وسیم اکرم جیسی یارکرز پھینکو: ایلن ڈونلڈ کی باؤلرز کو ہدایت

ایک طرف جہاں پاکستان کو سوائے ٹی ٹوئنٹی ایک فتح کے کوئی جائے قرار نہیں مل رہی، وہیں میزبان جنوبی افریقہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے پاکستان ہی سے تعلق رکھنے والے ماضی کے ایک عظیم باؤلر کی جانب دیکھ رہا ہے۔ معروف کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق جنوبی افریقہ کے باؤلنگ کوچ ایلن ڈونلڈ نے کہا ہے کہ وہ آخری اوورز میں اپنے گیند بازوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں اور اس کے لیے یارکرز کا بھرپور استعمال چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اُن کی نظریں صرف ایک شخصیت پر ہیں اور وہ ہے وسیم اکرم!

آخری اوورز میں یارکر سے بہترین ہتھیار کوئی نہیں، جنوبی افریقی باؤلنگ کوچ (تصویر: Getty Images)

آخری اوورز میں یارکر سے بہترین ہتھیار کوئی نہیں، جنوبی افریقی باؤلنگ کوچ (تصویر: Getty Images)

دوسرے ایک روزہ سے قبل سنچورین میں گفتگو کرتے ہوئے ایلن ڈونلڈ نے کہا کہ ہم نے گزشتہ روز وسیم اکرم کی چند وڈیوز دیکھیں کہ وہ کس طرح یارکرز پھینکا کرتے تھے۔ ہم حتمی اوورز میں دنیا کا بہترین باؤلنگ یونٹ بننا چاہتے ہیں تاکہ سخت دباؤ کی صورتحال میں مقابلے کو اپنی سمت جھکائیں۔ کسی زمانے میں آخری اوورز میں وسیم اکرم کے سامنا کرنے کا مطلب تھا کہ اب بلے باز کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں۔ وہ گیند کو دونوں جانب سوئنگ کرتے تھے اور یہی ہم چاہتے ہیں کہ گیند بلے باز تک پہنچنے سے پہلے سمجھی نہ جا سکے۔"

نیوزی لینڈ کے ساتھ کھیلی گئی گزشتہ سیریز کے بعد سے حتمی اوورز میں جنوبی افریقہ کی باؤلنگ ایک بڑی کمزوری کی صورت میں پہچانی گئی ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے میں وہ 209 رنز کا دفاع نہ کر پائے تھے اور نیوزی لینڈ ناقابل یقین انداز میں ایک وکٹ سے میچ جیت گیا تھا، لیکن اس میچ کے بعد جنوبی افریقہ نے اگلے دونوں مقابلوں میں آخری پانچ اوورز میں 53 اور 46 رنز کھائے۔ یہیں سے ایلن ڈونلڈ نے اس کمزوری کو پکڑا اور اب پاکستان کے خلاف اس کمزوری پر قابو پانے کے لیے حکمت عملی مرتب کر رہے ہیں۔

اس صورتحال کے دوبارہ پیدا ہونے سے روکنے کے لیے ڈونلڈ نے پاکستان کے خلاف سیریز کے لیے نیا ہدف مقرر کیا ہے "حتمی اوورز میں پے در پے یارکرز اولین ترجیح"۔

اس مقصد کے لیے جنوبی افریقی باؤلنگ کوچ نے باؤلرز کے لیے مخصوص تربیتی سیشن منعقد کیے جس میں باؤلرز نے نئے اور پرانے دونوں گیندوں سے سوئنگ اور ریورس سوئنگ کا استعمال کرتے ہوئے گیندیں پھینکیں۔ اس کے علاوہ مختلف اہداف طے کر کے گیندبازوں کو باؤلنگ کے مواقع دیے گئے جبکہ وڈیو سیشن بھی منعقد ہوئے، جن میں ڈونلڈ کے بقول وسیم اکرم کی وڈیوز دکھائی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوم فاؤنٹین میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میں میدان کی وسعت کی وجہ سے شارٹ گیندیں پھینکنے کی خصوصی ہدایت کی گئی تھیں اور اس نے کام بھی دکھایا۔ شارٹ گیندوں کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن اگر حتمی اوورز میں وکٹیں لینی ہیں تو یارکر سے بہتر ہتھیار کوئی نہیں۔

جنوبی افریقہ تو وسیم اکرم کی وڈیوز دیکھ کر اپنے گیندبازوں کو سکھا رہا ہے جبکہ پاکستان کے کیمپ میں کیا کھچڑی پک رہی ہے؟ کچھ نہیں معلوم۔ پہلے ایک روزہ میں جیسی کارکردگی دکھائی گئی اس سے تو لگتا تھا کہ ون ڈے سیریز کےلیے سرے سے کوئی منصوبہ بندی ہی نہیں کی گئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سنچورین میں دوسرے ون ڈے میں ٹیم کیا گل کھلاتی ہے؟

Facebook Comments