زمبابوے کی آل راؤنڈ کارکردگی، کینیا کے خلاف بڑی فتح

زمبابوے نے عالمی کپ 2011ء کا حوصلہ افزاء اختتام کرتے ہوئے کینیا کے خلاف آخری مقابلہ 161 رنز کے بڑے مارجن سے جیت لیا۔

باؤلرز خصوصا اسپنرز نے بلے بازوں کی شاندار کارکردگی کو رائیگاں نہیں جانے دیا اور 309 رنز کا تعاقب کرنے والے کینیا کو محض 147 پر ڈھیر کر دیا۔

میچ کے بہترین کھلاڑی کریگ اروائن کا ایک دلکش اسٹروک (گیٹی امیجز)

کینیا کے سابق کپتان اسٹیو ٹکولو کا یہ آخری میچ تھا اور کپتان جمی کمانڈے نے ان کو اک یادگار الوداع کرنے کے لیے اس میچ میں ٹیم سے اچھی کارکردگی کا مطالبہ کیا لیکن زمبابوے کی جانب سے کریگ اروائن (66 رنز)، ووسی سبانڈا(61) اور ٹٹنڈا ٹائبو (53)کی نصف سنچریوں نے زمبابوے کو اک ایسے مقام تک پہنچا دیا جس تک پہنچنا کینیا کے لیے ممکن نہ تھا۔

اس بڑے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے کینیا ابتداء ہی سے دباؤ میں رہا اور زمبابوے کے واحد سیمر کرس ایم پوفو نے پہلے اوور ہی میں کینیا کے ڈیوڈ اوبویا کو ٹھکانے لگا دیا۔ تین اوور کے بعد کولنز اوبویا رن آؤٹ ہو گئے اور اسٹیو ٹکولو آخری مرتبہ کینیا کی نمائندگی کرتے ہوئے میدان میں اترے۔تاہم وہ کوئی یادگار اختتام نہ کر سکے اور محض 10 رنز بنا کر رے پرائس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ اس موقع پر زمبابوے کے کئی کھلاڑیوں نے مصافحہ کر کے انہیں الوداع کیا جبکہ میدان میں موجود تماشائیوں نے بھی ان کو کھڑے ہو کر داد دی۔

کینیا کی وکٹیں وقفے وقفے سے زمبابوین اسپنرز کا نشانہ بنتی رہیں اور 73 تک پہنچتے پہنچتے اس کے 6 کھلاڑی میدان بدر ہو چکے تھے۔ نہیمیا اوڈھیامبو کی مزاحمت کی بدولت کینیا اسکور کو 147 تک لے جانے میں کامیاب ہوا۔ اوڈھیامبو نے 44 رنز کی ناقابل شکست اننگ کھیلی۔

زمبابوے کی جانب سے رے پرائس، گریگ لیمب اور گریم کریمر نے دو، دو وکٹیں حاصل کی جبکہ کرس ایم پوفو اور پراسپر اتسیا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

قبل ازیں زمبابوے نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور ابتدا میں ریگس چاکابوا (9 رنز) اور بعد ازاں برینڈن ٹیلر (26 رنز) کی جلد وکٹیں گنوانے کے بعد تجربہ کار ٹٹنڈا ٹائبو اور ووسی سبانڈا نے اننگ کو سنبھالا دیا اور تیسری وکٹ پر 110 رنز جوڑے۔ ٹائبو نے 7 چوکوں کی مدد سے 53 رنز بنائے جبکہ سبانڈا ایک چھکے اور 7 چوکوں کی مدد سے 61 رنز بنائے۔ اننگ کے درمیانی اوورز میں دونوں کھلاڑیوں کے ایک ساتھ آؤٹ ہو جانے کے بعد لوئر مڈل آرڈر پر اننگ کو سنبھالا دینےکی ذمہ داری آ گئی جہاں کرس اروائن اور کپتان ایلٹن چگمبورا نے اسے بھرپور انداز میں نبھایا۔ جنہوں نے پانچویں وکٹ پر 105 رنز کی زبردست شراکت قائم کی جس کی بدولت زمبابوے نے اک ایسا اسکور بنا لیا جو کینیا کی پہنچ سے باہر تھا۔ 50 اوورز مکمل ہوئے تو زمبابوے کا اسکور 6 وکٹوں پر 308 رنز تھا۔

کینیا کی جانب سے ایلیاہ اوٹینو نے سب سے زیادہ 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ جیمز نگوشے، پیٹر اونگونڈو اور اوڈھیامبو کو ایک، ایک وکٹ ملی۔

کریگ اروائن کو بلے بازی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

یوں دونوں ٹیموں کا عالمی کپ کا سفر تمام ہو گیا۔ 1996 کے عالمی کپ میں ویسٹ انڈیز کو یادگار اپ سیٹ شکست دینے اور 2003ء میں سیمی فائنل تک پہنچنے والے کینیا کے لیے یہ عالمی کپ بہت مایوس کن رہا جس میں وہ کوئی فتح حاصل نہ کر سکا حتی کہ کینیڈا کے ہاتھوں بھی اسے شکست ہوئی۔

زمبابوے کو صرف کینیڈا اور کینیا کے خلاف ہی فتوحات ملیں اور دیگر میچز میں وہ بڑی ٹیموں کے خلاف کوئی بہت اچھی کارکردگی پیش نہیں کر پایا۔

میچ کی جھلکیاں
بشکریہ ای ایس پی این اسٹار

Facebook Comments