بھارتی کوچ ڈنکن فلیچر کے عہدے کی میعاد میں ایک سال کی توسیع

مختلف ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز میں پے در پے ناکامیوں کا شکار ہونے کے بعد سخت تنقید کا نشانہ بننے والے بھارت کے کوچ ڈنکن فلیچر کو عہدے پر ایک سال کی توسیع دے دی گئی ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی ورکنگ کمیٹی نے ممبئی میں ہونے والے اپنے اجلاس میں انہیں مزید ایک سال کے لیے عہدے پر برقرار رکھا ہے۔ شاید آسٹریلیا کے خلاف حالیہ دونوں ٹیسٹ مقابلوں میں عمدہ کارکردگی اور فتوحات اپنا کام دکھا گئی ہیں، ورنہ ٹیسٹ کے اکھاڑے میں بھارت کی گزشتہ دو سال کی کارکردگی سب کے سامنے ہے، جن میں کمزور حریفوں پر فتوحات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

لگتا ہے آسٹریلیا کے خلاف حالیہ کارکردگی اور ایک روزہ درجہ بندی میں اول پوزیشن اپنا کام دکھا گئی ہے (تصویر: AFP)

لگتا ہے آسٹریلیا کے خلاف حالیہ کارکردگی اور ایک روزہ درجہ بندی میں اول پوزیشن اپنا کام دکھا گئی ہے (تصویر: AFP)

فلیچر نے اپریل 2011ء میں اس وقت بھارت کے کوچ کی ذمہ داری سنبھالی تھی جب گیری کرسٹن بھارت کو ورلڈ کپ جتوانے کے بعد عہدہ چھوڑ گئے تھے۔ ڈنکن فلیچرکو دو سال کی مدت کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا تھا، جس میں اب مزید ایک سال کی توسیع ہوئی ہے۔ جس میں بھارت جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے مشکل دورے کرنے کے علاوہ چیمپئنز ٹرافی اور کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2014ء جیسے اہم ترین ٹورنامنٹ کھیلے گا۔

جب فلیچر نے بھارت کے کوچ کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی تھی تو وہ ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی میں نمبر ایک تھا جبکہ ایک روزہ کرکٹ کا نیا نویلا عالمی چیمپئن بھی۔ گیری کرسٹن نے بھارتی کرکٹ کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیا تھا۔ گو کہ ورلڈ چیمپئن کا اعزاز 2015ء تک اب بھی بھارت سے کوئی نہیں چھین سکتا لیکن گیری کے جاتے ہی وہ ٹیسٹ نمبر ون پوزیشن سے محروم کر دیا گیا۔ انگلستان اور آسٹریلیا کے دوروں میں بدترین شکستوں نے بھارتی کرکٹ کو بڑے گھاؤ دیے۔ معاملہ یہیں نہیں رکا بلکہ ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ جیسے کمزور حریفوں کے خلاف اپنے میدانوں میں فتوحات حاصل کرنے کے بعد جب انگلستان مقابلہ کرنے آیا تو بھارت کو اس میں بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور پھر سال کی سب سے بڑی سیریز میں روایتی حریف پاکستان نے بھی اسے پچھاڑ دیا۔

لیکن اس کے مقابلے میں ایک روزہ میں بھارت کی کارکردگی میں بہت تسلسل رہا اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس وقت ایک روزہ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں سرفہرست ہے۔ شاید یہی آسٹریلیا کے خلاف حالیہ کارکردگی اور ایک روزہ میں نمبر ون پوزیشن ہی فلیچر کے عہدے میں توسیع کا سبب بنی ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ ایک سال میں وہ اپنی ذمہ داریوں سے کیسے عہدہ برآ ہوتے ہیں۔

دوسری جانب بھارت نے فیلڈنگ کوچ ٹریور پینی کے عہدے میں بھی ایک سال کے لیے توسیع کر دی ہے۔

Facebook Comments