[آج کا دن] پاکستان کرکٹ کا سیاہ ترین دن

اگر کسی ایک دن کو پاکستان کرکٹ کے لیے بدترین دن قرار دیا جائے تو وہ 2010ء کے دورۂ انگلستان کے لارڈز ٹیسٹ کا وہ دن ہوگا، جس روز یہ عقدہ کھلا کہ تین پاکستانی کھلاڑیوں نے سٹے بازوں سے رقم بٹورنے کے لیے جان بوجھ کر نو بالز پھینکیں۔ لیکن یہ صرف ایک الزام ہی تھا، اور ثابت ہونے تک کھلاڑی مجرم قرار نہیں دیے جا سکتے تھے البتہ آج کا دن، یعنی 5 فروری وہ یوم سیاہ ہے، جس روز بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے تین پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کو اسپاٹ فکسنگ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان پر طویل پابندیاں عائد کیں۔

butt-asif-majeed-amir

ٹھیک دو سال قبل، 2011ء میں، قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والی سماعت کے بعد آئی سی سی کے خصوصی ٹریبونل نے سلمان بٹ پر 10، محمد آصف پر 7 اور محمد عامر پر 5 سال تک کسی بھی سطح پر کرکٹ کھیلنے کی پابندی عائد کی۔ کیونکہ اس طرح کے جرم میں ملوث ہونے کی کم از کم سزا پانچ سال قید ہے اس لیے سب سے زیادہ نقصان میں محمد عامر رہے، جو اپنے کیریئر کی ابتداء ہی میں دھر لیے گئے اور اب ان کے مستقبل کے بارے میں کچھ واضح نہیں کہ آیا وہ دوبارہ کرکٹ کھیل بھی پائیں گے یا نہیں۔ سلمان اور آصف پر بالترتیب 5 اور 2 سال کی اضافی سزا اسی صورت میں لاگو ہوگی کہ وہ آئی سی سی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کریں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے انسداد بدعنوانی پروگرام میں بھی حصہ نہ لیں۔

تینوں کھلاڑیوں کو بعد ازاں برطانیہ نے بدعنوانی و دھوکہ دہی کا الزام ثابت ہونے پر قید کی سزائیں بھی دیں ، کیونکہ جرم اسی کی سرزمین پر سرزد ہوا تھا۔ سلمان بٹ ڈھائی سال، محمد آصف ایک سال اور محمد عامر چھ ماہ کی قید کے سزا کے حقدار ٹھیرے۔ اب یہ تینوں کھلاڑی رہائی پا چکے ہیں اور سلمان اور آصف کھیلوں کی بین الاقوامی ثالثی عدالت میں آئی سی سی کے فیصلے کے خلاف اپیل کے حتمی مراحل میں ہیں۔

بہرحال، ان تفصیلات میں نہیں جاتے کہ کرک نامہ ماضی میں اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل پر ہر پہلو سے تفصیلی تحاریر پیش کر چکا ہے، لیکن اس واقعے سے پاکستان کرکٹ کو جتنا نقصان پہنچا، اتنا تاریخ میں کبھی کسی واقعے سے نہیں پہنچا ہوگا۔ پاکستان کی جو رہی سہی ساکھ دیگر ممالک میں موجود تھی، وہ بھی ختم ہو گئی۔

شرمناک ترین بات یہ ہے کہ انہی ایام میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اس پر آمادگی کا اظہار کر چکا تھا کہ وہ پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے متحدہ عرب امارات میں محدود اوورز کے چند مقابلے کھیلنے کے لیے تیار ہے، جن کی تمام رقوم 2010ء کے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے استعمال ہوں گی۔ جبکہ اسی سیریز میں قبل ازیں انگلش کھلاڑی اپنی میچ فیس سیلاب زدگان کی امداد کے لیے دے چکے تھے۔ لیکن جن کے گھر میں یہ یہ قدرتی آفت آئی ہوئی تھی، ان کا یہ عالم تھا کہ وہ فکسنگ جیسے قبیح جرم میں ملوث ہو کر نوٹ چھاپ رہے تھے۔

بہت سارے لوگوں کی ہمدردیاں محمد عامر کے ساتھ ہوں گی، شاید اس لیے کہ وہ جرم کے ارتکاب کے وقت 18 سال کے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان تینوں کھلاڑیوں کو عبرت کی مثال بننا چاہیے، خصوصاً محمد عامر کو بھی۔ تاکہ آئندہ کوئی نوجوان اس مغالطے میں نہ رہے کہ وہ اپنی چھوٹی عمر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جرم کا لطف بھی لے لے گا اور سزا سے بھی بچ جائے گا۔

بہرحال، یہ میرا ذاتی خیال ہے جس سے آپ کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے، اس لیے آپ سے پوچھنا چاہوں گا کہ سلمان اور آصف کو ایک طرف رکھ کر صرف عامر والے معاملے کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ کیا انہیں 2015ء میں اپنا بین الاقوامی کیریئر دوبارہ شروع کرنے کا موقع دینا چاہیے؟

Facebook Comments