کیا واقعی غلطی کا ازالہ ہوگیا؟

جنوبی افریقہ کے دورے کے لیے پاکستانی ٹیم کے حوالے سے ایک اعتراض انتہائی زوروشورسے سامنے آیا۔میزبان ملک کی تیز گیند بازوں کے لیے موزوں پچوں کوخاطرمیں لائے بغیر پاکستانی ٹیم کوصرف چار تیز باؤلرزکے ساتھ وداع کردیاگیا۔ان چارمیں سے بھی ایک احسان عادل ناتجربہ کاری اور دوسرے محمدعرفان فٹنس خدشات کے باعث 'رسکی سلیکشن' کہے جاسکتے ہیں۔ یعنی عمر گل اورجنیدخان پر غیر ضروری دباؤ یقینی ہوگا اور خدانخواستہ اِن میں سے کسی ایک کی بھی انجری پاکستان کو شدید بحران کا شکار کرسکتی تھی۔

انور علی پاکستان کے تمام قابل ذکر گیند بازوں میں بیٹنگ کی سب سے نمایاں قابلیت رکھتے ہیں لیکن ۔۔۔۔ (تصویر: ESPNCricinfo)

انور علی پاکستان کے تمام قابل ذکر گیند بازوں میں بیٹنگ کی سب سے نمایاں قابلیت رکھتے ہیں لیکن ۔۔۔۔ (تصویر: ESPNCricinfo)

لیکن دیر سے ہی سہی،لیکن سلیکٹرز نے اپنی غلطی،بلکہ حماقت، کی اصلاح کے لیے میڈیم فاسٹ باؤلرز تنویر احمد اور راحت علی کو بطور جنوبی افریقا بھجوایا ہے۔یہ دونوں گیند باز باصلاحیت ضرور ہیں لیکن عالمی نمبر ایک جنوبی افریقہ کا انہی کے میدانوں میں مقابلہ کرنے کے لیے میری ذاتی رائے میں موزوں نہیں۔ چند میدان تو بہت زیادہ اونچائی پر ہیں، جہاں ماضی میں متعدد پاکستانی باؤلرز کو فٹنس مسائل سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ گو کہ توقع تو یہی رکھنی چاہیے کہ عرفان ایک یادگار سیریز کھیلیں گے لیکن 7 فٹ قامت کے ساتھ ان کا ہمہ وقت فٹ رہنا مشکل ضرور ہے جبکہ ان کے پاس طویل طرز کی کرکٹ کھیلنے کا کوئی بین الاقوامی تجربہ بھی نہیں۔

بہرحال، قومی منظرنامے پر چند ایسے باؤلرز بھی موجود ہیں جو سلیکٹرز کی نظر کرم کے منتظر ہیں۔ انڈر 19 عالمی کپ کے فائنل میں بھارتی بیٹنگ لائن اپ کے پرخچے اڑانے والا انور علی آخر کیا کرے کہ وہ اس نظر کرم کا حقدار ٹھیرے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں مسلسل وکٹیں، رفتار اور سوئنگ دونوں پر عبور لیکن اس کے باوجود ابھی بھی اس کے بھارت میں سیر سپاٹے کے علاوہ کچھ نہ ملا اور اس کے فوراً بعد ایک مرتبہ پھر نظر انداز۔ قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ اہم تیز باؤلرز میں بلے بازی کی سب سے بہتر اہلیت رکھتا ہے اور ایک سنچری اور چار نصف سنچریاں بھی اس کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ بھی اس بہترین آل راؤنڈر کو پاکستان کی جانب سے کھلانے کے لیے کافی نہیں ثابت ہو رہا۔

ایک اور بدنصیب لیکن انتہا درجےکا باصلاحیت باؤلر کراچی کا تابش خان ہے۔ ہر سیزن میں وکٹوں کے انبار لگانے کے باوجود قومی سطح پر موقع ملنے کا انتظار کر کر کے بالآخر وہ اپنے کیریئر کے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں غالباً زندگی میں پہلی و آخری مرتبہ اسے بین الاقوامی بلے بازوں کے مقابل اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا، جب انٹرنیشنل ورلڈ الیون کے خلاف کراچی میں اس نے لگاتار تین گیندوں پر تین وکٹیں حاصل کر کے قومی کرکٹ کے ناخداؤں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی لیکن پھر بھی مایوسی ہی اس کا مقدر بنی۔

تابش خان کا المیہ یہ بھی ہے کہ وہ کرکٹ صحافی بھی اسے گھاس ڈالنے کو تیار نہیں ورنہ 34 سالہ تنویر احمد کے مقابلے میں 29 سالہ تابش خان کے حق میں کسی جانب سے تو کوئی آواز بلند ہوتی۔

Facebook Comments