انگلستان کے حوصلوں کا مزید امتحان، اجمل شہزاد بھی زخمی ہو کر عالمی کپ سے باہر

گو کہ عالمی کپ 2011ء میں انگلستان کی امیدیں اب بھی باقی ہیں لیکن ان کے تیز گیند باز اجمل شہزاد کے لیے عالمی کپ کا اختتام ہو چکا ہے۔ وہ ران کے پٹھے چڑھ جانے کے باعث ٹورنامنٹ میں مزید کوئی میچ نہیں کھیل پائیں گے۔

اجمل شہزاد (فائل فوٹو)

انگلستان دو حوالوں سے عالمی کپ میں بہت بدقسمت رہا ہے ایک تو اسے دو اپ سیٹ شکستیں ہوئیں، جس کی وجہ سے اس کی اگلے مرحلے تک رسائی کا معاملہ تمام میچز ختم ہونے کے باوجود ابھی تک کھٹائی میں پڑا ہوا ہے اور اب وہ دوسری ٹیموں کے میچز کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے، اور دوسرا اس کے اہم ترین کھلاڑی ایک ایک کر کے زخمی ہوتے گئے اور اس کی مہم کو مزید مشکلات میں ڈالتے گئے۔

اجمل شہزاد سے قبل کیون پیٹرسن ہرنیا کے مسئلے اور اسٹورٹ براڈ بائیں پہلو میں تناؤ کے باعث ٹیم کو بیچ منجدھار میں چھوڑ کر جا چکے ہیں اور اب ان فارم اجمل شہزاد زخمی کھلاڑیوں کی فہرست میں نیا اضافہ ہیں۔

انگلستان کے طبی عملے کے مطابق وہ انجری کے مزید تجزیے کے لیے وطن واپس جائیں گے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف انگلستان کا اہم ترین میچ بھی انہوں نے میدان سے باہر بیٹھ کر دیکھا اور یقینا انگلستان کی معجزانہ فتح نے ان کے غم کو کچھ کم تو کیا ہوگا لیکن اگر انگلستان اگلے مرحلے تک پہنچتا ہے تو اجمل کو اپنی عدم موجودگی بہت زیادہ محسوس ہوگی۔

اجمل شہزاد کی عدم دستیابی کے باعث اب انگلستان ان کے متبادل کھلاڑی کے بارے میں غور کرے گا اور قوی امید ہے کہ کرس ووکس کو ان کے متبادل کے طور پر بلایا جائے گا جو مختصر لیکن شاندار کیریئر رکھتے ہیں۔

Facebook Comments