پولارڈ کی سنچری اننگز رائیگاں؛ آسٹریلیا کی فتوحات کا سلسلہ جاری

تین میچوں میں مسلسل شکستوں کا سامنا کرنے والی کالی آندھی مسلسل آسٹریلوی ٹیم کے عتاب کا شکار ہے کہ جس نے سیریز کے چوتھے میچ میں فتح حاصل کر کے ویسٹ انڈیز کے خلاف وائٹ واش کی جانب قدم بڑھا دیا ہے۔ مہمان ٹیم کی جانب سے ایک انتہائی خراب آغاز کے بعد کیرون پولارڈ کی جانب سے کھیلی گئی سنچری اننگ بھی ویسٹ انڈیز کے کچھ کام نہ آسکی۔ پولارڈ کے علاوہ کوئی بھی بلے باز جم کر کینگرو گیند بازوں کا مقابلہ نہ کرسکا۔ جواب میں آسٹریلوی اوپنر شین واٹسن و دیگر بلے بازوں کی عمدہ کارکردگی نے مہمان ٹیم کو ایک آسان فتح دلوا دی۔

Kieron Pollard cuts on his way to a hundred

کیرون پولارڈ تن تنہا آسٹریلوی گیند بازوں کا مقابلہ کرتے رہے تاہم ان کی سنچری اننگ ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی (گیٹی امیجز)

سنڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں ویسٹ انڈیز کے کپتان ڈیرن سیمی نے ٹاس جیت کر بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کو یہ جاننے میں دیر نہ لگی کہ ان کا یہ فیصلہ کس قدر غلط ثابت ہوا۔ مچل جانسن کی تیز گیندوں اور کلنٹ مکے کی نپی تلی گیند بازی کے سامنے ویسٹ انڈیز کے ابتدائی بلے باز کسی نوآموز ٹیم کے کھلاڑی لگے۔ آسٹریلیا کی بہترین گیند بازی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 10 اوور کے اختتام پر ویسٹ انڈیز کا اسکور صرف 20 رنز تھا جبکہ وہ اپنے تین بلے بازوں سے بھی محروم ہوچکا تھا۔ اگلے ہی اوور میں گلین میکسول نے ڈیوائن براوو کو رخصت کردیا۔ اس موقع پر کیرون پولارڈ نے ایک اینڈ کو سنبھالے رکھا اور اسکور بورڈ کو دھیمی رفتار سے حرکت میں لاتے رہے تاہم کوئی دوسرا کھلاڑی ان کے ساتھ دینے پر رضامند نظر نہیں آ رہا تھا۔ کپتان ڈیرن سیمی اور سنیل نارائن کی کچھ دیر مزاحمت کے علاوہ کوئی دوسرا بلے باز زیادہ دیر ٹک کر نہ کھیل سکا۔ کیرون پولارڈ نے ہر موقع پر ٹیم کو سنبھالنے کی کوشش کی اور 11 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست سنچری اننگ کھیل کر اسکور کو 220 کے مجموعہ تک پہنچایا۔

آسٹریلوی کھلاڑیوں کی بھرپور فارم دیکھتے ہوئے 221 رنز کا ہدف کچھ زیادہ مشکل دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کینگرو اوپنرز شین واٹسن اور ایرون فنچ نے اننگ کا آغاز اچھے انداز میں کیا۔ ویسٹ انڈیز کو پہلی کامیابی 53 رنز پر ملی کہ جب سنیل نارائن نے فنچ کو ایل بی ڈبلیو کردیا۔ لیکن ویسٹ انڈیز کا اصل شکار، گزشتہ میچ کے مرد میدان شین واٹسن اب تک کریز پر موجود تھے اور ان کا بلا تیز رفتاری سے رنز اگل رہا تھا۔ 115 کے مجموعی اسکور پر فلپ ہاگس بھی نارائن کا شکار بنے جن کا کیچ ڈیوائن براوو نے تھاما۔ شین واٹسن کی 90.47 کے اسٹرائک ریٹ سے جاری اننگ کا خاتمہ ٹینو بیسٹ نے کیا۔ واٹسن نے وکٹوں کے پیچھے کیچ دینے سے پہلے 9 چوکوں کی مدد سے 75 رنز کی عمدہ اننگ سجائی۔ 145 کے مجموعہ پر 3 کینگرو کھلاڑیوں کی پویلین واپسی کے بعد بھی آسٹریلوی ٹیم کی میچ پر گرفت کمزور پڑی نہ ہی ویسٹ انڈیز ٹیم اس میچ میں واپسی کے لیے کوششوں میں مصروف نظر آئی۔ یوں آسٹریلوی بلے باز آتے گئے اور مہمان گیند بازوں کی "تواضع" کرتے رہے۔ یوں آسٹریلیا نے مطلوبہ ہدف 45 ویں اوور میں ہی حاصل کرلیا۔

میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پانے والے کیرون پولارڈ کے علاوہ ویسٹ انڈیز کی جانب سے قابل ذکر کارکردگی دکھانے والوں میں سنیل نرائن اور ٹینو بیسٹ شامل ہیں کہ جنہوں نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔ ویسٹ انڈیز کو کسی بڑے مجموعہ تک پہنچنے سے روکنے میں مچیل جانسن اور بین کٹنگ نے اہم کردار ادا کیا اور 3،3 ویسٹ انڈین کھلاڑیوں کی وکٹیں اپنے نام کیں۔

سیریز کے چوتھے میچ میں 5 وکٹوں کی فتح نے نےسیریز میں آسٹریلیا کو 4-0 سے برتری دلوادی ہے۔ ویسٹ انڈیز کھلاڑیوں کی حالیہ کارکردگی اور "قوت مدافعت" میں کمی دیکھتے ہوئے آئندہ میچ اور اس سیریز کے نتیجے کا بخوبہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا آخری مقابلہ 10 فروری کو میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں کھلا جائے گا۔

Facebook Comments