وسط میں واقع بیسن ریزرو نیوزی لینڈ کا قومی ورثہ ہے (تصویر: Getty Images)

بیسن ریزرو: فہرست میں نیوزی لینڈ کا ایک اور میدان، ویلنگٹن کا بیسن ریزرو ۔ کوہِ وکٹوریہ اور ماؤنٹ کک کے درمیان واقع یہ میدان تاریخی اہمیت کا بھی حامل ہے، یہ نیوزی لینڈ کا واحد کھیل کا میدان ہے جسے قومی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ اس میدان پر پہلا ٹیسٹ جنوری 1930ء میں کھیلا گیا تھا جب نیوزی لینڈ اور انگلستان مدمقابل آئے جبکہ یہاں عالمی کپ 1992ء کے چند مقابلے بھی کھیلے گئے تھے اور عالمی کپ 2015ء میں بھی ممکنہ طور پر یہ چند مقابلوں کی میزبانی کرے گا۔

Facebook Comments