[آج کا دن] شعیب-سچن پہلا ٹاکرا

ایڈن گارڈنز، کولکتہ میں ایک لاکھ سے زائد تماشائی چند لمحے قبل "دیوار" میں شگاف پڑتا دیکھ چکے تھے، شعیب اختر کی ایک انتہائی خوبصورت گیند راہول ڈریوڈ کی وکٹیں بکھیرتی ہوئی نکل گئی تھی اور اب میدان میں اک ایسا بلے باز داخل ہوا، جسے ہندوستانی "بھگوان" مانتے ہیں، جی ہاں، سچن رمیش تنڈولکر!

خود شعیب کو یہ گیند زندگی بھر نہیں بھولے گی، انہوں نے سوانح حیات کا آغاز اسی واقعے سے کیا ہے (تصویر: ESPNCricinfo)

خود شعیب کو یہ گیند زندگی بھر نہیں بھولے گی، انہوں نے سوانح حیات کا آغاز اسی واقعے سے کیا ہے (تصویر: ESPNCricinfo)

اسٹیڈیم "سچن سچن" کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہا تھا، جب ناتجربہ کار شعیب اختر پہلی بار اس عظیم بلے باز کو گیند پھینکنے کے لیے پر تول رہے تھے۔ پھر انہوں نے وہ تاریخی گیند کی جس کو 'سچن مہان' بھی نہ سمجھ پائے اور گیند ایک مرتبہ پھر وکٹیں اکھاڑ گئی۔ لاکھوں تماشائیوں سے بھرے میدان میں سناٹا چھا گیا۔ شعیب اختر عالم مدہوشی میں اس وکٹ کا جشن منانے لگے۔

1999ء میں آج ہی کے روز یعنی 17 فروری کو ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پہلے مقابلے کے دوران پیش آنے والا یہ واقعہ پاک-بھارت کرکٹ سے وابستہ ہر فرد کے ذہن میں نقش ہوگا۔ چاہے انہوں نے میدان میں دیکھا ہو، ٹی وی یا ریڈیو پر براہ راست دیکھا یا سنا ہو یا پھر یوٹیوب اور دیگر وڈیو ویب سائٹس پر اس کی وڈیو ملاحظہ کی ہو۔ خود شعیب اختر کی زندگی میں اس واقعے کو کتنی اہمیت حاصل ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی سوانح حیات "Controversially Yours" کا آغاز ہی اس واقعے کے ساتھ اور کچھ ان الفاظ میں کیا ہے:

"مقابلہ چاہے دنیا کے کسی بھی میدان پر ہو لیکن پاک-بھارت میچ ہمیشہ تماشائیوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ اور اگر یہ میدان کولکتہ کا ایڈن گارڈنز ہو، تو کسی بھی حریف ٹیم کو، خصوصاً اگر وہ پاکستان کی ہو تو، گیارہ کھلاڑیوں اور مزید ایک لاکھ حریفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اگر آپ ایک نوجوان اور غیر معروف پاکستانی باؤلر ہوں جس نے ابھی دنیا کے بہترین بلے باز راہول ڈریوڈ کی وکٹ حاصل کی ہو، تو وہ خود پر جمی ایک لاکھ نگاہوں اور اپنے ہیرو سچن ٹنڈولکر کو میدان میں آتا دیکھ کر ایک لاکھ لوگوں کے فلک شگاف نعروں کو محسوس کر سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ پہلی ہی گیند پر اس کی گلی اڑادے تو اسے یکدم موت کے سے سناٹے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں نے یہ کر دکھایا، اور میری جبین سجدۂ شکر کے لیے جھک گئی۔"

شعیب اختر نے اس واقعے کے حوالے سے کتاب میں ایک اور انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے میدان میں داخل ہوتے ہی سچن کو خبردار کیا تھا کہ وہ ان کی وکٹ لیں گے، لیکن سچن اس واقعے سے انکاری ہیں۔ بقول شعیب اختر یہ واقعہ کچھ یوں تھا:

"وہ ایک عظیم دورہ تھا جس میں میدان میں ایک لاکھ تماشائی اور باہر اِس سے کہیں زیادہ ہم پر نگاہیں جمائے بیٹھے تھے۔ پورا ہندوستان و پاکستان ہمیں دیکھ رہا تھا۔ لیکن چلیے ماحول کی بات نہیں کرتے، بلکہ خود پر موجود دباؤ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

اس موقع پر مجھ پر اعصابی تناؤ کا شدید حملہ ہوا اور میں لرزتی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ میدان میں اترا۔ مجھے تناؤ سے نکلنا تھا اور میں اپنے آزمودہ طریقے سے ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہوا۔ بھارتی بلے باز مقابلے سے قبل وارم اپ ہو رہے تھے، اور بلے لیے میدان میں داخل ہو رہے تھے۔ میں سچن ٹنڈولکر کی جانب بڑھا اور پوچھا، 'کیا تم مجھے جانتے ہو؟'

اس نے اوپر دیکھا اور بولا 'نہیں۔'

میں نے کہا 'جان جاؤ گے، جلد ہی۔'

پھر میں نے اُسے پہلی ہی گیند پر میدان بدر کر دیا اور بعد ازاں اُس نے مجھے کہا بھی کہ 'اب میں تمہیں یاد رکھوں گا۔'

چند سالوں بعد میں نے سچن سے پوچھا کہ تمہیں وہ واقعہ یاد ہے؟ لیکن اُس کا جواب نفی میں تھا۔"

آئیے اس یادگار لمحے کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہیں اور آپ سے بھی پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کو یہ منظر یاد ہے؟

Facebook Comments