نیوزی لینڈ تیسرے ایک روزہ میں بھی ناکام؛ سیریز انگلستان کے نام

تین ایک روزہ مقابلوں کے سیریز کے آخری مقابلے میں انگلستان نے نیوزی لینڈ کو ایک آسان مقابلے کے بعد 5 وکٹ سے شکست دے دی۔ انگلش تیز گیند باز اسٹیون فن کی بہترین گیند بازی کے سامنے کوئی بھی بلیک کیپس بلے باز نہ ٹک سکا ماسوائے نیوزی لینڈ کے وکٹ کیپر و کپتان برینڈن میک کولم، جنہوں نے 5 چھکوں اور 6 چوکوں سے مزین 79 رنز کی اننگ کھیلی۔ دیگر بلے بازوں کے غیر ذمہ دارانہ بلے بازی کے باعث نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم43.5 اوورز میں صرف 185 کا مجموعہ اکھٹا کر کے پویلین لوٹ گئی۔ جواب میں انگلستانی بلے بازوں نے 38 ویں اوور میں ہی ہدف حاصل کرلیا اور تیسرے مقابلے میں فتح کے ساتھ سیریز بھی اپنے نام کرلی۔ یہ 1992ء کے بعد انگلستانی ٹیم کی نیوزی لینڈ کے خلاف ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں پہلی فتح ہے۔

اسٹیون فن نے 9 اوورز میں صرف 27 رنز کے عوض 3 بلیک کیپس بلے بازوں کو آؤٹ کیا (تصویر: گیٹی امیجز)

اسٹیون فن نے 9 اوورز میں صرف 27 رنز کے عوض 3 بلیک کیپس بلے بازوں کو آؤٹ کیا (تصویر: گیٹی امیجز)

آکلینڈ کے میدان میں انگلستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلیک کیپس کو کھیلنے کی دعوت دی تو گذشتہ مقابلوں کی طرح اس بار بھی میزبان ٹیم کے بلے بازوں سے جارح مزاج بلے بازی اور بڑے مجموعے کی توقع تھی تاہم انگلش تیز گیند بازوں کی انتہائی شاندار گیند بازی خصوصاً اسٹیون فن اور جیمز اینڈرسن کے ابتدائی اوورز نے شروع ہی میں نیوزی لینڈ کو دیوار سے لگا دیا۔ ان دونوں گیند بازوں نے صرف 11 رنز دے کر 3 بلیک کیپس کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ بعد ازاں اسٹورٹ براڈ اور گریم سوان نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ اس دوران صرف برینڈن میک کولم ہی تنہ تنہا میزبان ٹیم کی کشتی کو انگلش گیند بازوں کے بھنور سے نکالنے کی کوشش کرتے رہے تاہم کوئی بھی دوسرا بلے باز مخالف ٹیم کے گیند بازوں کے سامنے نہ ڈٹ سکا۔ ان فارم برینڈن میک کولم کی قابل تعریف نصف سنچری اننگ ہی کے باعث نیوزی لینڈ ایک ایسے اسکور تک پہنچ سکا کہ جس کا دفاع کیئے جانے کی امید کی جاسکتی تھی۔

گیند بازی میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی انگلش ٹیم نے بلے بازی کی شروعات بھی مستحکم انداز سے کی۔ کپتان ایلسٹر کک اور ایان بیل نے ہدف کا تعاقب سمجھداری سے شروع کیا اور دیگر بلے بازوں نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ انگلش ٹیم کے لیے سب سے اہم شراکت داری دوسری وکٹ کے درمیان ایلسٹر کک اور جوناتھن ٹراٹ کے مابین ہوئی کہ جس میں 67 رنز بنے۔ 109 کے مجموعی اسکور پر ٹم ساؤتھی نے پہلے ٹراٹ اور پھر تین رنز اضافے کے بعد ایلسٹر کک کو پویلین کا رستہ دکھا کر انگلش ڈریسنگ روم میں قدرے پریشان صورتحال پیدا کردی۔ جوناتھن ٹراٹ نے 38 رنز کی اننگ کھیلی جبکہ ایلسٹر کک صرف 4 رنز کے فرق سے اپنی نصف سنچری مکمل نہ کرسکے اور 46 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔ اس موقع پر تجربکار ایون مورگن نے اپنے نئے ساتھی جو روٹ کے ہمراہ 56 رنز کی شراکت قائم کی۔ ایون مورگن نے 39 رنز کی اننگ کھیلی جبکہ جو روٹ نے 28 رنز کی ناقابل شکست اننگ کھیل کر اپنی ٹیم کے لیے ہدف کا حصول ممکن بنا دیا۔

انگلستان نے 1992ء کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں فتح حاصل کی (تصویر: AFP)

انگلستان نے 1992ء کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ایک روزہ مقابلوں کی سیریز میں فتح حاصل کی (تصویر: AFP)

انگلستان کی زبردست گیند بازی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نیوزی لینڈ کے چھ بلے باز اپنے انفرادی اسکور کو دوہرے ہندسے میں بھی داخل نہ کرسکے۔مہمان ٹیم کی جانب سے اسٹیون فن نے 3 جبکہ اسٹورٹ براڈ اور گریم سوان نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹم ساؤتھی نے 3 اور اینڈریو ایلس نے 2 انگلش بلے بازوں کو آؤٹ کیا۔

ٹی ٹونٹی اور ایک روزہ دونوں طرز کے مقابلوں میں نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنے ہی ہوم گراؤنڈ پر انگلستان کے ہاتھوں رسوا ہوچکی ہے۔ اب دونوں ٹیمیں دورے کے آخری مرحلے میں تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے لیے تیاری کریں گی کہ جس کا آغاز 6 مارچ سے ہوگا۔

Facebook Comments