[آج کا دن] پاکستان کی تاریخی کامیابی

آج، پاکستان کی تاریخی کامیابی کا دن، جب مصباح الحق کی زیر قیادت قومی کرکٹ ٹیم نے اُس وقت کی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم انگلستان کو شکست دے کر ثابت کر دیا کہ پاکستان کی گزشتہ فتوحات کو ہیچ سمجھنے والے کتنی بڑی غلطی پر تھے۔ ابو ظہبی میں گزشتہ سال آج ہی کے روز اختتام کو پہنچنے والے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان نے صرف 145 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے والے انگلستان کو 72 رنز پر ڈھیر کر کے تمام ناقدین کو منہ بند کر دیے۔

عبد الرحمٰن کی ناقابل یقین کارکردگی نے پاکستان کو سیریز جتوائی اور ایک تاریخی کلین سویپ کی راہ ہموار کی (تصویر: AFP)

عبد الرحمٰن کی ناقابل یقین کارکردگی نے پاکستان کو سیریز جتوائی اور ایک تاریخی کلین سویپ کی راہ ہموار کی (تصویر: AFP)

یہ طویل عرصے بعد پہلا موقع تھا کہ پاکستان نے انگلستان کے خلاف کوئی سیریز جیتی۔ انگلستان جو بیٹنگ پاور ہاؤس تھا، بلکہ اب بھی ہے، پاکستان کی اسپن باؤلنگ کے سامنے اس طرح ڈھیر ہوا کہ سابق کپتان جیفری بائیکاٹ بھی پھٹ پڑے کہ اب کوئی میرے سامنے انگلستان کو نمبر ون نہ کہے۔ انگلستان پاکستان کے خلاف تاریخ کے کمترین مجموعے پر آؤٹ ہوا اور وہ بھی ایسی پچ پر جو بلے بازوں کے لیے بہت سازگار تھی۔

گو کہ پاکستان کافی نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد فتح تک پہنچا لیکن جیت کا اصل سہرا عبد الرحمٰن کے سر باندھنا چاہیے جنہوں نے اپنی شاندار باؤلنگ کے ذریعے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ انہوں نے نہ صرف اپنی اہلیت ثابت کی بلکہ ان ناقدین کو بھی جواب دے دیا جو انہیں اوسط درجے کا گیند باز قرار دے کر ان کی ٹیم میں شمولیت پر انگلیاں اٹھاتے تھے۔ انہوں نے صرف 25 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔

قبل ازیں دوسری اننگز کے دوران بہت ہی نازک مرحلے پر اظہر علی اور اسد شفیق کی 88 رنز کی شراکت داری نے میچ کو پلٹانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ٹیسٹ کا سب سے ہنگامہ خیز دن چوتھا و آخری روز تھا۔ پاکستان 54 رنز پر چار وکٹیں گنوا دینے کے بعد اظہر علی اور اسد شفیق کی مدد سے آگے بڑھ سکتا تھا لیکن انگلش اسپنرز خصوصاً مونٹی پنیسر کا دباؤ برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا یہاں تک کہ 214 رنز پر اننگز تمام ہو گئی۔ اظہر علی نے کیریئر کی 13 ویں اور غالباً قیمتی ترین نصف سنچری بنائی جبکہ اسد شفیق نے 43 رنز بنائے۔ البتہ ان دونوں کے درمیان پانچویں وکٹ پر 88 رنز کی شراکت بعد ازاں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔

انگلستان کے سامنے صرف 145 رنز کا ہدف تھا۔ ابوظہبی کی پچ اب بھی بلے بازی کے لیے انتہائی سازگار تھی لیکن پاکستانی اسپنرز نے معجزہ کر دکھایا۔

21 رنز پر انگلستان کی پہلی وکٹ حاصل کرنے کے بعد پاکستان نے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ این بیل سعید اجمل کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے تو دوسرے اینڈ سے عبد الرحمٰن نے پے در پے کیون پیٹرسن، ایون مورگن، اینڈریو اسٹراس، جوناتھن ٹراٹ اور اسٹورٹ براڈ کی وکٹیں سمیٹ کر انگلش پیشقدمی کا خاتمہ کر دیا۔ ان کھلاڑیوں کو پاکستانی اسپنرز نے کس طرح آؤٹ کیا یہ بتانے کی نہیں بلکہ دیکھنے کی چیز ہے۔

سعید اجمل نے جب میٹ پرائیر کی وکٹ لی تو وہ ان کا 100 واں ٹیسٹ شکار تھا، اور وہ بھی محض 19 ٹیسٹ میچز میں۔ یوں وہ وقار یونس کا ریکارڈ توڑ کو پاکستان کی جانب سے سب سے کم مقابلوں میں 100 وکٹیں حاصل کرنے والے باؤلر بن گئے۔ مجموعی طور پر عبد الرحمٰن نے محض 25 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں جبکہ تین وکٹیں سعید اجمل نے حاصل کیں اور ایک وکٹ محمدحفیظ کو ملی۔

کسی نے سیریز کے آغاز سے قبل تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ تنازعات اور مسائل سے گھری یہ ٹیم عالمی نمبر ایک انگلستان، جس نے 2011ء میں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں ہارا تھا، کو اولین دونوں مقابلے میں شکست دے گی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلستانی ٹیم کی شکست کے بعد 'دوسرا' اور 'تیسرا' کو نہ سمجھ پانے یا اسپنرز کے خلاف انگلش بلے بازوں کی تیاری نہ ہونے کا جو بہانہ تراشہ جارہا تھا، وہ مسلسل دوسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد بے معنی ہوگیا ہے۔

اس تاریخی مقابلے کا مکمل اسکور کارڈ

پاکستان بمقابلہ انگلستان، دوسرا ٹیسٹ

25 تا 28 جنوری 2012ء

بمقام: شیخ زاید اسٹیڈیم، ابوظہبی، متحدہ عرب امارات

نتیجہ: پاکستان 72 رنز سے فتحیاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: عبد الرحمٰن

پاکستانپہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ ب پنیسر 31 77 4 0
توفیق عمر ب سوان 16 48 2 0
اظہر علی ب براڈ 24 68 1 0
یونس خان ب براڈ 24 38 3 0
مصباح الحق ایل بی ڈبلیو ب براڈ 84 173 5 4
اسد شفیق ایل بی ڈبلیو بسوان 58 126 7 1
عدنان اکمل ایل بی ڈبلیو ب براڈ 9 26 2 0
عبد الرحمن ب سوان 0 7 0 0
سعید اجمل ایل بی ڈبلیو ب اینڈرسن 0 14 0 0
عمر گل ناٹ آؤٹ 0 2 0 0
جنید خان ک سوان ب اینڈرسن 0 3 0 0
فاضل رنز ب 8، ل ب 1، ن ب 2 11
مجموعہ 96.4 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 257

 

انگلستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
جیمز اینڈرسن 19.4 5 46 2
اسٹورٹ براڈ 24 4 47 4
مونٹی پنیسر 33 9 91 1
گریم سوان 18 2 52 3
جوناتھن ٹراٹ 2 0 12 0

 

انگلستانپہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
اینڈریو اسٹراس ک اسد ب حفیظ 11 42 1 0
ایلسٹر کک ایل بی ڈبلیو ب سعید اجمل 94 220 10 0
جوناتھن ٹراٹ ب عبد الرحمن 74 158 7 0
کیون پیٹرسن ک حفیظ ب سعید اجمل 14 39 2 0
این بیل ایل بی ڈبلیو ب عمر گل 29 78 3 0
ایون مورگن ک حفیظ ب سعید اجمل 3 22 0 0
میٹ پرائیر ایل بی ڈبلیو ب سعید اجمل 3 16 0 0
اسٹورٹ براڈ ناٹ آؤٹ 58 62 6 1
گریم سوان ایل بی ڈبلیو ب عبد الرحمن 15 15 3 0
جیمز اینڈرسن ب حفیظ 13 19 3 0
مونٹی پنیسر ایل بی ڈبلیو ب حفیظ 0 2 0 0
فاضل رنز ب 5، ل ب 7، ن ب 1 13
مجموعہ 112 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 327

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
عمر گل 13 1 53 1
جنید خان 8 0 33 0
محمد حفیظ 22 4 54 3
سعید اجمل 40 6 108 4
عبد الرحمن 29 9 67 2

 

پاکستاندوسری اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
محمد حفیظ ایل بی ڈبلیو ب پنیسر 22 37 2 0
توفیق عمر ب سوان 7 38 0 0
اظہر علی ک پرائیر ب اینڈرسن 68 195 8 0
یونس خان ب پنیسر 1 14 0 0
مصباح الحق ایل بی ڈبلیو ب پنیسر 12 32 2 0
اسد شفیق ک اینڈرسن ب پنیسر 43 138 5 0
عدنان اکمل ک اسٹراس ب براڈ 13 45 0 0
عبد الرحمن ایل بی ڈبلیو ب سوان 10 38 0 0
سعید اجمل ک اینڈرسن ب پنیسر 17 31 1 0
عمر گل ناٹ آؤٹ 10 24 0 1
جنید خان ب پنیسر 0 4 0 0
فاضل رنز ب 5، ل ب 6 11
مجموعہ 99.2 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 214

 

انگلستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
جیمز اینڈرسن 14 3 39 1
اسٹورٹ براڈ 20 9 36 1
مونٹی پنیسر 38.2 18 62 6
گریم سوان 27 5 66 2

 

انگلستاندوسری اننگز، ہدف 145 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
اینڈریو اسٹراس ایل بی ڈبلیو ب عبد الرحمن 32 100 3 0
ایلسٹر کک ک و ب حفیظ 7 40 0 0
این بیل ب سعید اجمل 3 3 0 0
کیون پیٹرسن ایل بی ڈبلیو ب عبد الرحمن 1 8 0 0
ایون مورگن ب عبد الرحمن 0 2 0 0
میٹ پرائیر ک اسد ب سعید اجمل 18 45 1 0
جوناتھن ٹراٹ ایل بی ڈبلیو ب عبد الرحمن 1 11 0 0
اسٹورٹ براڈ ب عبد الرحمن 0 2 0 0
گریم سوان ایل بی ڈبلیو ب سعید اجمل 0 4 0 0
جیمز اینڈرسن ک عمر گل ب عبد الرحمن 1 2 0 0
مونٹی پنیسر ناٹ آؤٹ 0 0 0 0
فاضل رنز ل ب 9 9
مجموعہ 36.1 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 72

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
محمد حفیظ 8 3 11 1
عمر گل 3 0 5 0
سعید اجمل 15 7 22 3
عبد الرحمن 10.1 4 25 6

Facebook Comments