ڈی ولیئرز کے لیے ایک اور اعزاز، نمبر ایک بلے باز

پاکستان کے خلاف سیریز میں فاتحانہ کارکردگی دکھانے اور 'سیریز کے بہترین کھلاڑی' قرار دیے جانے کے بعد اب ابراہم ڈی ولیئرز کو ایک اور اعزاز مل چکا ہے۔ وہ ہم وطن ہاشم آملہ کے ساتھ ایک روزہ کرکٹ کے نمبر ایک بلے باز بن چکے ہیں۔

ابراہم ڈی ولیئرز اب ہم وطن ہاشم آملہ کے ساتھ مشترکہ طور پر عالمی نمبر ایک بن گئےہیں (تصویر: PA Photos)

ابراہم ڈی ولیئرز اب ہم وطن ہاشم آملہ کے ساتھ مشترکہ طور پر عالمی نمبر ایک بن گئےہیں (تصویر: PA Photos)

جنوبی افریقہ کی پاکستان پر تین-دو کی سیریز فتح کے بعد اپڈیٹ کی جانے والی عالمی درجہ بندی کے مطابق ڈی ولیئرز نے مئی 2010ء کے بعد پہلی بار نمبر ایک پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف پانچ مقابلوں میں 91.75 کے شاندار اوسط سے 367 رنز بنائے جس میں تین نصف سنچریاں اور ایک سنچری بھی شامل تھی۔ اس عمدہ کارکردگی کے ساتھ ان کے پوائنٹس کی تعداد بھی 882 ہو گئی ہے۔ یوں ہاشم آملہ اور وہ مشترکہ طور پر دنیائے کرکٹ کے بہترین بلے باز قرار پائے ہیں۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے مطابق بھارت کے ویراٹ کوہلی اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں جبکہ پاکستان کا کوئی بلے باز سرفہرست 10 کھلاڑیوں میں موجود نہیں۔ درجہ بندی کے مطابق پاکستان کے بہترین بلے باز عمر اکمل ہیں جو عالمی درجہ بندی میں 15 ویں نمبر پر ہیں اور اس وقت انہیں ٹیم میں جگہ ہی میسر نہیں۔

ان کے علاوہ کپتان مصباح الحق سیریز میں 56.75 کے اوسط سے 227 رنز بنانے کے ساتھ دوسرے بہترین بلے باز رہے، جس کا صلہ انہیں 10 درجے کی زبردست ترقی سے ملا ہے جس کی بدولت وہ 18 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔

اُدھر گیند بازوں میں پاکستان کے سعید اجمل بدستور نمبر ایک پوزیشن پر قابض ہیں جبکہ جنوبی افریقہ کے ڈیل اسٹین ایک مرتبہ پھر ٹاپ 10 میں آ گئےہیں۔ سنیل نرائن دوسرے جبکہ انگلستان کے تیز باؤلر اسٹیون فن تیسرے نمبر پر ہیں۔

اب کچھ معلومات اس سیریز کے ٹیموں کی درجہ بندی پر پڑنے والے اثرات کی۔ جنوبی افریقہ کی پاکستان پر فتح نے عالمی درجہ بندی میں بھارت کی اول اور انگلستان کی دوسری پوزیشن کو یقینی بنایا۔ دراصل ہر سال یکم اپریل کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل دونوں طرز میں دنیائے کرکٹ کی سرفہرست 4 ٹیموں کو بھاری انعامات سے نوازتا ہے، اس لیے پاک-جنوبی افریقہ سیریز کے نتیجے کا انتظار صرف ان دونوں ممالک کو نہیں تھا۔ جنوبی افریقہ کے لیے یہ سیریز دوسری پوزیشن تک پہنچنے کا ایک بہترین موقع تھی لیکن اس نے اسے گنوا دیا۔ اگر جنوبی افریقہ پاکستان کو چار-ایک کے مارجن سے زیر کرتا تو وہ اس وقت انگلستان کی جگہ دوسری پوزیشن پر قابض ہو جاتا۔ دوسری جانب پاکستان اس شکست کے ساتھ درجہ بندی میں مزید ایک پوائنٹ کھو چکا ہے البتہ اس کی چھٹی پوزیشن برقرار ہے۔

آئی سی سی ہر سال ایک روزہ عالمی درجہ بندی میں اول نمبر پر آنے والی ٹیم کو ایک لاکھ 75 ہزار ڈالرز جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم کو 75 ہزار ڈالرز دیتی ہے۔

ایک روزہ کرکٹ کی مکمل عالمی درجہ بندی پر کرک نامہ کا خصوصی صفحہ یہاں دیکھیں۔

Facebook Comments