چھوٹی ٹیموں کی بڑی جنگ، سبز طوفان کامیاب

آئرلینڈ نے عالمی کپ 2011ء میں اپنی شاندار کارکردگی کا اختتام ایک اور فتح کے ساتھ کیااور نیدرلینڈز کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی۔ 307 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں آئرش ٹیم کا بیڑہ پار لگانے کا سہرا پال اسٹرلنگ کو جاتا ہے جنہوں نے 72 گیندوں پر شاندار سنچری بنا کر آئرلینڈ کو عالمی کپ کو مزید یادگار بنادیا۔

پال اسٹرلنگ کا سنچری کے ساتھ عالمی کپ کا یادگار اختتام (گیٹی امیجز)

آئرلینڈ کے کپتان ولیم پورٹرفیلڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو ڈچ بلے بازوں کی شاندار کارکردگی کے باعث یہ فیصلہ درست نہیں دکھائی دیتا تھا۔ ریان ٹین ڈسکاٹے کی عالمی کپ 2011ء میں دوسری سنچری کی بدولت نیدرلینڈز نے اسکور بورڈ پر 306 رنز کا بڑا مجموعہ اکٹھا کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ آئرلینڈ کی شاندار فیلڈنگ تھی جس نے نیدرلینڈز کو اس سے بڑا اسکور نہ کرنے دیا۔ ان کے علاوہ کپتان پیٹر بورن نے 82 گیندوں پر 10 چوکوں کی مدد سے 84 رنز بنائے اور ولیم باریسی کے 44 رنز بھی حریف ٹیم کو بڑا ہدف دینے میں اہم ثابت ہوئے۔ پانچویں وکٹ پر ریان ٹین ڈسکاٹے اور پیٹر بورن کے درمیان 121 رنز کی شراکت ہوئی۔ نیدرلینڈز کی ٹیم پورے 50 اوورز میں 306 پر آل آؤٹ ہوئی۔ آئرلینڈ کی جانب سے جان مونی اور پال اسٹرلنگ نے 2، 2 جبکہ بوائیڈ رینکن اور ٹرینٹ جانسٹن نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں آئرلینڈ کا آغاز بالکل ویسا تھا جیسا ہونا چاہیے یعنی کہ ابتداء ہی میں ڈچ ٹیم نے حریف کپتان کو کیچ چھوڑ کر اک نئی زندگی دی اور پھر دونوں اوپنرز نے 177 رنزکا شاندار آغاز فراہم کر کے آئرلینڈ کو ابتداء ہی میں سبقت دلا دی۔ جس کے بعد دونوں بلے بازوں نے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ابتدائی 10 اوورز میں 81 رنز جوڑے۔ اک بڑی ساجھے داری کے بعد آئرلینڈ کو مسلسل دو اوورز میں دونوں اوپنرز کا نقصان سہنا پڑا جن میں سے کپتان پورٹرفیلڈ نے 93 گیندوں پر 68 اور پال اسٹرلنگ کے 72 گیندوں پر 101 رنز شامل تھے۔ اسٹرلنگ کی اننگ میں 2 چھکے اور 14 چوکے شامل تھے۔ ان کے بعد آنے والے بلے بازوں میں ایڈ جوائس نے 28 اور گیری ولسن نے 27 رنز بنائے اور آؤٹ ہو گئے۔ ٹیم کو فتح کی منزل تک پہنچانے کے لیے وکٹ کیپر نیال او برائن نے 57 رنز بنا کر اہم کردار ادا کیا جبکہ شعلہ فشاں بلے باز کیون اوبرائن نے محض 9 گیندوں پر 2 چھکوں کی مدد سے 15 رنز بنائے۔ ان میں وننگ شاٹ کی حیثیت رکھنے والا چھکا بھی شامل تھا۔ نیدرلینڈز کی جانب سے ٹام کوپر نے جبکہ ٹین ڈسکاٹے اور پیٹر سیلار نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

پال اسٹرلنگ کو شاندار آل راؤنڈ کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس طرح دونوں ٹیموں کی عالمی کپ مہم کا خاتمہ ہو گیا۔ آئرلینڈ کے لیے یہ ایک یادگار عالمی کپ رہا جس میں اس نے انگلستان کو اپ سیٹ شکست دی اور دیگر تمام میچز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ماہرین اور شائقین کرکٹ کی بھرپور داد وصول کی۔ دوسری جانب نیدرلینڈز عالمی کپ میں فتح سے محروم دوسری ٹیم بنی۔ ان کے علاوہ تمام میچز میں شکست کھانے والی دوسری ٹیم کینیا تھی۔

میچ کی جھلکیاں

بشکریہ ای ایس پی این اسٹار

Facebook Comments