پاکستان نے آسٹریلیا کی فتوحات کا سلسلہ روک دیا، گروپ میں سرفہرست

عمر اکمل اور اسد شفیق کی ذمہ دارانہ بلے بازی اور عمر گل اور دیگر باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ کے سبب بالآخر پاکستان نے عالمی کپ میں آسٹریلیا کی فتوحات کا سلسلہ تمام کر دیا۔ 1999ء کے عالمی کپ کے گروپ میچ میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد سے اب تک آسٹریلیا عالمی کپ ٹورنامنٹ کا کوئی میچ نہیں ہارا تھا۔ دفاعی چیمپین آسٹریلیا مسلسل 34 میچز سےناقابل شکست رہنے کے بعد بالآخر اسی حریف سے 4 وکٹوں سے ہار گیا جس نے 27 مئی 1999ء کو ہیڈنگلے، لیڈز میں اسے شکست دی تھی۔

عمر اکمل پاکستان کو منزل تک پہنچانے کے بعد (اے پی)

گروپ اے کے اس آخری میچ میں فتح کے بعد پاکستان گروپ میں سرفہرست آ گیا ہے اور کوارٹر فائنل میں اس کا مقابلہ گروپ بی میں چوتھے نمبر پر آنے والی ٹیم سے ہوگا جبکہ آسٹریلیا اب تیسری پوزیشن پر پہنچ گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ گروپ بی کی دوسرے نمبر کی ٹیم کا سامنا کرے گا۔

کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ایک مشکل پچ اور پاکستانی باؤلرز اور فیلڈرز کی شاندار کارکردگی کی بدولت 176 ہی بنا پایا۔ یہ 1992ء کے عالمی کپ کے بعد سے اب تک اس کا سب سے کم اسکور تھا۔ اس کےعلاوہ یہ 1999ء کے عالمی کپ کے بعد پہلا موقع تھا کہ آسٹریلیا عالمی کپ کے کسی میچ کے دوران آل آؤٹ ہو گیا ہو۔ 2003ء اور 2007ء کے عالمی کپ ٹورنامنٹس میں آسٹریلیا نہ تو کوئی میچ ہارا اور نہ ہی کوئی ٹیم اس کو آل آؤٹ کر سکی۔

177 رنز کے ہدف کا تعاقب اتنا آسان نہ تھا کیونکہ کولمبو کی جس پچ پر یہ میچ کھیلا گیا وہ انتہائی مشکل پچ تھی جس پر گیند اچانک اٹھ یا بیٹھ جاتی یا پھر اچانک ٹرن لے لیتی۔پھر پاکستان کا آغاز بھی مثالی نہ ہو سکا اور ابتداء ہی میں بریٹ لی نے محمد حفیظ (5 رنز) کو اپنی ہی گیند پر کیچ کر کے اسے نقصان پہنچا دیا۔ 45 کے مجموعی اسکور پر بریٹ لی نے کامران اکمل (23 رنز) کو وکٹوں کے سامنے جا لیا تو پاکستان کے رنز بنانے کی رفتار میں مزید کمی آ گئی۔ زمبابوے کے خلاف میچ کے ہیرو اسد شفیق اور یونس خان نے مزید کسی نقصان سے بچانے کی مہم کا آغاز کیا۔ دونوں اننگ کو سست رفتاری سے آگے بڑھاتے رہے۔ دونوں تیسری وکٹ پر 53 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب رہے۔ جب بریٹ لی اپنا اگلا اسپیل کرنے آئے اور انہوں نے آتے ہی تباہی مچا دی۔ دو مسلسل گیندوں پر انہوں نے یونس خان (31 رنز) اور مصباح الحق (صفر) کو پویلین کا راستہ دکھا کر سنسنی پھیلا دی۔

اک مشکل وکٹ پر 98 کے مجموعی اسکور پر چار وکٹیں گر جانے کے بعد پاکستان کے کسی بلے باز کا انتہائی ذمہ داری کے ساتھ کریز پر موجود رہنا ضروری تھا۔ یہ ذمہ داری اسد شفیق نبھا رہے تھے اور ان کا ساتھ دینے کے لیے عمر اکمل بھی میدان میں آ گئے۔ جنہوں نے بجائے دباؤ میں آنے کے اپنے فطری انداز سے آسٹریلوی باؤلرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کی خراب گیندوں کو باؤنڈریز کی راہ دکھاتے رہے۔ ان کی کریز پر موجودگی کے نتیجے میں رنز بنانے کی رفتار میں اضافہ ہوا جبکہ دوسرے اینڈ پر اسد شفیق اپنے مخصوص انداز میں اسکور کو آگے بڑھاتے رہے اور ایک اینڈ سنبھالے رہے۔

اسد شفیق (46 رنز ) بدقسمتی سے اپنی نصف سنچری مکمل نہ کر سکے اور اس وقت ایک اچانک اٹھتی ہوئی گیند پر پہلی سلپ میں کیچ دے بیٹھے جب پاکستان کو اک یادگار فتح کے لیے محض 39 رنز کی ضرورت تھی۔ میچ اس وقت مکمل طور پر پاکستان کی گرفت میں تھا لیکن شاہد آفریدی کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکلتے نکلتے رہ گیا۔ شاہد حریف باؤلر جیسن کریزا کی ایک گیند کو میدان بدر کرنے کی کوشش میں لانگ آن پر کیچ دے بیٹھے اور خود میدان بدر ہو کر پاکستان کو مشکل میں ڈال گئے۔

لیکن عمر اکمل نے عبد الرزاق کے ساتھ مل کر پاکستان کی منزل مقصود تک پہنچایا اور پاکستان نے ایک طویل عرصے تک آسٹریلیا کے ناقابل شکست رہنے کاسلسلہ بالآخر روک دیا۔ عبد الرزاق نے 41 ویں اوور کی آخری دو گیندوں کو باؤنڈری کی راہ دکھا کر آسٹریلوی غرور کو توڑ دیا۔ عمر اکمل 44 رنز اور عبد الرزاق 20 رنز پر ناقابل شکست رہے۔

قبل ازیں آسٹریلیا کا ایک مشکل پچ پر ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو بالکل درست ثابت نہ ہوا۔ عمر گل اور عبد الرزاق اور تمام پاکستانی باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ اور فیلڈرز کی بہتر کارکردگی نے آسٹریلیا کو موجودہ ٹورنامنٹ میں پہلی بار کسی حقیقی چیلنج سے دوچار کیا۔

میچ میں ابتداء میں کچھ گرما گرمی دیکھنے میں آئی، بریڈ ہیڈن پاکستانی فیلڈرز سے الجھتے ہوئے (گیٹی امیجز)

آسٹریلیا کی جانب سے بریڈ ہیڈن 42 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے جبکہ مائیکل کلارک نے 34 رنز بنائے۔ اوپنر شین واٹسن 9 رنز پر عمر گل کی گیند پر بولڈ ہوئے جبکہ رکی پونٹنگ کی خراب فارم کا سلسلہ برقرار رہا جو 19 رنز بنانےکے بعد محمد حفیظ کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ دے بیٹھے۔ کیمرون وائٹ محض 8 رنز بنانے کے بعد مصباح کی ایک تیز تھرو پر رن آؤٹ ہو گئے۔ مرد بحران مائیکل ہسی محض 12 رنز بنانے کے بعد عبد الرحمن کا واحد شکار بنے۔ اسٹیون اسمتھ نے آخر میں 25 رنز کے ساتھ مزاحمت کی اور بالآخر شاہد آفریدی کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ مچل جانسن صفر، جیسن کریزا 7 اور بریٹ لی 5 رنز بنا سکے۔ پاکستان کے لیے ایک خوش آئند بات کامران اکمل کا وکٹوں کے پیچھے بہتر کردار تھا جنہوں نے نہ صرف تین کیچ پکڑے بلکہ ایک رن آؤٹ بھی کیا۔ آسٹریلیا کی اننگ 47 ویں اوور ہی میں 176 پر ختم ہو گئی۔

عمر اکمل کو فتح گر اننگ کھیلنے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس فتح کے ساتھ پاکستان گروپ 'اے' میں سرفہرست آ گیا ہے جبکہ آسٹریلیا تیسری پوزیشن پر چلا گیا ہے۔اگر کل (اتوار کو) ہونے والے گروپ بی کے آخری میچ میں بھارت ویسٹ انڈیز کو شکست دے دیتا ہے تو پاکستان کا مقابلہ کوارٹر فائنل میں ویسٹ انڈیز سے ہوگا۔ اگر نتیجہ اس کے برعکس ہوا تو پاکستان کا سامنا انگلستان سے ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا مذکورہ بالا میچ میں بھارت کے جیتنے پر کوارٹر فائنل میں اسی کا سامنا کرے گا اور اگر نتیجہ ویسٹ انڈیز کے حق میں رہا تو آسٹریلیا کا مدمقابل وہی ہوگا۔

میچ کی جھلکیاں

بشکریہ ای ایس پی این اسٹار

Facebook Comments