[گیارہواں کھلاڑی] سوال جواب قسط 9

سوال: ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل مقابلوں میں اب تک سب سے زیادہ چھکے کس بیٹسمین نے لگائے ہیں؟ عبد الستار

جواب: ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کی مختصر تاریخ میں اب تک سب سے زیادہ چھکے نیوزی لینڈ کے برینڈن میک کولم نے لگائے ہیں جن کی تعداد 73 ہے۔ ان میں سے 45 چھکے انہوں نے ان مقابلوں میں لگائے جن میں نیوزی لینڈ کو فتح حاصل ہوئی جبکہ 18 شکست خوردہ اور 10 برابری کی بنیاد پر ختم ہونے والے مقابلوں میں لگائے گئے۔ ان میں سے 14 چھکے انہوں نے آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں لگا رکھے ہیں۔ کسی مخصوص ملک کے خلاف ان کے سب سے زیادہ چھکوں کی تعداد 13 ہے جو زمبابوے کے باؤلرز کو لگے۔ 32 چھکے میک کولم نے اپنی سرزمین پر کھیلتے ہوئے لگائے۔

برینڈن میک کولم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ 73 چھکے لگا رکھے ہیں (تصویر: Getty Images)

برینڈن میک کولم نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ 73 چھکے لگا رکھے ہیں (تصویر: Getty Images)

سوال: وسیم اکرم نے اپنے پورے بین الاقوامی کیریئر میں کتنے کھلاڑیوں کو بولڈ کیا؟ فارمیٹ کے حساب سے بتائیں۔ محمد لطیف بلوچ

جواب: پاکستان کے لیجنڈری تیز باؤلر وسیم اکرم نے 414 ٹیسٹ وکٹیں لے رکھی ہیں جن میں سے 102 کلین بولڈ اور 119 ایل بی ڈبلیو کیے گئے جبکہ 123 وکٹیں فیلڈرز کی مدد سے اور 70 وکٹ کیپر کی مدد سے لیں۔ وسیم اکرم نے بھارت کے کرش سری کانت کو ٹیسٹ میں سب سے زیادہ 9 مرتبہ آؤٹ کیا۔

ایک روزہ کرکٹ میں وسیم اکرم نے 502 وکٹیں لے رکھی ہیں جن میں سے 176 کلین بولڈ، 92 ایل بی ڈبلیو 138 فیلڈرز اور 93 وکٹ کیپر کی مدد سے ملنے والی وکٹیں شامل ہیں جبکہ 3 ہٹ وکٹ بھی ہیں۔ اس طرز کی کرکٹ میں وسیم اکرم نے ویسٹ انڈیز کے مشہور بلے باز ڈیسمنڈ ہینز کو 12 مرتبہ آؤٹ کر رکھا ہے، جن میں 4 بولڈ بھی شامل ہیں۔

سوال: لسٹ اے میچز اور فرسٹ کلاس مقابلوں میں کیا فرق ہوتا ہے؟ حسیب رزاق

جواب: آپ نے بہت ہی زبردست سوال کیا ہے، لوگوں میں کرکٹ کی دلچسپی تو بہت ہوتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس طرح کی معلومات رکھتے ہیں یا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

فرسٹ کلاس کرکٹ دراصل ایسے میچز ہوتے ہیں جو کم از کم تین دن پر محیط ہوں اور فی ٹیم زیادہ سے زیادہ 2 اننگز کھیلی جائیں۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ سے تھوڑا کم اسٹینڈرڈ کی کرکٹ ہے۔ فرسٹ کلاس میچز ڈومیسٹک کرکٹ میں زیادہ کھیلے جاتے ہیں۔ فرسٹ کلاس ریکارڈ میں کھلاڑی کے ٹیسٹ ریکارڈز بھی شامل ہوتے ہیں۔ دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال فرسٹ کلاس کرکٹ کا سیزن کھیلا جاتا ہے جو ستمبر -اکتوبر سے شروع ہوتا ہے اور مارچ-اپریل میں جا کر ختم ہوتا ہے۔ اس دوران پورے ملک میں مختلف ریجن کی ٹیمیں کھیلتی ہیں۔ پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں قائد اعظم ٹرافی اور پریزیڈنٹ ٹرافی کافی مشہور ہیں جن میں میچز عموماً چار، چار دنوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔

لسٹ اے کرکٹ میچز دراصل ایک دن میں مکمل ہوتے ہیں اور عموماً چالیس، چالیس اوورز یا اس سے زیادہ کے ہوتے ہیں۔ ان میں ٹیموں نے ایک، ایک باری کھیلنا ہوتی ہے۔ یہ میچز عام طور پر ڈومیسٹک ٹیموں کے درمیان ہوتے ہیں۔ فرسٹ کلاس کی طرح لسٹ اے کرکٹ ایک روزہ سے کم اسٹینڈرڈ کی کرکٹ ہے۔ لسٹ اے کرکٹ میں بھی کھلاڑی کا ایک روزہ ریکارڈ شامل ہوتا ہے۔ عام طور پر لسٹ اے کرکٹ میں وارم اپ میچز، دوستانہ/ نمائشی میچز شامل نہیں ہوتے۔

مثال: پاکستان نے حالیہ دورۂ جنوبی افریقہ پر پہنچتے ہی ایک ٹور میچ کھیلا تھا جو تین دنوں پر مشتمل تھا، وہ فرسٹ کلاس ریکارڈ میں شامل ہے جبکہ پہلے ٹیسٹ کے بعد ایک ٹور میچ کھیلا جو دو دنوں پر محیط تھا یہ فرسٹ کلاس میچ نہیں ہے۔ یعنی پاکستان نے اس دورے میں کل تین ٹیسٹ اور ایک فرسٹ کلاس میچ کھیلا یعنی کل چار میچز بنے اور ان چاروں کا ریکارڈ فرسٹ کلاس میں شامل ہوگا۔

پھر ایک روزہ سیریز شروع ہونے سے پہلے پاکستان نے جنوبی افریقی انوی ٹیشن الیون کے ساتھ 50 اوورز فی اننگز کا ایک ٹور میچ کھیلا جو لسٹ اے تھا۔ پانچ ایک روزہ مقابلے اور ایک لسٹ اے، یعنی کل 6 میچز بنے جن تمام کا ریکارڈ لسٹ اے مقابلوں میں شامل ہوگا۔

افغانستان نے حال ہی میں پاکستان کی مختلف ریجن ٹیموں کے ساتھ 50، 50 اوورز کے پانچ میچز کھیلے جن کا ریکارڈ لسٹ اے میں شامل ہے۔ مزید یہ کہ جن مقابلوں میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) براہ راست ملوث نہیں ہوتی اور ملک کا متعلقہ بورڈ ہوتا ہے وہ فرسٹ کلاس/لسٹ اے میچز ہوں گے، بشرطیکہ وہ اوپر والی تمام شرائط بھی پوری کریں۔

سوال:پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان جاری حالیہ ون ڈے سیریز کے ڈربن میں کھیلے جانے والے چوتھے بین الاقوامی ایک روزہ میچ میں محمد حفیظ کو جس طرح آؤٹ قرار دیا گیا، یہ آؤٹ کے کس قانون سے تعلق رکھتا ہے ؟ محمد بلال

محمد حفیظ نے بظاہر کرکٹ کے قانون 37 کی خلاف ورزی کی اور انوکھے انداز سے آؤٹ قرار پائے (تصویر: AFP)

محمد حفیظ نے بظاہر کرکٹ کے قانون 37 کی خلاف ورزی کی اور انوکھے انداز سے آؤٹ قرار پائے (تصویر: AFP)

 

جواب: کرکٹ کا قانون نمبر 37 یہ کہتا ہے کہ "اگر کوئی بلے باز اپنی بیٹنگ کے دوران فیلڈنگ میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالے یا آواز/الفاظ سے فیلڈر کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرے تو وہ آؤٹ تصور ہوگا۔ اگر بلے باز جان بوجھ کر فیلڈنگ میں فطری طور پر رکاوٹ بن گیا تو اس کا فیصلہ امپائر کریں گے۔" اس لحاظ سے محمد حفیظ کو اس لیے آؤٹ دیا گیا کہ انہوں نے رن لیتے ہوئے اپنا راستہ اس طرح بدلا کہ وہ حریف وکٹ کیپر ابراہم ڈی ولیئرز کی تھرو اور وکٹوں کے درمیان حائل ہو گئے اور یوں اپیل کرنے پر امپائر نے انہیں 'آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ' آؤٹ قرار دیا۔ یہ وکٹ باؤلر کے کھاتے میں نہیں جاتی، اسی دوران اگر فاضل رنز (وائیڈ، نو بال وغیرہ) ٹیم کے اسکور میں شامل ہوں گے۔

سوال: روایتی کرکٹ یعنی ٹیسٹ کرکٹ میں سفید رنگ کا یونیفارم ہی کیوں استعمال ہوتا ہے اسکی کوئی تاریخی حیثیت ہے تو اس پر روشنی ڈالیے گا۔ رائے ازلان

جواب: آپ کے سوال کا جواب اسی سلسلے کی چھٹی قسط میں شامل کیا جا چکا ہے، یہاں ملاحظہ کیجیے۔

سوال: کس پاکستانی اسپنر نے ون ڈے اورٹیسٹ میں سب سے زیاده وکٹیں حاصل کی ہیں، اور ان کی وکٹوں کی تعداد کیا ہے؟ محمد شعیب

جواب: پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے اسپنر دانش کنیریا ہیں جنہوں نے 34.79 کے اوسط سے 261 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ انہوں نے 15 مرتبہ اننگز میں پانچ یا اس سے زائد اور دو مرتبہ میچ میں 10 یا اس سے زیادہ وکٹیں لیں۔ ان 261 میں سے 43 وکٹیں انہوں نے بھارت کے خلاف حاصل کیں لیکن 41.48 کے بھاری اوسط کے بعد۔ دوسرا نمبر مایہ ناز اسپنر عبد القادر کا ہے جنہوں نے 32.80 کی اوسط سے ٹیسٹ میں 236 وکٹیں لیں۔

اگر ایک روزہ مقابلوں کی بات کریں تو شاہد آفریدی 348 وکٹوں کے ساتھ سرفہرست ہیں جو انہوں نے 34.30 کی اوسط سے لی ہیں۔ انہوں نے 346 وکٹیں پاکستان اور دو ایشیا الیون کی طرف سے کھیلتے ہوئے حاصل کیں۔ آفریدی نے میچ میں 8 مرتبہ 5 یا زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ سر انجام دے رکھا ہے۔ آفریدی نے سب سے زیادہ وکٹیں سری لنکا کے خلاف لی ہیں جن کی تعداد 60 بنتی ہیں۔ دوسرے نمبر پر 'دوسرا کے موجد' ثقلین مشتاق ہیں جنہوں نے ایک روزہ کرکٹ میں 21.78 کے شاندار اوسط سے 288 وکٹیں حاصل کیں۔

سوال: سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے کا ریکارڈ کس کھلاڑی کے پاس ہے؟ اور پاکستان کا کون سا کھلاڑی سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوا ہے؟ فرحان یونس

شاہد آفریدی ایک روزہ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ صفر پر آؤٹ ہونے والے کھلاڑی ہیں (تصویر: Getty Images)

شاہد آفریدی ایک روزہ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ صفر پر آؤٹ ہونے والے کھلاڑی ہیں (تصویر: Getty Images)

جواب: گو کہ آپ نے فارمیٹ واضح نہیں کیا کہ آپ کس طرز کی کرکٹ کے حوالے سے پوچھ رہے ہیں، ٹیسٹ یا ایک روزہ یا پھر ٹی ٹوئنٹی۔ اس لیے ہمیں تمام ہی طرز کی کرکٹ پر روشنی ڈالنے کی زحمت اٹھانا پڑ رہی ہے۔ بہرحال، ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے کا ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے کورٹنی واش کے پاس ہے جو 43 مرتبہ بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے یہ ریکارڈ دانش کنیریا کے پاس ہے جو 25 مرتبہ صفر کے ساتھ پویلین لوٹے۔

ایک روزہ کرکٹ میں سنتھ جے سوریا سب سے زیادہ 34 مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ پاکستان کے شاہد آفریدی 29 صفر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، جو پاکستان کی جانب سے کسی بھی کھلاڑی کا سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے کا ریکارڈ ہے۔

ٹی ٹوئنٹی میں انگلستان کے لیوک رائٹ سب سے زیادہ 7 مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوئے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے یہاں بھی ریکارڈ شاہد آفریدی کے پاس ہے جو 6 مرتبہ بغیر کوئی رن بنائے میدان سے واپس آئے۔ یوں شاہد بیک وقت مختصر طرز کی دونوں کرکٹ میں سب سے زیادہ مرتبہ صفر حاصل کرنے کا قومی ریکارڈ رکھتے ہیں۔

اگر تینوں طرز کی کرکٹ کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو سری لنکا کے مرلی دھرن کو 59 صفر کے ساتھ سب پر سبقت حاصل ہے۔ یہاں پاکستان کی طرف سے وسیم اکرم 45 صفر کے ساتھ موجود ہیں۔

ہدایت: اگر آپ بھی اس سلسلے میں اپنا کوئی سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو کوئی دلچسپ سا سوال اس صفحے پر موجود فارم پر کر کے لکھ بھیجیے، ہم آپ کے سوال کے منتظر رہیں گے۔

Facebook Comments