[آج کا دن] آل راؤنڈ کارکردگی کی معراج

حریف ٹیم کے خلاف اسی کے میدان میں ایسی آل راؤنڈ کارکردگی تاریخ میں کسی کھلاڑی نے نہ دکھائی ہوگی، میچ میں 13 وکٹیں اور ایسی پچ پر 114 رنز کی فیصلہ کن اننگز جس پر پورے میچ میں کوئی کھلاڑی نصف سنچری بھی نہ بنا پایا ہو۔ انگلستان کے آل راؤنڈر این بوتھم بھارت کے خلاف 1980ء کے ممبئی ٹیسٹ میں اس شاندار کارکردگی کے ساتھ آج ہی کے دن تاریخ کے پہلے کھلاڑی بنے جنہوں نے میچ میں 10 یا زائد وکٹيں لینے اور ساتھ میں سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔

فروری 1980ء کے انہی ایام میں وانکھیڑے اسٹیڈیم میں ہونے والے واحد ٹیسٹ میں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا تو این بوتھم کے سامنے بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ زیادہ دیر نہ ٹھیر سکی۔ سنیل گاوسکر، دلیپ وینگسارکر اور گنڈاپا وشوناتھ جیسے بلے باز نصف سنچریوں تک بھی نہ پہنچ پائے اور بھارت کی پہلی اننگز 242 رنز کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ این بوتھم نے محض 58 رنز دے کر 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جن میں گاوسکر کے علاوہ سندیپ پٹیل اور کپل دیو کی قیمتی وکٹیں بھی شامل تھیں۔

جواب میں انگلستان کا حال اور بھی برا رہا، کپل دیو، کارسن گوری اور راجر بنی کے سامنے اس کی آدھی ٹیم صرف 58 رنز پر پویلین لوٹ چکی تھی، جب این بوتھم نے وکٹ کیپر باب ٹیلر کے ساتھ مل کر چھٹی وکٹ پر 171 رنز کی میچ بچاؤ شراکت داری قائم کی۔ اک ایسے لمحے پر جب انگلستان 100 رنز پر بھی پہنچتا نہ دکھائی دیتا تھا، ان دونوں بلے بازوں کی وجہ سے بھارت پر 54 رنز کی قابل ذکر برتری حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

این بوتھم نے 144 گیندوں پر 17 چوکوں کی مدد سے 114 رنز بنائے جبکہ ٹیلر نے 180 گیندوں پر 43 رنز بنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

جب خسارے کے ساتھ بھارت نے دوسری اننگز کا آغاز کیا تو اس مرتبہ بوتھم کا قہر ٹاپ آرڈر پر برسا، انہوں نے راجر بنی، وشوناتھ، سندیپ پٹیل، گاوسکر اور سعید کرمانی کی قیمتیں وکٹیں ٹھکانے لگا کر بھارت کو مقابلے سے مکمل طور پر باہر کر دیا۔ دوسرے اینڈ سے جان لیور نے وینگسارکر کو آؤٹ کر دیا اور یوں بھارت 58 رنز پر اپنی چھ وکٹیں گنوا بیٹھا۔ آخری چار وکٹیں اسکور میں 91 رنز کا اضافہ کرنے میں تو کامیاب ہوئیں، لیکن انگلستان کے خلاف کوئی قابل ذکر ہدف اکٹھا نہ ہو سکا۔

دوسری اننگز میں این بوتھم نے صرف 48 رنز دے کر کل 7 وکٹیں حاصل کیں اور یوں میچ میں ان کی وکٹوں کی تعداد 13 ہو گئی جبکہ سنچری بھی بنا کر وہ تاریخ کے پہلے کھلاڑی بنے، جسے ٹیسٹ میچ میں دس یا زائد وکٹیں اور سنچری بنانے کا اعزاز حاصل ہوا۔

96 رنز کا ہدف انگلستان نے بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 30 ویں اوور میں ہی پورا کر لیا۔ بھارت نے یہ 30 اوورز پھینکنے کے لیے سات گیندباز آزمائے لیکن کوئی بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ اور مقابلہ 4 روز ہی میں اپنے اختتا م کو پہنچا، انگلستان کی ایک تاریخی کامیابی کے ساتھ۔

این بوتھم نے بعد ازاں ایک زبردست آل راؤنڈر کی حیثیت سے اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا۔ انہوں نے اگلے سال آسٹریلیا کے خلاف ہیڈنگلے ٹیسٹ میں اس وقت تاریخی سنچری بنائی جب انگلستان فالو آن کے بعد 41 رنز پر 4 وکٹیں گنوا چکا تھا اور بوتھم کی 149 رنز کی اننگز اور باب ولس کا 130 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کو 111 رنز پر ڈھیر کرنا، اس ٹیسٹ کو ایک تاریخی مقابلہ بنا گیا۔

بہرحال، ان کے بعد آج تک یہ کارنامہ صرف ایک کھلاڑی نے انجام دیا ہے، پاکستان کے عظیم کپتان عمران خان نے۔ جنہوں نے جنوری 1983ء میں روایتی حریف بھارت کے خلاف فیصل آباد ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 117 رنز کی شاہکار اننگز بھی کھیلی اور مجموعی طور پر 11 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ اس مقابلے میں پاکستان نے 10 وکٹوں سے فتح حاصل کی تھی۔

Facebook Comments