جنوبی افریقہ نے بنگلہ دیش کو عالمی اکھاڑے سے باہر پھینک دیا

جنوبی افریقہ نے اپنے آخری گروپ میچ میں بنگلہ دیش کو زیر کرکے عالمی کپ 2011ء سے باہر کر دیا۔ بنگلہ دیش نے عالمی کپ میں دوسری مرتبہ ناقص ترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 285 رنز کے تعاقب میں محض 78 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔ اس فتح کے ساتھ جنوبی افریقہ کی گروپ 'بی' میں ٹاپ پوزیشن یقینی ہو گئی ہے اور وہ کوارٹر فائنل میں گروپ 'اے' میں چوتھے نمبر پر آنے والی ٹیم کا سامنا کرے گا۔

لونوابو سوٹسوبے، بنگلہ دیشی ٹاپ آرڈر کو تہس نہس کرنے والا کردار (گیٹی امیجز)

اس میچ کے فیصلے کے ساتھ ہی انگلستان اور بھارت بھی کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے ہیں اور ویسٹ انڈیز کے اگلے مرحلے تک پہنچنے کی راہ بھی بڑی حد تک ہموار ہو گئی ہے، جسے بنگلہ دیش پر رن ریٹ کے باعث برتری حاصل ہے اور بھارت کے خلاف اگلے میچ میں شکست پر بھی اس کے پہنچنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

جنوبی افریقہ کے خلاف آخری گروپ میچ میں بنگلہ دیش کے لیے "کرو یا مرو" والا معاملہ تھا اور میچ میں فتح ہی اس کو اگلے مرحلے تک پہنچا سکتی تھی۔ لیکن جنوبی افریقہ پورے میچ پر مکمل طور پر حاوی رہا اور کسی بھی لمحے میزبان ٹیم کو میچ میں واپس نہ آنے دیا۔

ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کرنے والی جنوبی افریقی ٹیم نے ٹاپ آرڈر کی شاندار کارکردگی کی بدولت اسکور بورڈ پر ایک بڑا مجموعہ اکٹھا کیا۔ اوپنرز گریم اسمتھ اور ہاشم آملہ نے 98 رنز کا شاندار آغاز فراہم کیا اور بعد میں آنے والے تمام بلے بازوں نے رنز کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔

ڈھاکہ کے شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی بڑی تعداد اک اپ سیٹ کی تمنا میں موجود تھی لیکن بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں مہمان ٹیم کی شاندار کارکردگی نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ پروٹیز کپتان بدقسمتی سے اپنی نصف سنچری مکمل نہ کر سکے اور 45 رنز پر محمود اللہ کی گیند پر اسٹمپ ہو گئے جبکہ ان کے ساتھی اوپننگ بلے باز ہاشم آملہ نے 59 گیندوں پر 51 رنز بنائے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے سب سے زیادہ رنز تجربہ کار ژاک کیلس نے بنائے جنہوں نے ایک چھکے اور 5 چوکوں کی مدد سے 76 گیندون پر 69 رنز بنائے۔ ان بلے بازوں کے علاوہ فرانکو دو پلیسس نے بھی نصف سنچری اسکور کی جنہوں نے 52 گیندوں پر 52 رنز بنائے۔ اس اننگ میں ایک چھکا اور 4 چوکے شامل تھے۔ حتمی اوورز میں رابن پیٹرسن کے تیز رفتار 22 رنز کی بدولت جنوبی افریقہ نے اسکور بورڈ پر اک بڑا مجموعہ اکٹھا کیا اور حریف ٹیم کو 285 رنز کا ایک بڑا ہدف دیا۔

جنوبی افریقہ کے ٹاپ اسکورر ژاک کیلس کا گیند کو میدان سے باہر پھینکتے ہوئے اک خوبصورت انداز (گیٹی امیجز)

بنگلہ دیش کی جانب سے میڈیم پیسر روبیل حسین نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں۔ 2 وکٹیں کپتان شکیب الحسن کو ملیں اور ایک، ایک وکٹ عبد الرزاق اور محمود اللہ کو ملی۔

اک بڑے ہدف کے تعاقب کرنے والا بنگلہ دیش جنوبی افریقہ کے ورلڈ کلاس باؤلنگ اٹیک کے سامنے چاروں شانے چت ہو گیا۔ صرف کپتان شکیب الحسن 30 رنز کے ساتھ اپنی اننگ دہرے ہندسے میں لے جا سکے اور ان بنگلہ دیش کے کسی بلے باز کو یہ توفیق بھی نہیں مل سکی۔ پوری بنگلہ دیشی ٹیم 78 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور 206 رنز کی ایک ہزیمت آمیز شکست کاداغ لے کر عالمی کپ سے باہر ہو گئی۔

سوٹسوبے نے ٹاپ آرڈر کو اور اسپنر روبن پیٹرسن نے مڈل آرڈر کو ٹھکانے لگایا۔ سوٹسوبے نےمحض 14 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ پیٹرسن نے اپنے 7 اوورز میں صرف 12 رنز دیے اور 4 بلے بازوں کو ٹھکانے لگایا۔

سوٹسوبے کو تباہ کن باؤلنگ پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس فتح کے ساتھ ہی جنوبی افریقہ عالمی کپ میں 10 پوائنٹس حاصل کرنے والی پہلی ٹیم بن گئی ہے اور اب اسے گروپ بی میں کوئی ٹیم پہلی پوزیشن سے نہیں ہٹا سکتی۔ بنگلہ دیش، جسے عالمی کپ میں پہنچنے کے لیے اس میچ میں فتح حاصل کرنالازمی تھی، شاید انگلستان کے ہاتھوں ویسٹ انڈیز کی حیران کن شکست کے بعد اپنے امکانات میں کمی ہونے کے باعث ہمت ہار بیٹھا تھا۔ بحیثیت مجموعی عالمی کپ میں بنگلہ دیش کی کارکردگی بہتر رہی تاہم ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے خلاف بڑی شکستیں اس کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔

میچ کی جھلکیاں

بشکریہ ای ایس پی این اسٹار

Facebook Comments