ہاشم-ڈی ولیئرز ریکارڈ شراکت داری، جنوبی افریقہ جیت گیا، شاہد کی اننگز رائیگاں

پاکستان کے ٹاس جیت کر باؤلنگ کرنے کا ایک اور انوکھا فیصلے، پھر ناقص باؤلنگ اور فیلڈنگ نے جنوبی افریقہ کو سیریز میں برتری دے دی۔ نیو وینڈررز کے چھوٹے اسٹیڈیم جنوبی افریقہ نے نہایت سست روی سے آغاز کیا اور ابتدائی 10 اوورز تک صرف 26 رنزبنا سکا لیکن پھر خوب 'دعوت شیراز' لوٹی۔ ایک روزہ کرکٹ کے دونوں سرفہرست بلے بازوں ہاشم آملہ اور ابراہم ڈی ولیئرز نے تو پاکستانی باؤلرز کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا۔

کپتان ڈی ولیئرز نے ہاشم آملہ کے ساتھ ڈبل سنچری رفاقت کے ذریعے جنوبی افریقہ کی فتح کی بنیاد رکھی (تصویر: AP)

کپتان ڈی ولیئرز نے ہاشم آملہ کے ساتھ ڈبل سنچری رفاقت کے ذریعے جنوبی افریقہ کی فتح کی بنیاد رکھی (تصویر: AP)

ہاشم آملہ اور ڈی ولیئرز نے صرف 182 گیندوں پر 238 رنز کی ریکارڈ ساز رفاقت بنائی جو پاکستان کے خلاف کسی بھی ٹیم کی سب سے بڑی شراکت داری کا نیا ریکارڈ تھا۔ گزشتہ ریکارڈ بھی جنوبی افریقہ ہی کے ڈیرل کلینن اور جونٹی رہوڈز کو حاصل تھا جنہوں نے 1996ء میں 232 رنز کی رفاقت کھیلی تھی۔ ہاشم-ڈی ولیئرز شراکت داری مجموعی طور پر ایک روزہ تاریخ کی تیسری سب سے بڑی ساجھے داری بھی تھی۔

دونوں بلے باز اس وقت کریز پر آئے تھے جب 14 ویں اوور میں جنوبی افریقہ اپنی دوسری وکٹ سے محروم ہوا اور اسکور بھی محض 42 رنز تھا۔اس موقع پر انہوں نے یادگار باریاں کھیلیں۔ ہاشم آملہ 114 گیندوں پر 9 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 122 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔ یہ ہاشم آملہ کے ون ڈے کیریئر کی گیارہویں سنچری تھی اور وینڈررز میں پہلی۔ دوسرے اینڈ سےکپتان ڈی ولیئرز کی طوفانی اننگز نے پاکستانی گیندبازوں کو بہت پریشان کیا۔ انہوں نے 108 گیندوں پر تین شاندار چھکوں اور 12 چوکوں کی مدد سے 128 رنز بنائے اور اس وقت آؤٹ ہوئے جب جنوبی افریقہ 300 کا ہندسہ بھی عبور کر چکا تھا۔

جو کسر رہ گئی تھی، حتمی لمحات میں فف دو پلیسی نے وہ بھی پوری کر دی۔ انہوں نے صرف 19 گیندوں پر 45 رنز جڑ کر وہ اننگز کھیل ڈالی جو بعد ازاں فرق ثابت ہوئی۔ انہوں نے 48 ویں اوور میں وہاب ریاض کو دو چھکے اور دو چوکے رسید کر کے 20 رنز لوٹے اور گویا پاکستانی باؤلنگ لائن اپ کو چاروں شانے چت کر دیا۔

مقررہ 50 اوورز میں جنوبی افریقہ نے محض 5 وکٹوں کے نقصان پر 343 رنز بنائے اور پاکستان کو 344 رنز کا بھاری ہدف دیا۔

وہاب ریاض نے 10 اوورز میں ریکارڈ 93 رنز کھائے (تصویر: AP)

وہاب ریاض نے 10 اوورز میں ریکارڈ 93 رنز کھائے (تصویر: AP)

پاکستان کو میچ میں باؤلنگ کے شعبے میں دھچکا بھی پہنچا کیونکہ ہمسٹرنگ کے مسئلے کے باعث محمد عرفان محض 7 اوورز کروا سکے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کو ابتدائی دونوں وکٹوں کا نقصان پہنچایا تھا۔ لیکن دوسری جانب حال بہت برا رہا۔ وہاب ریاض نے 10 اوورز میں 93رنز دے کر نیا ریکارڈ قائم کیا یعنی پاکستان کی جانب سے کسی ایک اننگز میں سب سے زیادہ رنز دینے والے باؤلر۔ انہوں نے فروری 2007ء میں رانا نوید الحسن کا بنایا گیا "ریکارڈ" اپنے نام کیا۔ اس کی مزید تفصیلات کرک نامہ کی خصوصی تحریر میں دیکھیں۔

ان کے علاوہ شاہد آفریدی نے 7 اوورز میں 55، محمد حفیظ نے 6 اوورز میں 49 اور سعید اجمل نے 10 اوورز میں 62 رنز کھائے۔عرفان اور وہاب کو دو، دو اور سعید کو ایک وکٹ ملی۔

پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کو دیکھتے ہوئے تو 344 رنز کےہدف کا حصول ایک انہونی لگتا تھا خصوصاً چوتھے اوور میں ناصر جمشید کا آؤٹ ہونا پہلا جھٹکا ثابت ہوا۔ دوسری وکٹ پر کامران اکمل اور محمد حفیظ نے 82 رنز جوڑ کو اننگزکو پھر پٹڑی پر ڈالا اور امید کی کچھ کرن پیدا ہوئی لیکن 30 رنز بنانے والے کامران کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کی اننگز منہ کے بل نیچے آ گری۔ محمد حفیظ 49 گیندوں پر 57، یونس خان 19 اور شعیب ملک 4 رنز بنانے کے بعد اپنی وکٹیں دے کر چلتے بنے اور پاکستان کے لیے میچ کا فیصلہ ہو گیا۔ کہاں 97 رنز پر ایک کھلاڑی آؤٹ اور کہاں 132 رنز پر آدھی ٹیم پویلین لوٹ چکی تھی۔

اس مرحلے پر شاہد آفریدی اور کپتان مصباح الحق نے چھٹی وکٹ پر 71 رنز جوڑے اور بالخصوص شاہد کی دھواں دار بیٹنگ دیکھتے ہوئے لگتا تھا کہ اگر پاکستان کو وکٹیں میسر ہوتیں تو وہ میچ نکالنے میں کامیاب ہو جاتا۔ انہوں نے ابتداء ہی میں لونوابو سوٹسوبے کو مسلسل دو چھکے رسید کر کے اپنے ارادے ظاہر کر دیے تھے۔ پھر سوائے ڈیل اسٹین کے کون سا جنوبی افریقہ باؤلر تھا جو ان کے عتاب سے بچ پایا۔ مصباح تو اس سفر میں 28 رنز بنا کر آفریدی کا ساتھ چھوڑ گئے، لیکن قسمت نے شاہد کا ساتھ نہ چھوڑا۔

شاہد آفریدی کا ساتھ دینے کے لیے کوئی بلے باز نہ تھا، ورنہ ان کی 88 رنز کی اننگز میچ نکال جاتی (تصویر: AP)

شاہد آفریدی کا ساتھ دینے کے لیے کوئی بلے باز نہ تھا، ورنہ ان کی 88 رنز کی اننگز میچ نکال جاتی (تصویر: AP)

اننگز کے 35 ویں اوور میں راین میک لارن کو ایک چوکا اور چھکا لگانے کے بعد شاہد ایک اندر آتی ہوئی یارکر کو کھیلنے کی کوشش میں بولڈ ہو گئے اور پویلین لوٹنے لگے لیکن امپائر نے نو بال پر نظرثانی کے لیے تیسرے امپائر سے رجوع کیا، جنہوں نے وڈیو ری پلے دیکھنے کے بعد گیند کو نو بال قرار دیا اور یوں آفریدی ایک مرتبہ پھر میدان میں لوٹ آئے اور ملنے والی فری ہٹ پر گیند کو میدان سے باہر پھینک دیا۔ اگلے ہی اوور میں انہیں باؤنڈری پر گریم اسمتھ کے کیچ چھوڑنے سے اک نئی زندگی ملی لیکن ایک ہی گیند کے بعد وہ ایک فل ٹاس گیندکو لانگ آف باؤنڈری سے باہر پھینکنے کی کوشش میں کیچ دے بیٹھے۔

ایک زبردست اننگز کا خاتمہ ہوا، صرف 48 گیندوں پر 7 چھکے اور 5 چوکے اور 88 رنز! ایک طویل عرصے بعد شائقین کرکٹ کو آفریدی کے بلے کا جادو نظر آیا۔ بہرحال، میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ جسے اس وقت بھی جیتنے کے لیے 100 رنز کی ضرورت تھی۔

حتمی لمحات میں وہاب ریاض نے 52 گیندوں پر 45 رنز بنا کر کفارہ ادا کرنے کی کوشش کی لیکن یہ باری صرف ہار کے کے مارجن کو کم کر سکی کیونکہ پاکستانی ٹیم 49 ویں اوور میں 309 رنز بنا کر آل آؤٹ ہو گئی اور یوں جنوبی افریقہ 34 رنز سے فتح یاب قرار پایا۔ اس جیت کی بدولت جنوبی افریقہ کو پانچ مقابلوں کی سیریز میں دو-ایک کی برتری حاصل ہو گئی ہے۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے سوٹسوبے نے گو کہ تین وکٹیں لیں لیکن آفریدی کی مدارات کے باعث انہیں 10 اوورز میں 74 رنز پڑے۔ ان کے علاوہ میک لارن نے 56 رنز دے کر 3 ہی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ دو وکٹیں رابن پیٹرسن کو جبکہ ایک، ایک ڈیل اسٹین اور کلین ویلٹ کو حاصل ہوئی۔

ہاشم آملہ اور ڈی ولیئرز کو مشترکہ طور پر میچ کے بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ میچ کے دوران جنوبی افریقہ نے بریسٹ کینسر کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے روایتی سبز کے بجائے گلابی رنگ کے لباس میں میچ کھیلا اور میدان میں بھی ہزاروں تماشائی گلابی رنگوں کے لباس میں ملبوس تھے۔

سیریز کا چوتھا ون ڈے 21 مارچ کو کنگزمیڈ، ڈربن میں ہوگا جہاں جنوبی افریقہ سیریز جیتنے کی کوشش کرے گا جبکہ پاکستان جان لڑا دے گا کہ مقابلہ جیت کر سیریز کو پھر برابر کرے اور معاملے کو 24 مارچ کو بینونی میں ہونے والے آخری ون ڈے تک لے جائے۔

جنوبی افریقہ بمقابلہ پاکستان

تیسرا ایک روزہ بین الاقوامی مقابلہ

17 مارچ 2013ء

بمقام: نیو وینڈررز اسٹیڈیم، جوہانسبرگ، جنوبی افریقہ

نتیجہ: جنوبی افریقہ 34 رنز سے فتح یاب

میچ کے بہترین کھلاڑی: ہاشم آملہ اور ابراہم ڈی ولیئرز

جنوبی افریقہ رنز گیندیں چوکے چھکے
گریم اسمتھ ب عرفان 3 1 0 0
ہاشم آملہ ک مصباح ب وہاب ریاض 122 113 9 1
کولن انگرام ک کامران ب عرفان 17 43 2 0
ابراہم ڈی ولیئرز ک شعیب ملک ب سعید اجمل 128 108 12 3
فف دو پلیسی ک یونس ب وہاب ریاض 45 19 4 3
فرحان بہاردین ناٹ آؤٹ 6 6 0 0
راین میک لارن ناٹ آؤٹ 0 1 0 0
فاضل رنز ل ب 8، و 13، ن ب 1 22
مجموعہ 50 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 343

 

پاکستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
محمد عرفان 7 1 34 2
جنید خان 10 2 42 0
وہاب ریاض 10 0 93 2
شاہد آفریدی 7 0 55 0
محمد حفیظ 6 0 49 0
سعید اجمل 10 0 62 1

 

پاکستانہدف: 344 رنز رنز گیندیں چوکے چھکے
ناصر جمشید ک آملہ ب سوٹسوبے 10 14 1 1
محمد حفیظ ک اسٹین ب پیٹرسن 57 49 6 3
کامران اکمل ک ڈی ولیئرز ب میک لارن 30 42 4 0
یونس خان ب پیٹرسن 19 20 2 0
مصباح الحق ک ڈی ولیئرز ب میک لارن 28 25 4 0
شعیب ملک ک کلین ویلٹ ب سوٹسوبے 4 12 0 0
شاہد آفریدی ک میک لارن ب سوٹسوبے 88 48 5 7
وہاب ریاض ب کلین ویلٹ 45 52 5 1
سعید اجمل ک کلین ویلٹ ب میک لارن 8 15 0 0
جنید خان ک و ب اسٹین 9 12 1 0
محمد عرفان ناٹ آؤٹ 0 1 0 0
فاضل رنز ل ب 3، و 7، ن ب 1 11
مجموعہ 48.1 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 309

 

جنوبی افریقہ (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
ڈیل اسٹین 10 1 48 1
لونوابو سوٹسوبے 10 0 74 3
روری کلین ویلٹ 9.1 1 77 1
رابن پیٹرسن 10 0 51 2
راین میک لارن 9 0 56 3

Facebook Comments