سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیوزی لینڈ فاتح

نیوزی لینڈ نے انتہائی سنسنی خیز معرکے کے بعد 3 وکٹوں سے پہلا ایک روزہ جیت کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔ میچ کا فیصلہ 49 ویں اوور میں اس وقت ہوا جب نیوزی لینڈ کی 7 وکٹیں گر چکی تھیں اور ایک اینڈ پر کپتان تھے تو اینڈ پر زخمی مارٹن گپٹل۔ میک کولم نے 3 چھکوں اور 6 چوکوں سے مزین 69 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جبکہ گپٹل 27 گیندوں پر ایک چھکے اور 4 چوکوں پر اتنے ہی رنز بنا کر ناقابل شکست رہے اور دونوں کی اس بروقت بلے بازی نے 259 رنز کے ہدف کو حاصل کرنا ممکن بنایا۔ گپٹل، جو ہمسٹرنگ انجری کی وجہ سے اننگز چھوڑ کر چلے گئے تھے، واپسی کے بعد 10 گیندوں پر 24 رنز بنائے۔

برینڈن میک کولم کی 69 رنز کی قائدانہ اننگز نے نیوزی لینڈ کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا (تصویر: Getty Images)

برینڈن میک کولم کی 69 رنز کی قائدانہ اننگز نے نیوزی لینڈ کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا (تصویر: Getty Images)

حالات کی سنگینی کا درست ادراک اس سے ہو سکتا ہے کہ سیڈن پارک، ہملٹن میں نیوزی لینڈ کو آخری چار اوورز میں 40 رنز درکار تھے اور اس کی محض 4 وکٹیں باقی تھیں۔ ان حالات میں مارٹن گپل نے اسٹیون فن کو آتے ہی ایک چوکا اور ایک خوبصورت چھکا رسید کیا۔ اس اوور میں 14 رنز لوٹنے کے بعد دونوں بلے بازوں نے 48 ویں اوور میں کرس ووکس کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان سے بھی 13 رنز سمیٹے۔ یہاں تک کہ 49 واں اور فیصلہ کن اوور آ گیا جس کا آغاز ہی میک کولم نے ایک جاندار چھکے کے ساتھ کیا۔ ان کے شاندار پل شاٹ کی بدولت گیند ہوا میں طویل سفر کرتے ہوئے مڈوکٹ باؤنڈری سے باہر جا گری۔ رہی سہی کسر اگلی گیند کے وائیڈ ہونے نے پوری کر دی۔ اب مقابلہ مکمل طور پر نیوزی لینڈ کے حق میں جھک چکا تھا۔ گپٹل نے تیسری گیند کو چوکے کی راہ دکھا کر اسکور برابر کر ڈالا اور پانچویں گیند پر ایک رن بنا کر نیوزی لینڈ کو جتوا دیا۔ یوں نیوزی لینڈ جو 155 رنز پر اپنی 5 وکٹیں گنوا کر شکست و ریخت سے دوچار ہو چکا تھا، ان دونوں بلے بازوں کی جراتمندانہ اننگز کی بدولت جیت سے فتح سے ہمکنار ہوا۔

قبل ازیں جب نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا تو دوسری وکٹ پر این بیل اور جوناتھن ٹراٹ کی 84 رنز کی شراکت نے انگلستان کو اچھا پلیٹ فارم مہیا کیا۔ ٹراٹ نے بعد ازاں جو روٹ کے ساتھ مل کر مزید 89 رنز جوڑے تو آخری مرحلے یعنی دس اوورز میں داخل ہونے سے قبل ہی انگلستان کا اسکور محض 2 وکٹوں پر 184 تک پہنچ چکا تھا۔ اس موقع پر نیوزی لینڈ نے جوابی کارروائی ڈالی۔ سب سے پہلے جوناتھن ٹراٹ 68 رنز بنانے کے بعد کائل ملز کے ہاتھوں بولڈ ہوئے اور کچھ ہی دیر میں ایون مورگن بھی انہی کی وکٹ بن گئے۔ پھر جیسے ہی مقابلہ حتمی مرحلے میں داخل ہونے لگا انگلستان کی گرفت ڈھیلی پڑتی گئی یہاں تک کہ وہ پورے پچاس اوورز بھی نہ کھیل پایا اور پوری ٹیم آخری اوور میں 258 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی۔

نیوزی لینڈ کی مچل میک کلیناہن نے سب سے زیادہ 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ 3 وکٹیں جیمز فرینکلن، دو وکٹیں کائل ملز اور ایک وکٹ اینڈریو ایلس کو ملی۔ یوں یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے نیوزی لینڈ مقابلے میں واپس آیا اور پھر میک کولم کی کیپٹن اننگز نے اسے منزل تک پہنچایا۔

تین ایک روزہ مقابلوں کی سیریز کا دوسرا مقابلہ 20 فروری کو نیپئر میں ہوگا جہاں سیریز بچانے کے لیے انگلستان کو لازماً فتح حاصل کرنا ہوگی۔

Facebook Comments