پاکستانی کھلاڑیوں پر بدعنوانی کے مقدمے کی باضابطہ سماعت 20 مئی سے ہوگی

پاکستان کے تین کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف کے خلاف دھوکہ دہی اور بد عنوانی کے مقدمے کی سماعت کا باضابطہ آغاز 20 مئی سے ہوگا۔

ایک برطانوی عدالت نے گزشتہ روز مقدمے کی باضابطہ سماعت کی تاریخ کا اعلان کیا۔ اس موقع پر تینوں پاکستانی کھلاڑی اور اسپاٹ فکسنگ کے اہم کردار مظہر مجید بھی موجود تھے جنہیں عدالت نے اپنا پاسپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا تاکہ وہ بیرون ملک سفر نہ کر سکیں جبکہ کھلاڑیوں کو غیر مشروط ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔

سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر (اے پی)

اس موقع پر وکیل استغاثہ نے غیر مشروط ضمانت پر اعتراض اٹھایا لیکن کھلاڑیوں کے وکلاء نے کہا کہ مستقبل میں ہونے والی تمام سماعتوں میں شریک ہوں گے اور اس کے لیے 50 ہزار پاؤنڈ تک کی ضمانت پیش کرنے کی بھی پیشکش کی گئی تاہم عدالت کے جج ہاورڈ ریڈل نے کہا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے چاروں ملزمان کو اگلی سماعت میں لازما شریک ہونے کی ہدایت کی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ہونے والی پیشیوں اور معاملات میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنا سرمایہ خرچ کیا لیکن برطانوی ٹیلی وژن چینل اسکائی اسپورٹس کے مطابق وکلائے صفائی نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اب پی سی بی نے سرمائے کی فراہمی بند کر دی ہے۔

مقدمے کے دوران سلمان بٹ کے وکیل یاسین پٹیل، محمد عامر کے وکیل شاہد کریم اور محمد آصف کے وکیل الیگزینڈر براؤن تھے۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پہلے ہی ان تینوں کھلاڑیوں پر 5،5 سال کی پابندی لگا چکی ہے جس کے خلاف انہوں نے سویٹزرلینڈ کی ثالثی عدالت برائے کھیل میں پہلے ہی اپیل دائر کر رکھی ہے۔

یاد رہے کہ ان تینوں کھلاڑیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے سٹے باز مظہر مجید سے پیسے لے کر گزشتہ سال اگست میں لارڈز ٹیسٹ کے دوران جان بوجھ کو نو بالز کروائیں۔ جس کی خبر مشہور 'مصالحہ' اخبار نیوز آف دی ورلڈ سامنے لے کر آیا اور دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچا دیا۔

Facebook Comments