پاکستان کرکٹ: سینئر کھلاڑیوں کو نکالنا مسئلے کا حل؟

ٹیم پاکستان جنوبی افریقہ سے وطن واپس پہنچ کر قومی ٹی ٹوئنٹی سپر 8 ٹورنامنٹ بھی کھیل چکی۔ اب کھلاڑیوں کے لیے تو طویل آرام ہے اور قومی کرکٹ کے کرتا دھرتا افراد کے لیے غور و فکر کا ایک اہم مرحلہ آن پہنچا ہے کہ وہ اگلے امتحانوں کے لیے ٹیم کی تشکیل کس طرح کرتے ہیں۔ اسی وقت ایک بہت بڑا سوال سر اٹھائے کھڑا ہے کہ کیا جنوبی افریقہ میں ناقص کارکردگی کے بعد نزلہ صرف سینئر کھلاڑیوں پر گرے گا؟

کیا جنوبی افریقہ میں صرف سینئر کھلاڑیوں کی کارکردگی ناقص تھی؟  (تصویر: AP)

کیا جنوبی افریقہ میں صرف سینئر کھلاڑیوں کی کارکردگی ناقص تھی؟ (تصویر: AP)

جنوبی افریقہ میں تین ٹیسٹ میچز میں بری طرح ناکامی، اور ون ڈے سیریز میں ملی جلی کارکردگی کے بعد اب ماہرین کرکٹ ٹیم کی مجموعی کارکردگی کے بارے میں اپنی اپنی رائے دے رہے ہیں۔ جس میں حسب معمول شکست کی ذمہ داری سینئر کھلاڑیوں پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دراصل یہ پرانا وطیرہ ہے کہ جب بھی ٹیم خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرے تو کرکٹ ماہرین، جو عموماً سابق کرکٹر ہوتے ہیں، سینئر کھلاڑیوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں، جس کے دباؤ میں آکر پاکستان کرکٹ بورڈ بھی سینئر کھلاڑیوں کو ٹیم سے باہر کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ پھر کچھ عرصے دو تین نوجوان کھلاڑیوں کی ناکام آزمائش ہوتی ہے، اور پھر یہی بورڈ دوبارہ سینئر کھلاڑیوں کی طرف رجوع کرتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ سلسلہ برسوں سے چلا آرہا ہے، اور اس کی مثالیں دینے کی بھی ضرورت نہیں۔

یہاں قارئین یہ نہ سمجھیں کہ جنوبی افریقہ میں سینئر کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی کا دفاع کیا جا رہا ہے، کہنا صرف اتنا ہے کہ پوری ٹیم کے بجائے صرف تجربہ کار کھلاڑیوں سے بازپرس کا جو طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے، وہ غلط ہے۔ جیسے خبریں گردش میں ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ چند سینئر کھلاڑیوں کو فارغ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اسی ٹیم نے اپنے وقت کے عالمی نمبر ایک انگلستان کو وائٹ واش کیا تھا اور ساتھ میں یہ بھی کہ جنوبی افریقہ جانے سے قبل بورڈ یا شائقین کون سی امیدیں لگائے بیٹھے تھے؟ پاکستان 1995ء سے 2013ء یعنی گزشہ 18 سالوں تک 18 مقابلوں میں جنوبی افریقہ کے خلاف صرف 3 ٹیسٹ جیت پایا۔ ان 18 مقابلوں میں پاکستانی بیٹنگ لائن اپ میں پہلے سلیم ملک اور سعید انور اور بعد ازاں انضمام الحق، محمد یوسف اور یونس خان جیسے بلے باز موجود تھے اور بیٹنگ لائن آپ آج سے کئی گنا زیادہ مضبوط ہوتی تھی۔ تو جب ان کو خال خال ہی فتوحات ملی ہیں تو موجودہ ٹیم کس کھیت کی مولی ہے، جس سے جنوبی افریقہ کی پچوں پر ٹیسٹ چیمپئن میزبان کے خلاف برابری کا مقابلہ کرنے کی توقع رکھی جا رہی تھی؟ ایسی کوئی بھی توقع اگر تھی تو وہ حقیقت کے عین برعکس تھی۔

دورۂ جنوبی افریقہ میں ناقص کارکردگی کو بنیاد بنا کر سینئر کھلاڑیوں کو باہر کا راستہ دکھانا نہ مسئلے کا حل تھا، نہ ہے اور نہ مستقبل میں کبھی ہو سکتا ہے۔ پھر مسئلے کا حل کیا ہے؟ وہ ہے بورڈ میں پیشہ ورانہ کلچر کا فروغ اور جواب دہی کا احساس عام کرنا۔ پروفیشنل ازم تو بہرحال پاکستان کرکٹ بورڈ میں کبھی رہا نہیں ہے، معاملات تقریباً ہمیشہ ہی 'ڈنگ ٹپاؤ' انداز میں چلتے رہے۔ دوسری جانب جنوبی افریقہ میں بدترین کارکردگی پر ٹیم مینیجر، کوچ اور کپتان سے رپورٹ طلب کر کے ان میں جواب دہی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کیا جائے۔ اس میں اصل اہمیت کوچ کی رپورٹ کی ہوگی جس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ کون سا کھلاڑی پوری تندہی کے ساتھ مشقوں میں مصروف تھا اور کون سا نہیں۔ اس لیے بجائے سینئر کھلاڑیوں پر قاہرانہ نظر کے کھلاڑیوں کو رویوں کی بنیاد پر ٹیم میں برقرار رکھنے یا نکالنے کا فیصلہ کیا جائے تو اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

Facebook Comments