پاکستان کے خلاف ٹیسٹ، عمران طاہر طلب

جنوبی افریقہ گزشتہ 20 سالوں سے دنیائے کرکٹ کی ایک بڑی قوت ہے۔ جب نسل پرست حکومت کی وجہ سے عائد طویل پابندیاں اٹھائی گئیں اور جنوبی افریقہ نے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا، اس وقت سے اب تک ایک چیز کی کمی بہت شدت کے ساتھ محسوس ہوتی رہی ہے، ایک میچ وننگ لیگ اسپنر!

عمران طاہر توقعات پر پورا نہ اتر سکے، اگر انہیں دوسرا موقع ملا تو کیا وہ اپنی اہلیت ثابت کر پائیں گے؟ (تصویر: AFP)

عمران طاہر توقعات پر پورا نہ اتر سکے، اگر انہیں دوسرا موقع ملا تو کیا وہ اپنی اہلیت ثابت کر پائیں گے؟ (تصویر: AFP)

یہی وجہ ہے کہ جب پاکستانی نژاد عمران طاہر جنوبی افریقہ پہنچے، اور آئی سی سی قوانین کے تحت اپنا عرصہ گزار چکے، تو جنوبی افریقہ نے فوراً ہی انہیں قومی ٹیم میں بلا لیا۔ لیکن عمران بڑھتی ہوئی توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ اور گزشتہ سال دورۂ آسٹریلیا میں بھیانک کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ٹیم سے باہر ہو گئے۔ ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں انہوں نے 180 رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہ کی۔ جو کرکٹ تاریخ میں کسی بھی گیندباز کی دوسری بدترین کارکردگی تھی۔

اس کے ساتھ ہی وہ جنوبی افریقی دستے سے باہر ہو گئے اور اب جبکہ رابن پیٹرسن زخمی ہو گئے ہیں، ایک مرتبہ پھر ان کی واپسی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ جنوبی افریقہ نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے لیے انہیں بحیثیت "کور" طلب کیا ہے۔ گو کہ رابن پیٹرسن کے دائیں ہاتھ کی چوٹ سے صحت یابی کے امکانات بہت زیادہ ہیں لیکن پھر بھی ممکن ہے کہ عمران جگہ پا لیں۔

کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے سلیکشن کنوینر اینڈریو ہڈسن نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ رابی پہلے ٹیسٹ سے قبل کھیلنے کےلیے فٹ ہو جائیں گے، لیکن حفظ ماتقدم کے تحت ایک کھلاڑی کو تیار رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ اس ہفتے ٹیم کی جاری تیاریوں میں حصہ بھی لے سکے۔

طاہر نے 11 ٹیسٹ میچز میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی ہے اور 50.19 کے بھاری اوسط سے صرف 11 وکٹیں ہی حاصل کی ہیں البتہ ڈومیسٹک سرکٹ میں وہ بہت عمدہ کارکردگی دکھا رہے ہیں اور حالیہ ایک مقابلے میں انہوں نے 12 وکٹیں بھی حاصل کی ہیں جن میں ایک اننگز میں 7 وکٹیں بھی شامل ہیں۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا مقابلہ یکم فروری سے جوہانسبرگ کے وینڈررز اسٹیڈیم میں شروع ہوگا۔

Facebook Comments