[گیارہواں کھلاڑی] سوال جواب قسط 6

وائٹ واش اور کلین سویپ میں کیا فرق ہے؟ احمد فراز

جب کوئی ٹیم کسی سیریز میں تمام مقابلے جیت جائے تو اسے وائٹ واش یا کلین سویپ کہتے ہیں۔ اس کے لیے دونوں اصطلاحات استعمال کی جاسکتی ہیں۔ عموماً کلین سویپ وہاں استعمال کرنا زیادہ مناسب لگتا ہے جہاں کسی ٹیم نے مخالف کو ہر شعبے میں مکمل طور پر سرنگوں رکھ کر تمام مقابلے جیتے ہوں جیسا کہ حال ہی میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کیا۔

hattrick ball

پہلی ہیٹ ٹرک کرنے والا گیند باز کون تھا؟

کرکٹ تاریخ کی پہلی ہیٹ ٹرک کس نے اور کب کی؟ محمد رضا حسین

سن 1858ء میں سب سے پہلے ہیٹ-ٹرک کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی جب آل انگلستان الیون (All-England Eleven) کے کھلاڑی ہیتھ فیلڈ اسٹیفنسن نے مسلسل گیندوں پر تین وکٹ حاصل کیں۔ انہیں اس کارنامے پر ایک ہیٹ اعزاز کے طور پر دیا گیا جس سے یہ اصطلاح 'ہیٹ - ٹرک' استعمال ہونے لگی۔ ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے فریڈ اسپوفورتھ نے پہلی ہیٹ - ٹرک 1979ء میں ایم سی جی کے مقام پر انگلستان کے خلاف کی۔ ایک روزہ مقابلوں کی بات کریں تو 1979ء میں پاکستان کے جلال الدین نے حیدرآباد کے مقام پر آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہوئے پہلی ہیٹ - ٹرک کی۔

اولمپکس کھیلوں میں کرکٹ کیوں شامل نہیں؟ عاطف حسین

اولمپک گیمز میں ان کھیلوں کو شامل کیا جاتا ہے جو پوری دنیا میں کھیلے جاتے ہوں یا زیادہ تر ممالک میں کھیلے جاتے ہوں۔ ایسا کوئی کھیل شامل نہیں کیا جاتا جو چند ممالک میں کھیلا جائے۔ کرکٹ گنے چنے ممالک میں کھیلی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ دنیا کے بڑے ممالک اس کرکٹ میں بالکل ہی دلچسپی نہیں لیتے جیسے امریکا، جاپان، روس، چین، ہسپانیہ، جرمنی وغیرہ۔ اور سب سے بڑھ کر کرکٹ کے کھیل میں پیچیدگیاں ہیں جس سے وقت زیادہ لگتا ہے، جب تک مقابلہ ختم نہیں ہوتا آپ کوئی اور کھیل اس میدان پر شروع نہیں کرسکتے، خراب موسم کی وجہ سے کھیل سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ البتہ ٹی ٹونٹی کرکٹ کی مقبولیت سے ہوسکتا ہے کہ آئندہ 15 سے 20 سالوں میں شاید اسے اولمپک کھیلوں میں شامل کرلیا جائے۔

ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے خلاف جاری سیریز کے پہلے ون ڈے میچ میں اننگز کی آخری گیند پر ڈیرن براوو نے اپنی سنچری مکمل کی۔ ایسے واقعات کرکٹ تاریخ میں کتنی بار پیش آئے ہیں جب کسی کھلاڑی نے اننگز کی آخری گیند پر سنچری مکمل کی ہو؟ گل نبی

martin guptill last ball century

مارٹن گپٹل اننگ کی آخری گیند پر سنچری مکمل کرنے اور ٹیم کو دلوانے والے کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں

آپ کا سوال بہت ہی دلچسپ ہے۔ بجا طور پر 22 فروری 2013ء کو ڈیرن براوو نے اپنے کیریئر کی پہلی سنچری زمبابوے کے خلاف میچ کی آخری گیند پر مکمل کی۔ اس سے پہلے 23 دسمبر 2012ء کو نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل نے جنوبی افریقہ کے خلاف مشرقی لندن میں آخری گیند پر باؤنڈری لگا کر نہ صرف اپنی سنچری مکمل کی بلکہ اپنی ٹیم کو فتح بھی دلوائی (اس سنسنی خیز میچ کا مکمل احوال پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)۔ اس طرح کے بہت کم واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ابھی میں نے اپنی ڈائری میں اس کو شامل کرلیا ہے اور میں وقتاً فوقتاً ایسے واقعات پرانے اعداد و شمار سے دیکھتا رہوں گا، جوں ہی مجھے اس طرح کا مزید کوئی واقعہ ملے گا تو ضرور کرک نامہ کے توسط سے تمام قارئین کے لئے پیش کروں گا۔

ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کب اور کیوں بنایا گیا؟ اسے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے؟ اویس سلیم

اس سوال کا قسط 2 میں تفصیلی جواب دے چکا ہوں۔ یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ کرکٹ کا کھیل خراب موسم کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے، اس صورتحال میں نتیجہ نکالنے کے لیے یہ طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے۔ مزید جاننے کے لئے قسط نمبر 2 ملاحظہ کرلیں۔

کیا ڈومیسٹک یا انٹرنیشنل کرکٹ میں کوئی ایسا کھلاڑی گزرا ہے جو دونوں ہاتھوں یعنی دائیں اور بائیں ہاتھ سے بیٹنگ یا بولنگ کرتا ہو؟ حسیب

ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا  ہے کہ کوئی کھلاڑی دائیں اور بائیں دونوں طرف سے بلے بازی کرتا ہوں لیکن ایک دفعہ بھارتے کے لیجنڈری بلے بازی سنیل گاوسکر نے 1981/82 کی رنجی ٹرافی کے سیمی فائنل میں بمبئی کی طرف سے کھیلتے ہوئے کرناٹک کے خلاف بنگلور کے مقام تقریباً ایک گھنٹہ بائیں ہاتھ سے بلے بازی کی۔ گواسکر نے عرصے پہلے ایک انٹرویو میں ہنستے ہوئے کہا کہ "کافی سال بعد میں بمشکل یقین کرتا ہوں کہ میں کیسے 60 منٹ تک کریز پر بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتا رہا، عام طور پر بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے بلے باز کافی اچھے ہوتے ہیں لیکن میں ایک خراب بلے باز رہا ہوں۔"

ٹیسٹ مقابلوں میں سفید یونی فارم کیوں پہنا جاتا ہے؟

ٹیسٹ مقابلوں میں سفید یونی فارم کیوں پہنا جاتا ہے؟

مجھے خوشی ہوگی کہ اگر ہمارے قارئین اس طرح کے دلچسپ واقعات جو بہت کم وقوع پذیر ہوتے ہیں کے متعلق ہم سے ضرور پوچھیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں ٹیمیں سفید کپڑے کیوں پہنتی ہیں؟ محمد بلال خان

ٹیسٹ کرکٹ دن کی روشی میں کھیلی جاتی ہے اور سورج کی شدت سے بچنے کے لیے سفید رنگ کافی مفید ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی اصل وجہ بھی ہے کہ سرخ رنگ کی گیند کو اچھی طرح سے پرکھا جاسکتا ہے، یعنی کھلاڑیوں کے سفید یونیفارم کے ساتھ لال رنگ کی گیند زیادہ واضح نظر آتی ہے جس سے اسے دیکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

Facebook Comments