بارش نے نیوزی لینڈ کو شکست سے بچا لیا، سیریز بدستور برابر

پہلی اننگز میں 465 رنز کی مار پڑنے اور پھر فالو آن کا شکار ہونے کا بعد کس کو امید ہوگی کہ نیوزی لینڈ انگلستان کے ہاتھوں بچ پائے گا؟لیکن ویلنگٹن میں وہ قسمت کا دھنی نکلا جہاں چوتھے اور پانچویں دن کی بارش نے اسے شکست اور سیریز میں خسارے میں جانے سے بچا لیا۔ گو کہ دوسری اننگز میں میزبان بلے بازوں نے کافی جرات مندی کا مظاہرہ کیالیکن پھر بھی میچ بچانے کے لیے جس کارکردگی کی ضرورت تھی، وہ ظاہر کرنا ابھی باقی تھی کہ چوتھے دن کھانے کے وقفے پر بارش نے ایسا شہر کو آ لیا کہ نہ صرف چوتھا بلکہ پورا پانچواں دن بھی اسی کی نذر ہو گیا اور یوں انگلستان دو ٹیسٹ میچز میں بھی نیوزی لینڈ پر برتری حاصل نہ کر سکا۔ اب اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ 22مارچ سے آکلینڈ میں شروع ہونے والے تیسرے و آخری ٹیسٹ میں فتح حاصل کرے بصورت دیگر اسے عالمی درجہ بندی میں بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر وہ تیسرا ٹیسٹ جیت لیتا ہے تب بھی اسے عالمی درجہ بندی میں دو قیمتی پوائنٹس کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ لیکن اگر اسے آکلینڈ میں شکست ہوتی ہے، یعنی وہ سیریز ایک-صفر سے ہار جاتا ہے، تو بھارت-آسٹریلیا سیریز کا جو بھی نتیجہ نکلے، انگلستان اپنی دوسری پوزیشن سے محروم ہو سکتا ہے۔ اس لیے انگلستان اگلے ٹیسٹ میں اپنی جان لڑا دے گا۔

آخری روز یہ نظارہ انگلستان کے لیے حوصلہ شکن رہا، جو نیوزی لینڈ کو فالو آن کا شکار کرنے کے بعد بھی بارش کے باعث مقابلہ نہ جیت سکا (تصویر: AFP)

آخری روز یہ نظارہ انگلستان کے لیے حوصلہ شکن رہا، جو نیوزی لینڈ کو فالو آن کا شکار کرنے کے بعد بھی بارش کے باعث مقابلہ نہ جیت سکا (تصویر: AFP)

بیسن ریزرو میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیتا اور پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا لیکن ابتداء ہی میں ایلسٹر کک کی وکٹ لینے کے بعد اسے نک کامپٹن اور جوناتھن ٹراٹ کی شاندار بلے بازی کو سہنا پڑا۔ باقی پورے دن کی جدوجہد میں نیوزی لینڈ کے باؤلرز صرف ایک وکٹ لے سکے جو نک کامپٹن کی تھی جو دوسری ٹیسٹ سنچری بنانے کے فوراً بعد بروس مارٹن کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے 230 گیندیں کھیلیں اور 15 چوکوں کی مدد سے 100 رنز بنائے۔ جب پہلے روز کا کھیل اپنے اختتام کو پہنچا تو انگلستان کا اسکور 267 رنز دو کھلاڑی آؤٹ نیوزی لینڈ کے فیصلے کا منہ چڑا رہا تھا۔ جوناتھن ٹراٹ 121 اور کیون پیٹرسن 18رنز کے ساتھ ناقابل شکست تھے۔

ٹراٹ تو دوسرے روز اپنے اسکور میں کوئی اضافہ نہ کر سکے اور ٹرینٹ بولٹ کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ دے بیٹھے لیکن کیون پیٹرسن ضرور 73 رنز تک پہنچے۔ گو کہ ٹراٹ کے آؤٹ ہونے کے بعد کوئی بڑی شراکت نہ جم سکی اور این بیل 11، جو روٹ 10 اور اسٹورٹ براڈ 6 رنز کے ساتھ جلد ہی میدان سے واپس آ گئے لیکن یہ وکٹ کیپر میٹ پرائیر کی 82 رنز کی شاندار اننگز تھی جس نے اسکور کو 465 رنز تک پہنچایا۔ انہوں نے اسٹیون فن کے ساتھ مل کر آٹوںیں وکٹ پر 83 رنز کا اضافہ کیا اور بعد ازاں ٹیم 147 ویں اوور میں آل آؤٹ ہو گئی۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے بروس مارٹن نے سب سے زیادہ 4 وکٹیں لیں جبکہ دو، دو وکٹیں ٹرینٹ، بولٹ، نائیل ویگنر اور کین ولیم سن کو ملیں۔

اسٹورٹ براڈ کی چھ وکٹوں نے نیوزی لینڈ کو فالو آن پر مجبور کیا، اور انگلستان میچ پر حاوی ہو گیا (تصویر: Getty Images)

اسٹورٹ براڈ کی چھ وکٹوں نے نیوزی لینڈ کو فالو آن پر مجبور کیا، اور انگلستان میچ پر حاوی ہو گیا (تصویر: Getty Images)

یوں دوسرے روز چائے کے وقفے کے بعد نیوزی لینڈ کو بلے بازی کا موقع ملا اور ابتداء ہی میں انگلستان نے اپنی برق رفتار جوڑی اینڈرسن اور براڈ کے ذریعے مقابلے پر گرفت پا لی۔ انہوں نے پیٹر فلٹن، گزشتہ میچ کے ہیرو ہمیش ردرفرڈ اور روز ٹیلر کی وکٹیں ٹھکانے لگا کر نیوزی لینڈ کے چودہ طبق روشن کر دیے۔ ان میں سے آخر الذکر دونوں بلے باز براڈ کی دو مستقل گیندوں پر آؤٹ ہوئے۔ تجربہ کار روز ٹیلر گولڈن ڈک کا "شرف" حاصل کر کے میدان سے لوٹے تو نیوزی لینڈ کا اسکور محض 48 رنز تھا۔

تیسرے روز کین ولیم سن اور ڈین براؤنلی بھی اسی جوڑی کا نشانہ بن گئے اور نیوزی لینڈ تہرے ہندسے میں پہنچنے سے قبل اپنی آدھی ٹیم سے محروم ہو چکا تھا۔ 89 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ کا جگمگاتا ہندسہ فالو آن کے خطرے کو ظاہر کر رہا تھا۔ اس موقع پر کپتان برینڈن میک کولم نے وکٹ کیپر بریڈلے-جان واٹلنگ کے ساتھ 100 رنز جوڑ کر اس خطرے کو روکنے کی کوشش کی لیکن ان کے آؤٹ ہوتے ہی نیوزی لینڈ پر فالو آن کی تلوار لٹکنے لگی۔ میک کولم 69 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ نیوزی لینڈ تیسرے روز چائے کے وقفے پر ہی 254 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔

اسٹورٹ براڈ نے صرف 51 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ دو، دو وکٹیں اسٹیون فن اور جیمز اینڈرسن کو ملیں۔

اس موقع پر شاید انگلستان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ اب جبکہ سوا دو دن کا کھیل باقی ہے، اور حریف بھی فالو آن کا شکار ہے، وہ مقابلہ نہ جیت پائے گا لیکن دیکھئے قسمت میزبانوں کی کہ انہوں نے اس روز سنبھل کر بلے بازی کی اور 77 رنز تک اپنی صرف ایک وکٹ گنوائی اور اگلے روز کھانے کے وقفے تک بھی انگلش باؤلرز کا ڈٹ کر مقابلہ کر لیا۔ یہاں تک کہ قسمت ان پر مہربانی ہو گئی۔ چوتھے روز کھانے کے وقفے بعد بارش کے باعث بقیہ دن کھیل نہ ہو سکا اور آخری دن تو طوفانی بارش کی وجہ سے ایک گیند بھی نہ پھینکی جا سکی۔ یوں نیوزی لینڈ کی دوسری اننگز 162 رنز دو کھلاڑی آؤٹ تک محدود رہی۔ کین ولیم سن 174 رنز گیندوں پر 55 رنز کے ساتھ نمایاں رہے جبکہ پیٹر فلٹن نے 45 اور روز ٹیلر نے 41 رنز بنائے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آکلینڈ میں کیسا گھمسان کا رن پڑتا ہے۔ نیوزی لینڈ کے لیے موقع ہوگا کہ وہ جولائی 1999میں سرزمین انگلستان پر تاریخی فتح کی کہانی دہرائے یعنی کہ 14 سال بعد انگلستان کے خلاف سیریز جیتے جبکہ انگلستان ہر گز نہ چاہے گا کہ اسے ناقابل یقین شکست کا سامنا کرنا پڑے۔

نیوزی لینڈ بمقابلہ انگلستان

دوسرا ٹیسٹ

14 تا 18 مارچ 2013ء

بمقام: بیسن ریزرو، ویلنگٹن، نیوزی لینڈ

نتیجہ: بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم

انگلستانپہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
ایلسٹر کک ک فلٹن ب ویگنر 17 31 1 0
نک کامپٹن ک ٹیلر ب مارٹن 100 230 15 0
جوناتھن ٹراٹ ک واٹلنگ ب بولٹ 121 235 15 0
کیون پیٹرسن ک فلٹن ب مارٹن 73 149 7 1
این بیل ک فلٹن ب مارٹن 11 46 2 0
جو روٹ ک واٹلنگ ب مارٹن 10 20 1 0
میٹ پرائیر ک ویگنر ب ولیم سن 82 99 10 2
اسٹورٹ براڈ ک واٹلنگ ب بولٹ 6 5 1 0
اسٹیون فن ک میک کولم ب ویگنر 24 61 4 0
جیمز اینڈرسن ناٹ آؤٹ 8 5 2 0
مونٹی پنیسر ک ٹیلر ب ولیم سن 0 3 0 0
فاضل رنز ل ب 3، و 7، ن ب 3 13
مجموعہ 146.5 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 465

 

نیوزی لینڈ (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
ٹم ساؤتھی 32 9 77 0
ٹرینٹ بولٹ 30 4 117 2
نائیل ویگنر 33 5 122 2
بروس مارٹن 48 11 130 4
کین ولیم سن 3.5 0 16 2

 

نیوزی لینڈپہلی اننگز رنز گیندیں چوکے چھکے
پیٹر فلٹن ک کک ب اینڈرسن 1 24 0 0
ہمیش ردرفرڈ ک کک ب براڈ 23 65 2 0
کین ولیم سن ک و ب براڈ 42 87 7 0
روز ٹیلر ب براڈ 0 1 0 0
ڈین براؤنلی ایل بی ڈبلیو ب اینڈرسن 18 55 2 0
برینڈن میک کولم ک ٹراٹ ب فن 69 94 9 1
بی جے واٹلنگ ک پرائیر ب براڈ 60 139 9 0
ٹم ساؤتھی ک براڈ ب فن 3 5 0 0
بروس مارٹن ناٹ آؤٹ 21 47 4 0
نائیل ویگنر ک پرائیر ب براڈ 0 13 0 0
ٹرینٹ بولٹ ک پرائیر ب براڈ 2 9 0 0
فاضل رنز ل ب 10، و 2، ن ب 3 15
مجموعہ 89.2 اوورز میں تمام وکٹوں کے نقصان پر 254

 

انگلستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
جیمز اینڈرسن 25 6 68 2
اسٹیون فن 20 2 72 2
اسٹورٹ براڈ 17.2 2 51 6
مونٹی پنیسر 26 11 47 0
جو روٹ 1 0 6 0

 

نیوزی لینڈدوسری اننگز (فالو آن) رنز گیندیں چوکے چھکے
پیٹر فلٹن ک کک ب اینڈرسن 45 114 5 1
ہمیش ردرفرڈ ک بیل ب پنیسر 15 3 2 0
کین ولیم سن ناٹ آؤٹ 55 174 7 0
روز ٹیلر ناٹ آؤٹ 41 90 7 0
فاضل رنز ل ب 1، و 5 6
مجموعہ 68 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 162

 

انگلستان (گیند بازی) اوورز میڈن رنز وکٹیں
جیمز اینڈرسن 12 4 27 1
اسٹورٹ براڈ 14 6 32 0
اسٹیون فن 11 2 36 0
مونٹی پنیسر 26 12 44 1
جوناتھن ٹراٹ 3 0 10 0
جو روٹ 2 0 12 0

Facebook Comments