ایک بار پھر یووراج کا راج، ویسٹ انڈیز زیر

آل راؤنڈ یووراج سنگھ اور ویسٹ انڈین بلے بازوں کی ایک اور ناقص کارکردگی کی بدولت بھارت نے آخری گروپ میچ میں ویسٹ انڈیز کو 60 رنز سے شکست دے کر گروپ 'بی' میں دوسری پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ یوں اب کوارٹر فائنل میں اس کا مقابلہ دفاعی چیمپئن آسٹریلیا سے ہوگا۔ جبکہ اس شکست کے بعد ویسٹ انڈیز گروپ میں چوتھے نمبر پر پہنچ گیا ہے جس کا سامنا گروپ اے کی سرفہرست ٹیم پاکستان سے ہوگا۔

جارح مزاج یووراج سنگھ کی ایک اور شاندار کارکردگی (اے ایف پی)

ویسٹ انڈیز نے 269 رنز کے ہدف کے تعاقب کا آغاز مثالی انداز میں کیا اور صرف دو وکٹوں کے نقصان پر ہی نصف سے زیادہ منزل طے کر لی۔ 31 ویں اوور میں جب اس کا اسکور 154 تھا اس وقت ظہیر خان نے ڈیوون اسمتھ کو 81 رنز پر بولڈ کیا تو گویا سیلاب کا بند ٹوٹ گیا۔ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے ساتھ محض 115 رنز کا تعاقب ویسٹ انڈیز کے لیے ایک مشکل ہدف بن گیا اور آخری 8 وکٹیں اسکور میں محض 34 رنز کا اضافہ کر سکیں۔ انگلستان کے خلاف بھی ویسٹ انڈین بیٹنگ لائن اپ اسی طرح ڈھیر ہو ئی تھی اور جیتی ہوئی بازی حریف ٹیم کے سامنے ہار دی۔ اسمتھ کے 81 کے علاوہ صرف رامنریش سروان 39 رنز کے ساتھ کچھ مزاحمت کر سکے۔ ان کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے تمام بلے باز بھارتی اسپنرز کا مقابلہ نہ کر سکے۔ فاسٹ باؤلر ظہیر خان نے 3 وکٹوں کے ذریعے میچ کا پانسہ پلٹا۔ پہلی بار آزمائے گئے روی چندر آشون نے 2 کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا جبکہ پہلی اننگ کے سنچری میکر یووراج نے بھی دو وکٹیں حاصل کیں۔ جبکہ ایک، ایک وکٹ ہربھجن سنگھ اور سریش رائنا کو ملی۔

قبل ازیں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور پہلے ہی اوور میں سچن ٹنڈولکر کی وکٹ گنوانے کے باوجود اننگ کو درست سمت میں آگے بڑھایا۔ ویرات کوہلی اور یووراج سنگھ کی 122 رنز کی شاندار شراکت نے بھارت کی فتح کی بنیاد رکھی تاہم اس کے دیگر بلے باز ایک مرتبہ پھر اننگ کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے۔ ویسٹ انڈین کپتان ڈیرن سیمی نے 9 اور 13 کے انفرادی اسکورز پر یووراج سنگھ کے دو کیچز ڈراپ کیے جو ویسٹ انڈیز کو بہت مہنگے پڑے۔

روی رام پال، جنہوں نے عالمی کپ میں اپنے پہلے ہی میچ کو یادگار بنا لیا (اے ایف پی)

یہ ٹورنامنٹ میں ایک اور موقع تھا جب بھارت مستحکم بنیاد ملنے کے باوجود حریف ٹیم کو بہت بڑا ہدف نہ دے سکا۔ اس کی آخری 7 وکٹیں محض 50 رنز کا اضافہ کر سکیں۔ یووراج سنگھ نے 123 گیندوں پر 2 چھکوں اور 10 چوکوں کی 113 رنز بنائے اور ایک مرتبہ پھر بھارتی اننگ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ان کا ساتھ دینے والے ویرات کوہلی نے 76 گیندوں پر 59 رنز بنائے۔

ویسٹ انڈیز کے روی رام پال نے اپنی خوبصورت باؤلنگ کے ذریعے اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا اور پہلے اوور میں سچن کی وکٹ سمیت 51 رنز 5 وکٹیں حاصل کیں۔ دو وکٹیں آندرے رسل کو اور ایک، ایک وکٹ ڈیرن سیمی، وریندر بشو اور کیرون پولارڈ کو ملیں۔

ویسٹ انڈیز نے حیران کن طور پر کرس گیل اور کیمار روچ کو آرام دینے کا فیصلہ کیا اور ان کی جگہ کرک ایڈورڈز اور روی رام پال کو پہلی بار ٹیم کا حصہ بنایا۔ جبکہ بھارت نے زخمی وریندر سہواگ اور جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اشیش نہرا کو باہر بٹھایا جن کی جگہ سریش رائنا اور روی چندر آشون کو کھلایا گیا۔ یووراج سنگھ کو شاندار کارکردگی پر ایک مرتبہ پھر میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا۔

یہ عالمی کپ کے گروپ مرحلے کا آخری میچ تھا جس کے ساتھ ہی کوارٹر فائنل کے تمام میچز کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ گروپ اے میں پاکستان سرفہرست جبکہ سری لنکا دوسرے، آسٹریلیا تیسرے اور نیوزی لینڈ چوتھے نمبر پر ہے جبکہ گروپ بی میں جنوبی افریقہ پہلے، بھارت دوسرے، انگلستان تیسرے اور ویسٹ انڈیز چوتھے نمبر پر ہے۔

اس طرح پاکستان کا مقابلہ ویسٹ انڈیز سے، سری لنکا کا انگلستان سے، آسٹریلیا کا بھارت سے اور نیوزی لینڈ کا جنوبی افریقہ سے ہوگا۔

بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والا کوارٹر فائنل 24 مارچ کو احمد آباد کے سردار پٹیل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

میچ کی جھلکیاں

بشکریہ ای ایس پی اسٹار

Facebook Comments